Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شہرہ آفاق انٹرویو، جس نے بہت کچھ سکھایا: عامر خاکوانی کا کالم

’فرینک سناترا ہیز اے کولڈ‘ امریکی صحافت کی تاریخ کی سب سے مشہور تحریروں میں گنا جاتا ہے: فوٹو پینگوئن بکس
میرا ماننا ہے کہ رزق صرف مال یا آمدنی کی صورت میں نہیں۔ خوراک بھی رزق ہے مگرکسی اچھے آدمی سے ملنا بھی ایک طرح کا رزق ہے۔ اچھی صحبت، اچھی کتاب، اچھی تحریر کا ملنا بھی ایک طرح کا رزق ہی ہے۔
ہم نے تو فٹ پاتھ پر پڑی پرانی کتابوں، رسالوں سے بہت کچھ سیکھا۔ ایسے رسالے جو کب کے بند ہوگئے، جو مجھے شائد زندگی میں کبھی ملتے ہی نہ، ایک حسین اتفاق نے وہ ملا دیے اور انہیں پڑھ کر استفادہ کرنے کا موقعہ مل گیا۔
بعض تحریریں البتہ ہم تک کچھ تاخیر سے پہنچتی ہیں۔ ایسی ایک تحریر چند سال پہلے پڑھنے کو ملی، اس سے خاصا کچھ سیکھا اور تھوڑا بہت عمل بھی کیا لیکن اگرمیری صحافت کے ابتدائی برسوں میں اس سے متعارف ہوتا تو شائد زیادہ فائدہ ہوتا۔
یہ ایک شاہکار تحریر ہے جو نامور امریکی گلوکار فرینک سناترا پر لکھی گئی اور معروف میگزین ایسکوائر میں شائع ہوئی۔ ویسے تو اسے انٹرویو نہیں کہا جا سکتا کیونکہ سناترا نے انٹرویو دینے سے انکار کر دیا، یہ تو اس صحافی کی تخلیقی اپج تھی جس نے ایک نیا راستہ نکالا اور یوں ایک شاندار پروفائل لکھا گیا۔ ایسا پروفائل یا انٹرویو جسے بعد میں امریکی یونیورسٹیوں میں صحافت کے طلبہ کے کورس میں شامل کیا گیا۔
اس انٹرویو کے نہ ہونے ، پھر اس کے باوجود لکھے جانے کا قصہ دلچسپ ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ 1965 کی سردیوں میں ایک امریکی صحافی گے ٹیلیز لاس اینجلس پہنچا۔ ایسکوائر میگزین نے اسے فرینک سناترا پر لکھنے بھیجا تھا۔ سناترا اس وقت امریکہ کا سب سے بڑا گلوکار، فلمی ستارہ اور ایک طرح سے چھوٹی موٹی سلطنت کا بے تاج بادشاہ تھا۔ مسئلہ یہ ہوا کہ سناترا کو زکام ہو گیا، موڈ خراب تھا، اور اس نے انٹرویو دینے سے صاف انکار کر دیا۔
ہمارے ہاں ایسی صورت میں کیا ہوتا؟ رپورٹر دفتر فون کرتا، ایڈیٹر کہتا کہ چلو کوئی اور شخصیت پکڑ لو، یا پھر پرانی فائلوں سے کچھ معلومات جوڑ کر ایک خاکہ نما چیز تیار ہو جاتی۔ ٹیلیز نے یہ نہیں کیا۔ وہ وہیں رک گیا۔ اس نے سناترا کے دوستوں، پریس ایجنٹ، ملازموں، سابقہ بیوی، بیٹے، ماں اور ان درجنوں لوگوں سے بات کی جو اس آدمی کے گرد گھومتے تھے۔ جہاں موقع ملا، سناترا کو دور سے دیکھا، کلب میں، سٹوڈیو میں، لاس ویگاس کے جوئے خانے میں۔ سناترا سے براہ راست سوال کیے بغیر وہ اس کی گفتگو سنتا اور مشاہدہ کرتا رہا۔
نتیجہ اپریل 1966میں ’فرینک سناترا ہیز اے کولڈ ‘کے عنوان سے چھپا۔آج 60 برس بعد بھی امریکی صحافت کی تاریخ کی سب سے مشہور تحریروں میں گنا جاتا ہے۔ اس زمانے میں’نیوجرنلزم‘ کی اصطلاح وضع ہوئی تو سناترا کا یہ پروفائل بار بار مثال کے طور پر پیش ہوتا رہا۔
خاکسار نے پچھلے دنوں یہ پروفائل دوبارہ پڑھا تو ایک عجیب سا خیال ذہن میں اٹکا رہا۔ ہمارے ہاں روز ٹی وی پر کسی نہ کسی بڑی شخصیت کا گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کا انٹرویو چلتا ہے، اخبارات اور میگزین برسوں سے سیاستدانوں، فنکاروں، کھلاڑیوں کے طویل انٹرویو چھاپتے آئے ہیں۔ مگر ذرا سوچیے، ان میں سے کتنے انٹرویو پڑھ یا دیکھ کر آپ کو لگا کہ آپ اس آدمی کو جان گئے ہیں؟
دو گھنٹے کی گفتگو کے بعد بھی لگتا ہے کہ آپ نے اس شخص کے اندر نہیں جھانکا۔ صرف اس کی چکنی چپڑی باتیں، فیک مسکراہٹ اور وائرل ہونے کے لیے دانستہ بولے گئے بعض تیز دھار جملے ہی سنے ۔ ادھر امریکی صحافی ٹیلیز کو باقاعدہ انٹرویو نہ ملا، مگر اس کی تحریر سے پورا آدمی سامنے آ گیا۔
یہ فرق کیوں ہے؟

رنٹ میڈیا کا زوال ایک نقصان ہے، مگر ڈیجیٹل دنیا نے لمبی تحریر اور لمبی ڈاکیومینٹری کے لیے نئے دروازے بھی کھولے ہیں: فائل فوٹو پکسابے

پہلی بات تو یہ کہ انٹرویو بنیادی طور پر وہ آئینہ ہے جو انٹرویو دینے والا اپنے ہاتھ میں پکڑ کر وہی کچھ دکھاتا ہے جو اس کی خواہش ہوتی ہے۔ ہمارے سیاستدان یہ کھیل خوب جانتے ہیں۔ جو سوال ناگوار لگے، اسے ٹال دیا، جو اچھا لگے، اس پر لمبی تقریر کر دی۔ صحافی یا انٹرویو لینے والا بے چارہ دو چار گھسے پٹے سوال ہی کرتا رہ جاتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اتنی جرات ہی نہیں ہوتی کہ کسی سیلبریٹی کو ٹوک سکے۔
اس کے برعکس میں نے جس پروفائل کا ذکر کیا اس میں سناترا صحافی کے سوالوں کے جواب نہیں دے رہا، مگر اس کی گفتگو، اس کا غصہ اور جلال، سخاوت اور تنہائی، سب سامنے آتے ہیں۔ اس کا ڈھلکتا ہوا زمانہ نظر آتا ہے۔
ایک منظر ہے جس میں کلب میں ایک نوجوان ادیب کے مخصوص قسم کے جوتوں پر سناترا اس سے الجھ پڑتا ہے، اور ٹیلیز لکھتا ہے کہ یہ جھگڑا سناترا تین منٹ بعد بھول گیا ہوگا، جبکہ وہ نوجوان اسے ساری زندگی یاد رکھے گا۔ طاقت کی پوری نفسیات ایک جملے میں آ گئی۔ کسی روایتی انٹرویو میں یہ نہیں ملتا۔
دوسری بات یہ کہ ہماری صحافت میں شخصیت پر لکھنا اس تک رسائی پانے سے مشروط ہوگیا ہے۔ کئی اہم لوگوں تک اچھے بھلے لائق صحافی پہنچ ہی نہیں پاتے۔ آج کل اہم ، طاقتور شخصیت ، کوئی سیلبریٹی انٹرویو دے تو یہ اس کا احسان ہی سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی وزیر، کوئی جرنیل، کوئی بڑا فنکار وقت دے دے تو رپورٹر اور ادارہ دونوں ممنون ہو جاتے ہیں، اور ممنون آدمی سچ کم لکھتا ہے۔ اگلی بار بھی تو انٹرویو کرنا ہوگا۔ یوں انٹرویو آہستہ آہستہ پی آر کی ایک قسم بن جاتا ہے۔ شخصیت پر لکھا گیا مضمون قصیدے کی جدید شکل۔
تیسری بات ہماری تہذیب سے جڑی ہے۔ ہمارے ہاں بڑوں کی کمزوریاں لکھنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے۔ کوئی بڑا آدمی غصے میں نوکر پر بوتل دے مارے، ماں کے سامنے بچہ بن جائے، تنہائی میں رات کے کھانے پر کسی کو بلانے کو ترسے، یہ سب لکھ دیا جائے تو پڑھنے والا بھی کہے گا کہ یہ صحافت ہے یا غیبت؟ جس کے بارے میں لکھا گیا، وہ اگلے دن ہتک عزت کا نوٹس بھجوا دے گا، یا اس سے بدتر کچھ ہو جائے گا۔ ٹیلیز نے سناترا کی کمزوریاں لکھیں مگر تحقیر کے لیے نہیں، سمجھنے کے لیے۔ یہ باریک فرق ہمارے ہاں ابھی پوری طرح سمجھا نہیں گیا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اردو کے پاس یہ روایت موجود تھی، بس صحافت تک نہیں پہنچی۔ فرحت اللہ بیگ کے شاندار طویل خاکے ’نذیراحمد کی کہانی، کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی۔‘ میں ڈپٹی صاحب پر جو لکھا، وہ آج بھی پڑھیں تو مولوی صاحب اپنی کنجوسی، اپنی ظرافت، اپنی ضد سمیت جیتے جاگتے سامنے آ جاتے ہیں۔ رشید احمد صدیقی نے گنج ہائے گراں مایہ میں اپنے اساتذہ اور ساتھیوں کو اسی محبت اور باریک بینی سے دیکھا۔ عصمت چغتائی نے اپنے سگے بھائی عظیم بیگ چغتائی پر ’دوزخی‘ لکھا، جس میں ان کی شخصیت اپنی ساری تلخی اور ساری کشش کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ یہ خاکہ پڑھ کر منٹو نے اپنی بہن اقبال سے کہا تھا کہ اگر وہ ان کی موت پر ایسا ہی خاکہ لکھنے کا وعدہ کریں تو وہ ابھی مرنے کو تیار ہیں۔

امریکی صحافی ٹیلیز کو باقاعدہ انٹرویو نہ ملا، مگر اس کی تحریر سے پورا آدمی سامنے آ گیا: فوٹو اے ایف پی

ویسے تو منٹو نے بھی اپنے خاکوں کی کتاب ’گنجے فرشتے‘ میں فلمی دنیا کے بڑے بڑے ناموں کے سروں سے تقدس کا ہالہ اتار کر انہیں انسان بنا کر پیش کیا۔ اس پر منٹو کو کیا کچھ سننا پڑا، وہ الگ داستان ہے، مگر آج وہی خاکے سب سے زیادہ پڑھے جاتے ہیں۔ بعد میں بھی کمال قسم کے خاکے لکھے گئے، مگر یہ روایت زیادہ تر ادیبوں تک محدود رہی۔
ہمارے ادیبوں نے وہ کام صحافیوں سے پہلے کر دکھایا تھا جو ٹیلیز نے نیو جرنلزم کے نام سے کیا۔ فرق یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہ کام ادب کے خانے میں رکھ دیا گیا، اور صحافت نے اسے اپنا نہیں سمجھا۔ اخبار کا رپورٹر خبر لاتا رہا، میگزین والا انٹرویو چھاپتا رہا اور خاکہ ادیبوں کی میراث بنا رہا۔
ویسے اردو صحافت میں تو وسائل کا مسئلہ بھی درپیش رہا۔ اسے نظرانداز کرنا ناانصافی ہوگی۔ ٹیلیز کو ایسکوائر میگزین نے ہفتوں لاس اینجلس میں رکنے، لوگوں کے پیچھے پھرنے، سناترا کے ساتھ لاس ویگاس جانے کی پوری سہولت دی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ایک پروفائل پر میگزین نے تب تقریباً پانچ ہزار ڈالر خرچ کیے، جو آج کے حساب سے لگ بھگ پچاس ہزار ڈالر بنتے ہیں، یعنی ہمارے ایک کروڑ روپے سے کہیں زیادہ۔ یہ پیسہ کسی انٹرویو کے لیے نہیں تھا، کیونکہ انٹرویو تو ملا ہی نہیں۔ یہ اس صبر کی قیمت تھی جو اچھی تحریر مانگتی ہے۔
اب سوچیے کہ ہمارے کس ادارے نے کبھی ایک شخصیت پر ایک مضمون کے لیے اتنا پیسہ تو کیا، تین ہفتے کا وقت بھی دیا ہے؟ یہاں تو صبح اسائنمنٹ ملتی ہے اور شام کو کاپی جمع ہونی ہوتی ہے۔ خاکسار کوئی دو ڈھائی عشرے تین مختلف اور معروف اردو اخبارات کے شعبہ میگزین کا سربراہ رہا۔ میگزین کی ادارت کے برسوں میں خاکسار نے یہ بارہا محسوس کیا کہ اچھا پروفائل وقت مانگتا ہے، اور وقت ہمارے میڈیا میں سب سے مہنگی چیز ہے۔ اب جب پرنٹ سکڑ رہا ہے اور ٹی وی ٹاک شو کی کمائی پر چلتا ہے، تو یہ گنجائش اور بھی کم ہو گئی ہے۔
آخری بات یہ کہ ہمارے ہاں صحافت کا مرکز سیاست ہے۔ ہم ہر شخصیت کو اس کے سیاسی موقف سے پہچانتے ہیں۔ کسی سیاستدان پر لکھا جائے تو سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ فلاں کے ساتھ ہے یا خلاف؟ اس کی والدہ کیسی تھیں، بچپن میں کس محلے میں کھیلتا تھا، غصہ کس بات پر آتا ہے، تنہائی میں کیا کرتا ہے؟
 یہ سوال ہمیں غیر ضروری لگتے ہیں۔ حالانکہ آدمی کی سیاست بھی آخرکار انہی چیزوں سے بنتی ہے۔ ٹیلیز نے سناترا کی ماں ڈولی پر جو صفحات لکھے، کہ وہ کس طرح ہوبوکن کے اطالوی محلے کی سیاست کرتی تھی، شوہر کو فائر بریگیڈ میں نوکری دلوانے کے لیے آسامی پیدا کروا لیتی تھی، انہیں پڑھ کر سمجھ آتا ہے کہ سناترا کے اندر کا وہ سردار نما ، وہ جلال والا شخص کہاں سے آیا؟

روز ٹی وی پر کسی نہ کسی بڑی شخصیت کا گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کا انٹرویو چلتا ہے مگر کتنے انٹرویو پڑھ یا دیکھ کر آپ کو لگا کہ آپ اس آدمی کو جان گئے ہیں؟: فائل فوٹو پکسل

ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ چلیں بھٹو صاحب، ضیا الحق، بے نظیر بھٹو ، پرویز مشرف وغیرہ تو دنیا سے بھی چلے گئے، اگر کوئی پاکستانی صحافی ان پر یا آج کے زمانے میں نواز شریف، عمران خان، آصف زرداری، مریم نواز شریف وغیرہ پر اس طرح لکھتا کہ انٹرویو نہ لیتا، بلکہ ان کے اردگرد کے لوگوں سے بات کرتا اور انہیں خاموشی سے دیکھتا، تو وہ تحریر کتنی سچی ہوتی اور شاید کتنی خطرناک بھی۔ یہی خطرہ دراصل وجہ ہے کہ ایسی تحریر ہمارے ہاں کم لکھی گئی۔
ایک کمزوری بھی تسلیم کر لیتےہیں کہ بڑے پروفائل یا انٹرویو کے لیے صحافی کو جس صبر، تحمل اور محنت کی ضرورت ہے، وہ بھی ہر ایک میں نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں ایسے انٹرویو نگار کم ہیں۔ امریکی صحافی ٹیلیز کا طریقہ ہر صحافی کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے بلا کا صبر، برداشت اور چھوٹی چھوٹی جزئیات پر نظر رکھنے کی استعداد چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ ہمت چاہیے کہ آدمی اپنا فیصلہ سنائے بغیر منظر دکھا دے۔
ہمارے ہاں کالم نگار سمیت ہر لکھنے والے کو جلدی ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کو بتا دیں کہ اسے کیا سوچنا چاہیے؟ ٹیلیز ایسا نہیں کرتا۔ وہ پروفائل کے آخر میں بس اتنا لکھتا ہے کہ سناترا سرخ بتی پر رکا ہے۔ فٹ پاتھ پر ایک لڑکی اسے گھور رہی ہے اور سوچ رہی ہے کہ کیا یہ واقعی وہی ہے۔ بتی سبز ہونے سے پہلے سناترا اس کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے، وہ مسکراتی ہے، اور وہ چلا جاتا ہے۔ تحریر ختم۔ کوئی نتیجہ نہیں، کوئی سبق نہیں، اور پھر بھی پڑھنے والا جانتا ہے کہ اسے پوری کہانی سمجھ آ گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہماری صحافت کبھی اس مقام تک پہنچ سکے گی؟ خاکسار کے خیال میں شاید اب موقع پہلے سے زیادہ ہے۔ پرنٹ میڈیا کا زوال ایک نقصان ہے، مگر ڈیجیٹل دنیا نے لمبی تحریر اور لمبی ڈاکیومینٹری کے لیے نئے دروازے بھی کھولے ہیں۔ یوٹیوب پر لوگ گھنٹے گھنٹے کی دستاویزی فلمیں دیکھ رہے ہیں، ویب سائٹس پر طویل مضامین پڑھے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان صحافی یہ طے کر لے کہ وہ قصیدہ نہیں لکھے گا، انٹرویو کا محتاج نہیں رہے گا، اور کسی آدمی کو اس کے پورے ماحول سمیت دیکھے گا، تو شاید ہمیں بھی اپنا "فرینک سناترا ہیز اے کولڈ "مل جائے۔
ہو سکتا ہے اسے بھی آغاز میں انکار ہی ملے۔ مگر ٹیلیز ہمیں یہی سکھا گیا ہے کہ کبھی کبھی انکار ہی سب سے اچھی شروعات ہوتا ہے۔

شیئر: