Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی فری لانسرز کا خواب کس نے بیچا تھا، توڑا کس نے؟

پاکستان کے لاکھوں نوجوان فری لانسنگ سے کما رہے تھے (فائل فوٹو)
آپ کے علاقے، محلے، ہمسائے یا کسی قریبی عزیز کے ہاں ایک ایسا نوجوان ضرور ہوگا۔ رات کے دو بجے جس کے کمرے کی بتی جل رہی ہے، لیپ ٹاپ کھلا ہے، وہ تھکی ہوئی نظروں سے سکرین کو تک رہا ہے۔
دراصل وہ مغربی دنیا کے کسی کلائنٹ کے میسج کا انتظار کر رہا ہے۔ گھر والوں کو ٹھیک سے معلوم نہیں کہ لڑکا کرتا کیا ہے، بس اتنا پتہ ہے کہ باہر سے ڈالر آتے ہیں۔ محلے میں اس کا تعارف بھی یہی ہے، بھئی وہ فری لانسنگ کرتا ہے۔ ماں باپ دونوں ہر ایک کو فخر سے بتاتے ہیں۔
اب اسی گھر کا اگلا منظر دیکھیے۔ کوئی سات آٹھ مہینے سے آرڈر کم ہو رہے ہیں۔ جو کلائنٹ ہر مہینے دس مضمون لکھواتا تھا، وہ اب دو لکھواتا ہے اور ریٹ بھی کم کر دیا ہے۔ جو ڈیٹا انٹری کا کام ہفتوں چلتا تھا، وہ کسی اور کو مل گیا یا شاید کسی کو بھی نہیں ملا۔
لڑکا سمجھ رہا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی بیڈ لک ہو گئی ہے، یا اس نے پروفائل ٹھیک نہیں بنایا، یا شاید کمپیٹیشن بڑھ گیا ہے۔ اسے یہ بات ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں آئی کہ اس کے حصے کا کام دوسرے انسان نے نہیں چھینا۔
اصل میں ہوا کیا ہے؟
ہم نے برسوں یہ کہانی سنی کہ پاکستان دنیا کے سرفہرست فری لانسنگ ملکوں میں شامل ہے۔ یہ کہانی جھوٹی نہیں تھی۔ لاکھوں نوجوان اس سے روزگار کما رہے تھے اور کروڑوں، اربوں ڈالر کی برآمدات ہو رہی تھیں۔ بغیر کسی فیکٹری یا بڑی سرکاری سرپرستی کے، محض انفرادی کوشش سے۔ یہ ہمارے نوجوانوں کا کارنامہ تھا، اس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔
مسئلہ یہ ہوا کہ یہ پوری عمارت جس بنیاد پر کھڑی تھی، وہ بنیاد سستے، سادہ اور دہرائے جانے والے کاموں کی تھی۔ سادہ مضمون نویسی، ترجمہ، ڈیٹا انٹری، معمولی گرافک ڈیزائن، ابتدائی درجے کی کوڈنگ۔ یہ وہ کام تھے جن میں گہرے تجربے کی ضرورت نہیں تھی، بس محنت، مستقل مزاجی اور کچھ مہارت چاہیے تھی۔ بدقسمتی سے یہی وہ کام ہیں جو اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت نے سب سے پہلے ہڑپ کیے۔
ہارورڈ بزنس سکول، امپیریل کالج لندن اور جرمنی کے ایک تحقیقی ادارے کے محققین نے مل کر ایک بڑی تحقیق کی جس میں 61 ملکوں کے تقریباً 20 لاکھ نوکریوں کے ایڈز کا جائزہ لیا گیا۔ ان کی ریسرچ اور کیلکولیشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ اے آئی کی سب سے زیادہ زد لکھنے والوں پر پڑی، ان کے جاب ایڈ تقریباً ایک تہائی کم ہو گئے۔ سافٹ ویئر اور ویب ڈویلپرز کا نقصان بھی کچھ کم نہیں رہا۔

دنیا میں کئی شعبے ایسے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت تیزی سے اہنی جگہ بنا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ایک اور مطالعے میں یہ حیران کن بات سامنے آئی کہ کمپنی کے تعارف والا صفحہ، جسے انگریزی میں ’اباوٹ اَس‘ کہتے ہیں، اس کے لکھنے کا کام آدھا رہ گیا۔ اس لیے کہ اب یہ صفحہ کوئی بھی چند سیکنڈ میں اے آئی ٹول سے بنوا سکتا ہے۔
اسی طرح ترجمے کا کام، جو ہمارے ہاں بہت سے نوجوانوں کے لیے پہلا دروازہ تھا، اس میں بھی نمایاں کمی آئی۔ تصویروں اور ڈیزائن والی اے آئی ٹولز آنے کے بعد گرافک ڈیزائنرز اور تھری ڈی ماڈلرز کے کام کے اشتہار کم ہوئے۔ ابتدائی درجے کے کوڈر کی مانگ گھٹی۔ سب سے تشویشناک بات یہ کہ نئے آنے والوں کے لیے دستیاب کام کا تناسب لگ بھگ آدھا رہ گیا۔
یہ آخری بات سب سے اہم ہے، اس لیے اسے ذرا ٹھہر کر پڑھیے۔ کام مکمل ختم نہیں ہوا۔ ختم وہ ابتدائی ڈنڈا ہوا ہے جس پر پاؤں رکھ کر آدمی سیڑھی چڑھنا شروع کرتا تھا۔
جو کام سب سے پہلے نشانہ بنے

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اے آئی کی وجہ سے مستقبل میں کروڑوں افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اب ذرا فہرست دیکھ لیں کہ کن کاموں پر خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ عام مضمون نویسی، بلاگ، مصنوعات کی تفصیل، سوشل میڈیا کی سادہ عبارت، ای میل نیوز لیٹر۔ روزمرہ کا ترجمہ۔ ڈیٹا انٹری۔ لوگو، بینر اور سادہ سوشل میڈیا ڈیزائن۔ ٹیمپلیٹ پر بنی ویب سائٹس اور معمولی کوڈنگ، کسٹمرز کے جوابات لکھنے والا کام۔
ان سب میں ایک بات مشترک ہے۔ ان میں فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ بات کس کو، کیوں اور کس مقصد سے کہی جا رہی ہے۔ ان میں ہدایت ملتی ہے اور اس پر عمل ہوتا ہے۔ مشین اس میں انسان سے تیز ہے۔ اس سے آپ آدھی رات کو کام کروا سکتے ہیں، وہ چھٹی نہیں مانگتی اور ریٹ پر بحث بھی نہیں۔
ایک اور ریسرچ رپورٹ کے مطابق تین سال پہلے جو کمپنیاں فری لانسنگ کے پلیٹ فارمز پر پیسے خرچ کر رہی تھیں، ان میں سے آدھی سے زیادہ نے یہ خرچ بالکل بند کر دیا۔ اسی عرصے میں وہی کمپنیاں اے آئی ٹولز پر خرچ بڑھاتی چلی گئیں۔ یہ تبدیلی ہمارے نوجوان کو نظر نہیں آ رہی۔
ہمارا مسئلہ زیادہ بڑا ہے
اے آئی سے دنیا بھر کے نوجوان متاثر ہو رہے ہیں، فری لانسرز دباؤ میں ہیں۔ پاکستانی فری لانسرز کے لیے مگر خطرہ زیادہ ہے کیونکہ ان کی اکثریت انہی شعبوں میں کام کر رہی ہے جو سب سے پہلے سکڑ رہے ہیں۔
افسوس کہ ہم نے کبھی ہائی کوالٹی ورک کی طرف جانے کی تیاری کی ہی نہیں۔ ہمارا سارا ماڈل یہ تھا کہ کم ریٹ پر کام لے لو۔ انڈین ، فلپائنی، بنگلہ دیشی سے بھی سستے۔ ریٹ گرا کر کام لینا ہمارے ہاں مہارت سمجھی جاتی تھی۔ اب مقابلہ کسی بنگلہ دیشی سے نہیں، اس مشین سے ہے جو ایک ڈالر گھنٹے سے بھی کم میں چل رہی ہے۔ سستا ہونے کے مقابلے میں آپ اس سے نہیں جیت سکتے۔ یہ ریس ہی ختم ہوئی، ہم، آپ اس میں اگلے راؤنڈ تک جا ہی نہیں سکتے۔
اس موضوع پر مختلف چیزیں پڑھتے ہوئے مجھے ایک اور بات سمجھ آئی کہ ہمارے ہاں فری لانسنگ کو ایک شارٹ کٹ کے طور پر بیچا گیا۔ اسے کبھی پروفیشن بنا کر پیش نہیں کیا گیا۔ پروفیشن میں آدمی برسوں لگاتا ہے، سیکھتا ہے، آہستہ آہستہ اوپر جاتا ہے۔ شارٹ کٹ میں آدمی صرف وہ سیکھتا ہے جس سے فوری پیسے ملیں۔ نقصان یہ کہ جب فوری پیسے دینے والا کام ختم ہو جائے تو اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچتا۔
خواب بیچنے والے بے رحم تاجر


حالیہ تحقیق کے مطابق 61 ملکوں کے تقریباً 20 لاکھ نوکریاں براہ راست اے آئی سے متاثر ہوئیں (فائل فوٹو ای بک)

ساری کہانی کے متوازی ایک اور کاروبار چل رہا ہے اور اس پر مجھے زیادہ غصہ اور بیزاری ہے۔ آپ نے بھی سوشل میڈیا پر کئی اشتہار دیکھے ہوں گے جن میں ایک نوجوان چمکتی گاڑی کے ساتھ کھڑا ہے، ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہے، اور نیچے لکھا ہے، تین مہینے میں لاکھوں کمائیں۔ وہ کورس دیکھے ہوں گے جو ہر جگہ ہو رہے ہیں، اور سیمینار بھی، جہاں کوئی سوٹڈ بوٹڈ صاحب مائیک ہاتھ میں لیے بتاتے ہیں کہ ڈگری بیکار ہے، اصل چیز سِکل ہے۔
بات درست ہے مگر ان ٹرینرز، ایکسپرٹس میں سے بیشتر جو سِکل سکھا اور بیچ رہے ہیں ، وہ مارکیٹ سے ختم ہو رہے ہیں۔ ایسے تمام کورسز میں فیس پیشگی لی جاتی ہے، امید البتہ دل کھول کر بانٹی جاتی ہے۔ جب لڑکا چھ مہینے بعد خالی ہاتھ استاد کے پاس واپس جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ تم نے محنت نہیں کی ہوگی۔ یہ ٹھگی نہیں تو اور کیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس ٹھگی پر مقدمہ نہیں بنتا۔
ہمارے والدین بھی اس میں شریک ہیں۔ ہم نے پہلے بچوں کو صرف ڈاکٹر انجینیئر بنانے پر لگایا، پھر ایم بی اے اور اس کے بعد برسوں سے آئی ٹی کے دو سنہری لفظ چلتے رہے، اسی میں سے فری لانسنگ ٹاپ پر آ گیا۔ ہر بار ایک ہی راستہ، ہر بار پورا ریوڑ اسی طرف۔
کیا سب ختم ہوچکا؟
اس کا جواب ہے: نہیں۔ اس لیے کہ اسی عرصے میں کچھ کام بڑھے بھی ہیں۔ ویڈیو ایڈیٹنگ اور پروڈکشن کا کام مضبوط ہوا ہے کیونکہ اس میں کہانی سنانے کا فن اور اموشنل انڈرسٹینڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ چیزیں مشین کے ہاتھ ابھی نہیں آئیں۔
اسی طرح جو لوگ خود اے آئی کو چلانا اور اس سے کام لینا جانتے ہیں، ان کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ کسی خاص شعبے کی گہری واقفیت رکھنے والا لکھاری، یعنی وہ جو میڈیکل، لا، اکانومی یا ٹیکنالوجی کے کسی گوشے کو سمجھتا ہو، اب بھی مہنگا بکتا ہے۔ ڈیزائن میں بھی وہ لوگ محفوظ ہیں جو صرف خوبصورت تصویر نہیں بناتے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ استعمال کرنے والا انسان کیا سوچے گا اور کہاں انگلی رکھے گا؟
سب سے بڑھ کر وہ کام محفوظ ہے جس کی بنیاد اعتبار اور بھروسے پر ہو۔ مشورہ دینے والا، رہنمائی کرنے والا، وہ شخص جس سے کلائنٹ سال ہا سال سے کام کروا رہا ہے۔ اس لیے کہ کوئی مشین کو اپنا مشیر نہیں بناتا۔ آدمی اس شخص کو مشیر بناتا ہے جس کی رائے پر اسے اعتماد ہو۔
اصل تقسیم یہی ہے۔ جو لوگ پروسیجر پر عمل کر کے کما رہے تھے وہ مشکل میں ہیں۔ جو آئیڈیاز اور پلاننگ بیچ رہے تھے، ان کا ریٹ بڑھ گیا۔
اب کیا کرنا چاہیے؟

کمپنی کا تعارف اب کوئی بھی چند سیکنڈ میں اے آئی ٹول سے بنوا سکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

میں کوئی ماہر معاشیات نہیں، عام صحافی ہوں۔ لفظ کے ساتھ گزرتے تین عشروں سے یہ ضرور سیکھا ہے کہ جب پروفیشن ختم یا تبدیل ہو رہے ہوں، اس میں سروائیو وہی کرتا ہے جو خود کو تبدیل کر لے۔
چند سادہ سی عملی باتیں عرض کرتا ہوں۔
پہلی: ریٹ کم کر کے سروائیو کرنے کا خیال دل سے نکال دیجیے۔ اس میدان میں آپ ہار چکے ہیں۔ اب مقابلہ اس بات پر ہے کہ آپ کے پاس ایسا کیا ہے جو مشین (اے آئی ) کے پاس نہیں۔
دوسری: اے آئی سے لڑنے کے بجائے اسے اپنا ٹول، ہتھیار، اپنا اوزار بنا لیں۔ جو لوگ پہلے دن سے اسے استعمال کرنے لگے، ان کی آمدنی بڑھی ہے۔ جو ناراض ہو کر منہ موڑ کر بیٹھے رہے، وہ پیچھے رہ گئے۔
تیسری، کسی ایک شعبے پر اپنا فوکس کیجیے۔ عام آدمی یا ایوریج بندے کا زمانہ گزر گیا۔ اگر آپ لکھتے ہیں تو کسی ایک موضوع کے ماہر بنیے۔ اگر ڈیزائن کرتے ہیں تو کسی ایک صنعت کو سمجھیے۔ گہرائی میں جا کر کام کرنا سیکھنا ہوگا۔
چوتھی، پلیٹ فارم کے سہارے سے نکلیے۔ جو آدمی صرف کسی ویب سائٹ پر بولی لگا کر کام لیتا ہے، وہ ہمیشہ کمزور رہے گا۔ ڈائریکٹ ریلیشن بنائیں۔ کلائنٹ سے بات کیجیے، اس کا کاروبار سمجھیے، اسے مشورہ دیجیے۔
پانچویں: یہ بات میں والدین سے کہہ رہا ہوں۔ بچے سے یہ نہ پوچھیے کہ اس مہینے کتنے ڈالر آئے؟ یہ پوچھیے کہ اس مہینے نیا کیا سیکھا؟ جس گھر میں صرف انکم کا سوال پوچھا جاتا ہے، وہاں شارٹ کٹ ڈھونڈنے والی اولاد ہی تیار ہوتی ہے۔ جس گھر میں دوسرا سوال پوچھا جاتا ہے، وہاں بچے اچھے پروفیشنل بنتے ہیں۔
ہوشیار بنیں، ہوشیار بنائیں

تین سال پہلے فری لانسنگ پر خرچ کرنے والی آدھی سے زیادہ کمپنیوں نے اے آئی کے باعث خرچ بند کر دیا (فوٹو: اے ایف پی)

مجھے اس سارے قصے میں سب سے زیادہ فکر ان لاکھوں لڑکوں لڑکیوں کی ہے جو اس وقت کسی کورس کی فیس جمع کروا رہے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے سامنے وہی راستہ کھلا ہے جو پانچ سال پہلے کھلا تھا۔ وہ راستہ اب اتنا اوپن اور وسیع نہیں رہا۔ یہ بات مگر انہیں کوئی نہیں بتا رہا، کیونکہ خواب بیچنے والوں کا کاروبار سچ بولنے سے ختم ہو جاتا ہے۔
بس مجھے صرف ایک بات امید افزا لگ رہی ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے یہ سارا شعبہ بغیر کسی سہارے کے کھڑا کیا تھا۔ انہوں نے خود سیکھا، خود مارکیٹ ڈھونڈی، خود کلائنٹ بنائے۔ جس قوم کے بچوں میں یہ صلاحیت ہو، وہ نئے حالات میں بھی راستہ نکال لے گی، شرط یہ ہے کہ اسے وقت پر سچ بتا دیا جائے۔
خاکسار نے اپنا یہ کالم اسی نیت سے لکھا ہے۔ کسی کو مایوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے کہ آنے والے دو تین سال فیصلہ کن ہیں۔ جو ابھی سے اپنے آپ کو بدلنا شروع کر دے گا، وہ دس سال بعد بھی کما رہا ہوگا۔ جو یہ سمجھتا رہے گا کہ مارکیٹ عارضی طور پر ڈاؤن ہوئی ہے، وہ بھولا بادشاہ خالی سکرین کے سامنے انتظار کرتا رہ جائے گا۔ اللہ کرے کہ ہمارے بچے وقت پر جاگ جائیں اور یہ خدشہ غلط ثابت ہو جائے۔ آمین
 

شیئر: