تین ماہ قبل، جولائی کی ایک شام امریکہ کے ایک ہوائی اڈے پر چھ فٹ پانچ انچ کا ایک لحیم شحیم سنہرے بالوں والا نوجوان جہاز کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ اس کی بغل میں ایک بھوسہ بھرا ریکون دبا تھا۔
ریکون امریکی جنگلوں کا بلی جتنا جانور ہے جس کی آنکھوں کے گرد کالا نقاب سا بنا ہوتا ہے۔ نوجوان نے اس حنوط شدہ ریکون کو بزنس کلاس کی سیٹ پر یوں بٹھایا جیسے کوئی معزز مسافر ہو۔
ساتھی ایزابیل یوہانسن نے حیرت سے پوچھا، کیا اب یہ بھی ہمارے ساتھ جائے گا؟ ترنت جواب ملا،’ ضرور جائے گا، اور ساتھ دو بھوسہ بھری گلہریاں بھی۔‘ یہ ایرلنگ ہالینڈ تھے۔ مانچسٹر سٹی کی گول مشین، ناروے کی تاریخ کا سب سے بڑا گول سکورر اور دنیا کا خطرناک سٹرائیکر، جو حالیہ فٹ بال ورلڈ کپ کھیل کر ناروے واپس لوٹ رہا تھا۔
مزید پڑھیں
-
ایک لبنانی کوچ نے ایرلنگ ہالینڈ کو کس طرح عالمی فٹبال سٹار بنایاNode ID: 906463
ممتاز امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے میگزین نے اس جادوگر فٹ بالر پر طویل فیچر شائع کیا ہے۔ یہ پڑھتے ہوئے ریکون والے منظر پر اٹک گیا۔ پھر کچھ اور کھوج لگائی تو پتا چلا کہ جس فٹ بالر کو دنیا ایک کم گو ’گول مشین‘ سمجھتی ہے، اس کے اندر پورا ایک جہان آباد ہے۔
انوکھے شوق
ایرلنگ ہالینڈ جہاں جاتا ہے، اپنی پسند کی مختلف چیزیں جمع کرتا ہے، اس کے گھر میں کئی مہنگے بیک ان سے بھر چکے ہیں۔ مائن کرافٹ ویڈیو گیم کا ایسا دیوانہ ہے کہ اس کے لیمپ، ٹی شرٹیں، چپلیں، حتیٰ کہ فریج تک خرید رکھا ہے۔
مشہور برانڈ لوئی ویٹون نے سمندری جانوروں کی شکل کے لاکٹ نکالے تو پوری سیریز خرید لایا۔ وائکنگ داستانوں کا 16ویں صدی کا ایک قلمی نسخہ ایک لاکھ 34 ہزار ڈالر میں خریدا اور اپنے آبائی قصبے کو ڈونیٹ کر دیا۔ ہالینڈ کا کہنا ہے، جو چیز جمع کرتا ہوں اس میں ایک یاد ہوتی ہے، مجھے اس سے خوشی ملتی ہے۔

ہم میں سے بھی کتنے ہیں جو پرانے ٹکٹ، شادی کارڈ، کسی میلے سے خریدا مٹی کا گھوڑا سنبھالے ہوئے ہیں اور گھر والے ہر صفائی پر انہیں کباڑ قرار دیتے ہیں۔ خود میرے ساتھ یہ ہو چکا ہے، کالج یا یونیورسٹی کے زمانے میں میرے جمع کردہ نایاب ’سب رنگ‘ ڈائجسٹ امی جی نے ردی والے کو پکڑا دیے تھے کہ چلو کچھ کچرا تو نکلا۔ آج تک دکھ ختم نہیں ہوا کہ ان میں سلسلہ وار ناول امربیل کی کئی شاندار اقساط تھیں۔
آغاز میں ناکامیاں ملیں
ایرلنگ ہالینڈ انگلینڈ کے شہر لیڈز میں پیدا ہوا جہاں والد الف انگے ہالینڈ فٹ بال کھیلتے تھے۔ والدہ ایتھلیٹ تھیں۔ بعد میں ان کی فیملی ناروے کے چھوٹے سے زرعی قصبے برینے لوٹ آئی اور ایرلنگ وہیں کھیتوں کھلیانوں میں پلا بڑھا۔
اس کے بچپن کے کوچ برنٹسن بتاتے ہیں کہ ایرلنگ ہالینڈ اپنے سے بڑے لڑکوں کے ساتھ کھیلتا اور ان کے مقابلے میں دبلا اور کمزور تھا۔ اس کی خوبی جسم نہیں، دماغ تھا۔ کھیل سمجھتا، صحیح وقت پر صحیح جگہ پہنچتا اور ٹف مقابلے سے گھبراتا نہیں تھا۔
15 برس کی عمر میں برینے کی سینیئر ٹیم میں موقع ملا۔ 16 میچ کھیلے، ایک بھی گول نہیں کیا۔ خوش قسمتی سے کوچ سمجھدار تھا، اس نے لڑکے کو سپورٹ کیا۔ یہی لڑکا ہمارے ہاں ہوتا تو؟ بے چارے کا کیرئر ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا۔
نو گول کر کے بھی ناخوش

ناروے کی انڈر ٹوئنٹی ٹیم کے سابق کوچ پال آرنے یوہانسن بتاتے ہیں کہ یوتھ ورلڈ کپ میں ناروے نے ہندوراس کو 12 صفر سے ہرایا اور نو گول اکیلے ہالینڈ نے کیے۔ میچ کے بعد ڈریسنگ روم میں کڑھ رہا تھا کہ دس کیوں نہ ہوئے۔ میچ کے دوران نواں گول کرتے ہی خوشی منانے کے بجائے فٹ بال اٹھا کر سینٹر کی طرف بھاگا تھا کہ کھیل جلد شروع ہو اور ایک موقع اور مل جائے۔
ایرلنگ ہالینڈ کے والد ایک قصہ سناتے ہیں۔ آسٹریا کے کلب ریڈ بُل سالزبرگ کی طرف سے چیمپیئنز لیگ کے پہلے میچ کے پہلے ہاف میں ہیٹ ٹرک کر ڈالی۔ گھر والے جشن منانے گئے، صاحبزادے رات ایک بجے ٹریننگ سنٹر جا پہنچے کہ اپنی روٹین کی ایکسرسائز پوری کر سکے۔ اسی کمٹمنٹ نے پھر کمال بھی دکھایا۔
جرمنی کے بوروسیا ڈورٹمنڈ میں 89 میچوں میں 86 گول کیے ۔ مانچسٹر سٹی میں پہلے ہی سیزن میں 52 گول کر ڈالے اور کلب نے انگلش پریمئر لیگ، ایف اے کپ اور چیمپیئنز لیگ تینوں جیت لیں۔
جُوڑا، باپ کی شرط اور ہیٹ ٹرک
باپ خود پیشہ ور فٹ بالر تھا مگر ایک بات اچھی تھی کہ کبھی بیٹے کے سر پر کھڑا نہیں ہوا۔ پس منظر میں رہا، اسے کھیل سے لطف اٹھانے دیا۔ فٹ بال کے ساتھ ہینڈ بال، ایتھلیٹکس اور سکیئنگ بھی کرنے دی۔
والد کو سر پر جُوڑا باندھ کر کھیلنے والے فٹ بالروں سے سخت چڑ تھی۔ ادھر بیٹے کو لمبے بال پسند تھے، شوق میں بال بڑھا لیے اور جُوڑے تک پہنچا تو سب سے پہلے باپ کو بتایا۔ باپ نے شرط لگا دی کہ ایکسٹرا آرڈنری پرفارم بھی کرنا ہوگا۔ بیٹے نے اگلے میچ میں ہیٹ ٹرک کی اور اگلے ہفتے کے میچ میں دو گول اور جڑ دیے۔ یوں اس کے لمبے بال اور ان کا بنا جوڑا باپ کی قینچی سے بچ گیا۔
ہم دیسی لوگوں کے لیے یہ کہانی سمجھنا زیادہ آسان ہے۔ البتہ ہالینڈ کے معاملے میں اچھا ہوا کہ باپ نے انا کا مسئلہ نہیں بنایا اور یوں ہالینڈ کے لمبے بال کئی سال تک چلے۔
جب انٹرنیٹ پر ہالینڈ ہی چھا گیا

ناروے کی فٹ بال ٹیم زیادہ بڑی نہیں۔ ناروے اس ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل تک پہنچا۔ یہ بھی پہلی بار ہوا۔ زیادہ کریڈٹ ہالینڈ کو جاتا ہے، اس نے پانچ میچوں میں سات گول کیے اور امریکیوں کا دل جیت لیا۔ بقول ہالینڈ نارویجیئن کھلاڑیوں نے مزے بھی خوب کیے۔ میچ کے بعد گھومنے نکل جاتے۔ کاؤ بوائے ہیٹ خریدے، بڑے سائز کے امریکی بیف سٹیک کھائے۔
ناروے کا ٹیکساس میں میچ تھا، ہالینڈ نے 46ویں منٹ میں گول کر کے آئیوری کوسٹ کو ہرایا ،اسی شام موصوف ریکون خریدنے نکل گئے۔
ورلڈ کپ میں ہالینڈ کا منفرد ہیرسٹائل وائرل ہوگیا۔ میمز کا طوفان آیا۔ بہت سوں کو وہ وائکنگ لگا، کسی کو بال فرش صاف کرنے والے پونچھا لگے، کسی کو ہری پیازجیسے۔ سوشل میڈیا پر ہالینڈ کے ہم شکل اپنی تصاویر اور کلپس پوسٹ کرنے لگے۔ ہالینڈ نے بھی خوب لطف اٹھایا۔ کمنٹس کا جواب دیتا رہا، ہم شکلوں کو مبارک باد دی۔
مزیدار بات یہ ہوئی کہ وال سٹریٹ جرنل میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے بالوں پر سوال کیا تو جواب ملا کہ دن میں کئی بار برش کرتا ہوں، بالوں میں تیل لگانا پڑتا ہے دیگر کئیر بھی۔ پھر انٹرویو کے اگلے روز ہی جوڑا کٹوا دیا اور سر کے بال بہت ہی چھوٹے کرا دیے۔ دنیا چار پانچ دن اس کے بالوں پر بحث کرتی رہی۔ ساتھی فٹ بالر حیران ہوئے کہ شاید کوئی شرط ہار گیا ہے، ہالینڈ نے مگر تبدیلی کے لئے ایسا کیا۔
اس تفصیلی فیچر میں اس نے کہا ایک جملہ مزے کا ہے۔ ہالینڈ کہتے ہیں کہ ’آج دنیا میں ہر چیز اتنی سنجیدہ اور اکڑی ہوئی ہے کہ ذرا ڈھیلا پڑنا اور لطف اٹھانا بھی ضروری ہے، مثلاً اپنا ریکون ساتھ لے کر دنیا گھومیے۔‘
برازیل والے خوفزدہ کیوں تھے؟

ورلڈ کپ کا پری کوارٹر فائنل میچ ناروے اور پانچ بار کے عالمی چیمپیئن برازیل کے درمیان تھا۔ ہالینڈ کہتا ہے ترانوں کے وقت برازیلی کھلاڑی اسے خوفزدہ لگے، کیونکہ دباؤ ان پر تھا۔ 20 کروڑ برازیلی عوام کی توقعات کا دباؤ، جو چھوٹے سے ملک ناروے کو ہر حال میں ہرانا چاہتے تھے۔ اس دوپہر ہالینڈ نے پورے میچ میں صرف 30 بار گیند چھوئی اور گیارہ منٹ میں دو گول کر کے میچ دو ایک سے جتوا دیا۔
یہ کیسے ہوتا ہے؟ ہالینڈ کہتا ہے، آپ گیند کو ٹچ نہ کر رہے ہوں تب بھی آپ کو پتہ چلنا چاہیے کہ کب گول کرنے کا چانس ہے؟
ہالینڈ مخالف ڈیفنڈرز کے آس پاس یوں مزے سے ٹہلتا رہتا ہے جیسے وہ گالف کورس میں مٹرگشت کر رہا ہو۔ وہ دیکھتا رہتا ہے کہ گیند کس ساتھی کے پاس ہے، دفاعی کھلاڑی کہاں دیکھ رہا ہے اور کس جگہ خالی ہونے کا امکان ہے؟ ڈیفینڈر کی نظر لمحے بھر کو ہٹی تو جھپٹ پڑتا ہے۔ اس کے کھیل کا خلاصہ ہے: دیر تک مناسب لمحے کی تلاش، پھر اسی لمحے میں پوری رفتار، قوت اور درستگی کے ساتھ فنشنگ۔
ہالینڈ نے انٹرویو میں یہ اعتراف بھی کیا کہ عموماً میچ سے پہلے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ کم عمری میں گول کا چانس مس ہوتا یا ٹیم ہارتی تو رو پڑتا تھا۔ پھر اس ردعمل کو بہتر بنایا۔ اب وہ سمجھتا ہے کہ میچ میں چانسز مس ہوئے ہیں، آئندہ بھی ہوں گے، تنقید بھی ہوگی، اپنی توجہ اگلا گول کرنے کی کوشش پر رکھنی ہے۔
گول کے بعد آلتی پالتی مار کر مراقبے کے انداز میں بیٹھنا بھی اسی ارتقائی فکری سفر کا حصہ ہے۔
کوچ گارڈیولا کا نسخہ

ہالینڈ کی بعض عادات دلچسپ ہیں۔ وہ ہر رات سونے سے پہلے سرخ روشنی والی عینک لگا کر رکھتا ہے، اسے لگتا ہے اس سے نیند میں مدد ملے گی۔ وہ اپنی ایکسرسائز میں جنون کی حد تک ڈسپلنڈ ہے۔ موقع ملے تو لکڑیاں کاٹتا اور برفیلے پانی میں ڈبکی بھی لگاتا ہے۔
خوراک میں بھی یہی شدت ہے۔ گوشت وافر کھاتا ہے اور جانور کا ہر حصہ، کلیجی ہو یا دل، شوق سے کھا جاتا ہے۔ کہتا ہے یہ اعضا وٹامن کا بم ہیں۔ ہالینڈ کو پتا چلے تو یقیناً وہ لکشمی چوک لاہور میں کسی ٹکا ٹک بنانے والے کے پاس یہ سپئیر پارٹس (گردے، کلیجی، دل وغیرہ) کھانے پہنچ جائے۔
ہالینڈ مانچسٹر سٹی کے سابق لیجنڈری منیجر پیپ گارڈیولا کی اس نصیحت کو اپنی زندگی کا بہترین مشورہ کہتا ہے۔ گارڈیولا نے اسے سمجھایا کہ ’جو کرو جذبے سے کرو، کام کرتے وقت پوری توجہ رکھو، مگر کام ختم ہو جائے تو فٹ بال کے بارے میں مت سوچو۔ کچھ بھی سوچو مگر فٹ بال سے ہٹ کر، تاکہ تم اس سے اکتا نہ جاؤ۔‘
بظاہر سادہ بات ہے، ہم میں سے مگر کتنے اس پرعمل کرتے ہیں؟ خاکسار کو صحافت میں 30 برس ہو گئے، یہ خبریں کم بخت ہمیں گھر میں بھی نہیں چھوڑتیں۔ کھانے کی میز پر بھی ٹی وی چل رہا ہوتا ہے اور ہاتھ میں موبائل۔
خبر سے دلچسپی اپنی جگہ، مگر کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے پیشے کو زندگی کے ہر کمرے کی چابی تھما رکھی ہے۔ گھرپہنچ کر بھی ذہنی طور پر دفتر میں موجود ہوتے ہیں۔ گارڈیولا کا مشورہ خوب ہے۔
ہالینڈ اب ایک بچے کے باپ ہیں اور کہتے ہیں کہ گھر کی زندگی اسے فٹ بال سے ذہنی طور پر الگ ہونے میں مدد دیتی ہے۔
گائے اس کا پسندیدہ جانور












