Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی حمایت، مصری اعلان خطے کی سلامتی اور یمن کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ باہمی اقدامات سے حوثی حملوں کا مقابلہ کرنے مدد مل سکتی ہے۔ (فائل فوٹو: اے پی)
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے سنیچر کو دیے گئے اس بیان کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے جس میں انہوں نے عزم ظاہر کیا تھا کہ ان کا ملک سعودی بھائیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا اور یہ سب ’شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کے مطابق‘ ہو گا۔
عرب نیوز کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ اس پیش رفت کے دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اور خطے کی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ مصر کی جانب سے اس ضمن میں عملی اقدامات بھی شروع ہو گئے ہیں۔
اتوار کو صدر السیسی کی سربراہی میں قومی دفاعی کونسل نے سعودی عرب کی سلامتی، استحکام، وسائل، علاقائی سالمیت اور اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کونسل کے مطابق یہ فیصلہ دونوں برادر ممالک کے عوام کے تاریخی تعلقات اور مضبوط رشتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک عرب دنیا کے اہم ستون ہیں اور سعودی عرب کی قومی سلامتی کو مصر اور پوری عرب دنیا کی سلامتی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
مصر اور سعودی عرب کے پاس دفاع کے مختلف شعبوں میں جدید اور مضبوط فوجی صلاحیتیں موجود ہیں۔
اس بارے میں تجزیہ کاروں نے روزنامہ الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون، رابطوں اور یکجہتی سے سیاسی تعلقات بھی مزید مضبوط ہوں گے۔ حالیہ عرصے میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقاتوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں سعودی ولی عہد کا گزشتہ ماہ مصر کا دورہ بھی شامل ہے۔
سیاسی تجزیہ کار منیف الحربی نے کہا کہ مصر اور سعودی عرب کے تعلقات کو صرف موجودہ فوجی صورت حال کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ان کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔ دونوں ممالک عرب دنیا کی سلامتی کے اہم ستون رہے ہیں اور علاقائی بحرانوں کے دوران ایک دوسرے کا ساتھ دیتے آئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد گہری سیاسی تاریخ پر ہے۔ انہوں نے 1950 کی دہائی میں سعودی عرب، مصر اور شام پر مشتمل ’عرب اتحاد‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ بعد میں سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایسی شراکت داری قائم ہوئی جو خطے میں بدلتے حالات اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مصر کے صدر بدالفتاح السیسی نے کہا تھا کہ ان کا ملک سعودی بھائیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

باہمی تعاون کی تاریخ

منیف الحربی نے دونوں ممالک کے تعلقات کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ’ایک ملک کی مضبوطی دوسرے کی طاقت میں اضافے کا باعث ہے۔‘
ان کے بقول لیجی ممالک کی سلامتی کے حوالے سے مصر کا مؤقف علاقائی تعاون کے موجودہ اقدامات سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ ان میں سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل چار ملکی تعاون کا فریم ورک اور سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں قائم کیا گیا کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد بھی شامل ہے۔
انہوں نے یمن کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ آبنائے باب المندب سے بحری آمدورفت بند یا متاثر ہونے کے باعث مصر کو تقریباً 11 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

مشترکہ سلامتی اور ایک دوسرے سے جڑے مفادات

بین الاقوامی امور کے ماہر احمد الابراہیم کا کہنا ہے کہ مصر کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت محض سیاسی یکجہتی نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی سلامتی براہِ راست مصر کی اپنی قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔
ان کے مطابق ’صدر عبدالفتاح السیسی کو مطلوبہ اجازت ملنے سے سعودی عرب کی درخواست پر مصر کی جانب سے بیرونِ ملک ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے قانونی راستہ مکمل ہو جائے گا۔

منیف الحربی کا کہنا تھا کہ ’ایک ملک کی مضبوطی دوسرے کی طاقت میں اضافے کا باعث ہے۔‘ (فوٹو: شٹرسٹاک)

احمد الابراہیم نے کہا کہ بحیرہ احمر دونوں ممالک کے مشترکہ تزویراتی مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے۔ مصر آبنائے باب المندب کی سلامتی اور نہر سویز تک بحری آمدورفت جاری رہنے پر انحصار کرتا ہے جبکہ یہ بحری راستہ سعودی عرب کے لیے بھی براہِ راست اہمیت کا حامل ہے۔

مختلف محاذوں پر فوجی تعاون

فوجی امور کے حوالے سے سعودی عرب کے سابق فوجی افسر اور دفاعی تجزیہ کار عبداللطیف الملحم کا کہنا ہے کہ حالات کی مناسبت سے سعودی عرب اور مصر کے درمیان فوجی تعاون مختلف شکلوں میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
ان کے مطابق ’ان میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، پیشگی اطلاع دینے کا نظام، فضائی دفاع، بحری تعاون اور رسد کی فراہمی شامل ہیں۔ ان اقدامات سے حوثی حملوں کا مقابلہ کرنے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔‘
انہوں نے الشرق الاوسط سے گفتگو میں دونوں ممالک کی فوجی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2026 کی گلوبل فائر پاور درجہ بندی کی مناسبت سے دونوں ممالک کی افواج نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
 ان کے مطابق ’دونوں ممالک کے پاس مجموعی طور پر دو ہزار سے زیادہ طیارے ہیں، جن میں 500 سے زائد لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاض اور قاہرہ کے درمیان تعاون بڑھنے سے دشمن کو حملے سے روکنے کی صلاحیت مضبوط ہو سکتی ہے، ساحلی علاقوں اور بحری راستوں کا تحفظ بہتر بنایا جا سکتا ہے اور بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں سلامتی کو لاحق خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

شیئر: