پاکستان اور مصر کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، مملکت کی سلامتی کے لیے مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ
اتوار 18 اکتوبر 2026 16:30
دونوں وزرائے خارجہ نے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا: فوٹو پاکستان دفتر خارجہ
پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورت حال اور باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
ایران کی حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغیوں نے رواں ماہ سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں سے ایک کا ہدف ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ تھا، جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
اتوار کو سعودی فضائی دفاع نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے دو بیلیسٹک میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیا۔
علاقائی تعاون پر بھی تبادلہ خیال
پاکستان اور مصر سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ علاقائی تعاون کے فورم ’آر فور‘ کا بھی حصہ ہیں۔ یہ گروپ مارچ میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد قائم ہوا تھا، جس کا مقصد تنازع اور خطے کی سلامتی سے متعلق وسیع تر امور پر مشاورت کرنا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے آر فور کے تحت تعاون پر بھی گفتگو کی اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی معاملات پر رابطہ کاری کے لیے گروپ کے اگلے اجلاس کے انعقاد کی امید ظاہر کی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات کے ساتھ دفاعی تعاون بھی حالیہ عرصے میں مزید مضبوط ہوا ہے۔
پاکستان نے ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جبکہ رواں سال اگست میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
سہ فریقی معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام فریقوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔