جاپان مریخ کے چاند پر دنیا کا پہلا تحقیقی مشن روانہ کرے گا
جاپان مریخ کے چاند پر دنیا کا پہلا تحقیقی مشن روانہ کرے گا
منگل 20 اکتوبر 2026 6:22
مشن میں شریک اداروں کو امید ہے کہ اس سے مستقبل میں انسانوں کی مریخ تک رسائی کی راہ ہموار ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)
جاپانی سائنس دان منگل کو ایک خلائی جہاز روانہ کریں گے جس کا مقصد مریخ کے ایک چاند سے نمونے حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا مشن بننا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مشن نظامِ شمسی اور زمین پر زندگی کے آغاز کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جاپان ایرو سپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کے مطابق بغیر پائلٹ مارشین مونز ایکسپلوریشنمشن کو لے جانے والا ایچ تھری راکٹ مقامی وقت کے مطابق صبح پونے پانچ بجے تانگاشیما سپیس سینٹر سے روانہ ہوگا۔
اگر مشن کامیاب رہا تو خلائی جہاز اگلے سال اگست کے آس پاس مریخ کے قریب پہنچ جائے گا، جہاں یہ اس کے چاند فوبوس کے گرد گردش کرے گا۔
بعد ازاں خلائی جہاز فوبوس پر اترے گا اور مریخ کے گرد اپنے مجوزہ تین سالہ مشن کے دوران وہاں کی سطح سے کم از کم 10 گرام مواد جمع کرے گا۔
یہ مشن، جس کا مقصد مریخی خطے تک جا کر دوبارہ واپسی کا پہلا سفر مکمل کرنا ہے، امریکی اور یورپی خلائی اداروں کے علاوہ متعدد جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے انجام دیا جا رہا ہے۔
مشن میں شریک اداروں کو امید ہے کہ اس سے مستقبل میں انسانوں کی مریخ تک رسائی کی راہ ہموار ہوگی۔
جاکسا کا کہنا ہے کہ اس مشن سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ مریخ اور اس کے دو چاند کیسے وجود میں آئے، جو نظامِ شمسی کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سوال ہے۔
مشن مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کرے گا، تاہم اس پر لینڈنگ نہیں کی جائے گی (فوٹو: اے ایف پی)
ایک نظریے کے مطابق مریخ کے چاند ایک بڑے خلائی جسم کے مریخ سے ٹکرانے کے بعد وجود میں آئے تھے۔ دوسری جانب ’کیپچر تھیوری‘ کے تحت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دراصل شہابیے تھے جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی گرفت میں لے لیا۔
جاکسا کے مطابق درست نظریے کا تعین کرنے سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ سورج کے قریب واقع چٹانی سیاروں، یعنی عطارد، زہرہ، زمین اور مریخ پر زندگی کے لیے موزوں ماحول کیسے تشکیل پایا۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ مشن فوبوس کو ایک ’قدرتی خلائی سٹیشن‘ کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے گا۔ اس مقصد کے لیے مریخ تک آنے جانے کے تقاضوں کا مطالعہ کیا جائے گا، جو مستقبل میں انسان بردار مریخی مشنز کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
مشن مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کرے گا، تاہم اس پر لینڈنگ نہیں کی جائے گی۔
امریکی اور چینی خلائی ادارے بھی مریخ کی سطح سے چٹانوں کے نمونے زمین پر واپس لانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
دوسری جانب چین کا تیانوین-3 خلائی جہاز 2028 کے آس پاس لانچ ہونے والا ہے (فوٹو: چائینہ ان سپیس)
ناسا کا پرسیویرنس روور، جو 2021 سے مریخ پر سرگرم ہے، پہلے ہی مختلف نمونے جمع کر چکا ہے، تاہم انہیں زمین پر واپس لانے کا منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جنوری میں کانگریس کے ووٹ کے بعد عملاً منسوخ کر دیا تھا۔
دوسری جانب چین کا تیانوین-3 خلائی جہاز 2028 کے آس پاس لانچ ہونے والا ہے اور اس سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر جاپانی مشن کی واپسی سے بھی پہلے 2031 تک مریخ کے نمونے زمین پر واپس لا سکے گا۔