Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سمندر اور تباہ کن سیلاب‘، نئی تصاویر نے مریخ کے بارے میں نئے راز کھول دیے

مریخ ماضی میں آج کے خشک اور گرد آلود سیارے سے بالکل مختلف تھا (فائل فوٹو: گیٹی)
سائنس دانوں نے مریخ کی سطح کی نئی تصاویر جاری کی ہیں جن سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ساڑھے تین ارب سال قبل سرخ سیارے پر تباہ کن سیلاب آئے تھے، جنہوں نے مریخ کی سطح کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا۔
یورو سپیس ایجنسی کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ ان طاقتور لہروں نے وادیاں تراشیں، گڑھوں کو بھرا اور اتنی زیادہ مٹی اور چٹانیں منتقل کیں کہ چند دنوں یا ہفتوں میں زمین کی بڑی جھیلوں جتنے علاقے دفن ہو گئے۔
یہ نئی تصاویر یورپی خلائی ایجنسی کے مشن مارس ایکسپریس کے ہائی ریزولوشن سٹیریو کیمرے نے لی ہیں۔
تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریخ ماضی میں آج کے خشک اور گرد آلود سیارے سے بالکل مختلف تھا، جہاں پانی ایک طاقتور قدرتی قوت کے طور پر موجود تھا۔
یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق مریخ کی تہہ سے پانی اچانک سطح پر پھٹ پڑا، جس نے تقریباً 10 کلومیٹر چوڑی اور 500 میٹر گہری وادی بنائی، بعدازاں پانی غائب ہو گیا۔ اس واقعے کے آثار آج بھی ’شالباتانا ویلس‘ نامی 1300 کلومیٹر طویل چینل کی صورت میں موجود ہیں، جو مریخ کے خطِ استوا کے قریب ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تصاویر میں مختلف مراحل سے گزرنے والے شہابی گڑھے، مریخی ہواؤں سے اڑنے والی آتش فشانی راکھ، ٹھنڈے ہوتے لاوے سے بننے والی جھری نما چٹانی ساختیں اور افراتفری کی لپیٹ میں آنے والے ایریاز بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ مناظر اس وقت بنے جب سیارے کی تہہ کے نیچے برف پگلی اور سطح دھنس گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ علاقہ مریخ کے جنوبی بلند اور گڑھوں سے بھرپور خطے اور شمالی نسبتاً ہموار میدانوں کے درمیان واقع ہے۔ اس کے قریب ’کرائسے پلانیشیا‘ نامی خطہ موجود ہے، جسے مریخ کے سب سے نچلے مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہاں کبھی ایک وسیع سمندر موجود تھا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق ’شالباتانا ویلس‘ اس علاقے میں موجود کئی بڑی وادیوں میں سے ایک ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مریخ پر کبھی پانی بڑی مقدار میں بہتا تھا۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان تصاویر پر دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ سوچنا ہی حیران کن ہے کہ مریخ پر کبھی سمندر موجود ہو سکتا تھا۔‘
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ان تصاویر کو دیکھنے کے بعد اب وہ فلم ’دی مارشین‘ دوبارہ دیکھنے جا رہا ہے۔ جبکہ ایک اور شخص نے سوال اٹھایا کہ کیا مریخ کی آتش فشانی راکھ کے نمونے حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ موجود ہے کیونکہ اس سے سیارے کی تاریخ کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے۔

شیئر: