Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بہاولپور: ملتان میں یتیم لڑکے گاڑی سے کچلنے کا ملزم مبینہ سی سی ڈی مقابلے میں ہلاک

ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کو گاڑی سے کچلنے کا ملزم مبینہ طور پر سی سی ڈی کے مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔
بدھ کی صبح کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈ) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملزم منگل کی رات کو حراست سے فرار ہو گیا تھا۔
سی سی ڈی بہاولپور کے اہلکاروں نے صبح کے وقت موٹر سائیکل پر سوار افراد کو روکنے کی کوشش کی تو ان میں سے ایک نے فائرنگ شروع کر دی۔
بیان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک موٹر سائیکل سوار ایک مشکوک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فائرنگ کرتا ہوا فرار ہو گیا۔
بعدازاں مارے جانے والے شخص کی شناخت توقیر نذیر کے نام سے ہوئی، یہ وہ شخص تھا جس کی گاڑی کی ٹکر سے پیر کو ملتان میں وسیم عباسی نامی 15 سالہ لڑکا ہلاک ہوا تھا۔
ملتان کی ایک نجی سوسائٹی میں ہونے والے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 15 سالہ وسیم عباس ایک گاڑی کو اپنی جانب آتے دیکھ کر بھاگنے لگتا ہے تاہم گاڑی اس کا تعاقب کرتی ہے اور اسے ٹکر مار دیتی ہے۔
ٹکر لگنے کے بعد وسیم اچھل کر قریبی گھر کے گیٹ سے ٹکراتا ہے اور شدید زخمی ہو کر زمین پر گر جاتا ہے اور شدید چوٹوں کی وجہ سے موقع پر ہی دم توڑ دیتا ہے۔

سی سی ڈی کے مطابق ملزم توقیر نذیر حراست سے فرار ہو گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

کیس کا پس منظر

پیر کو پیش آنے والے واقعے کا مقدمہ منگل کو درج کیا گیا تھا جس میں نامزد دو افراد میں سے توقیر نذیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔
جان سے جانے والے لڑکے وسیم عباس کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ ایک یتیم خانے میں رہتا تھا اور نویں کا طالب علم تھا جبکہ الیکٹریشن کا کام بھی سیکھ رہا تھا۔
مقامی ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ وسیم عباس کا کام میں دل نہیں لگتا تھا اور اکثر بھاگ جایا کرتا تھا، اس بار وہ بھاگا تو ٹھیکیدار نے اس کا پیچھا کیا۔‘
واقعے کے بعد موقع پر ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ لڑکے کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا اور گاڑی بے قابو ہو گئی تھی۔ تاہم ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ لڑکے کو جان سے مارنے کی نیت سے گاڑی چڑھائی گئی۔

’الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا‘

یتیم خانے سے منسلک شعیب جوئیہ نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ وسیم عباس کا تعلق ضلع مظفرگڑھ سے تھا۔ یتیم خانے میں رہنے والے بچوں کو تعلیم کے ساتھ مختلف ہنر سیکھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت لڑکے کو ٹھیکیدار توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا اور اس سے پہلے بھی کئی لڑکے وہاں کام سیکھنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔

رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ رات گئے جنازہ پڑھا کر وسیم عباس کی تدفین کر دی گئی (فوٹو: پولیس)

پولیس کا کہنا ہے کہ وسیم عباس کو واقعے سے قریباً سات روز قبل کام پہ بھیجا گیا تھا اور وہ ٹھیکیدار کے زیرتعمیر گھر میں کام کر رہا تھا۔
تھانہ ڈی ایچ اے ملتان میں پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو ایک شخص نے بتایا کہ وسیم اس کا ماموں زاد بھائی تھا اور اسے کام سیکھنے کے دوران مبینہ تشدد کا سامنا تھا۔
متن کے مطابق ’وسیم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں۔‘

والدہ کی دوسری شادی کے بعد یتیم خانے میں داخل کرایا گیا

وسیم کے کزن ندیم نے میڈیا کو بتایا کہ وسیم کہا کرتا تھا کہ وہ الیکٹریشن کے پاس کام سیکھنے نہیں جانا چاہتا بلکہ واپس گھر جانا چاہتا ہے اور کام پر بھجوائے جانے کے بعد واپس نہیں جاتا تھا۔
اسی طرح یتیم خانے سے منسلک شعیب جوئیہ کا کہنا ہے کہ ’اس کے والد کا انتقال اس وقت ہوا تھا جب وہ بپت کم عمر تھا۔ اس کی والدہ 5 برس تک بیوہ رہی، پھر ان کی شادی وسیم کے چھوٹے چاچا سے کروائی گئی اور نانا نے وسیم کو یتیم خانے میں داخل کروایا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وسیم کی نماز جنازہ رات کو ڈھائی بجے ہوئی اور تدفین کر دی گئی ہے کیونکہ لاش کی حالت بہت خراب تھی اس لیے رات کو ہی جنازہ پڑھا دیا گیا تھا۔

شیئر: