Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لائبہ اعجاز کیس: اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ مالی فراڈ کرنے والا ملزم محمد نعمان ساتھیوں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ کی خودکشی کے کیس میں زیرِ حراست مرکزی ملزم محمد نعمان مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
منگل کو اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ تھانہ رمنا کی حدود میں ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ملزم محمد نعمان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد ازاں اُن کی موت واقع ہو گئی۔
واضح رہے کہ ملزم محمد نعمان اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں خودکشی کرنے والی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے مقدمے کے مرکزی ملزم تھے۔
ملزم پر تعلیمی سکالرشپ کے نام پر لاکھوں روپے کا فراڈ کرنے اور طالبہ کو خودکشی پر مجبور کرنے کے الزامات تھے۔
’پولیس اہلکار بلٹ پروف جیکٹس کی وجہ سے محفوظ رہے‘
اسلام آباد پولیس کے مطابق تھانہ رمنا کی حدود میں زیرِ حراست ملزم محمد نعمان کو پولیس ٹیم اُن کی نشان دہی پر برآمدگی کے لیےلے کر جا رہی تھی کہ راستے میں گھات لگائے دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار ساتھی ملزمان نے اسے چُھڑوانے کی غرض سے پولیس پارٹی پر اندھا دُھند فائرنگ کر دی۔ 
پولیس کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں ملزم محمد نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے جبکہ پولیس ٹیم بُلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی تدابیر کے باعث محفوظ رہی۔ 
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ زخمی ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ بعد ازاں دم توڑ گیا، جبکہ فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
کیس کا پس منظر: جعلی سکالرشپ کا فراڈ
واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین کے قریب اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی نعش برآمد ہوئی تھی۔ 
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ مرکزی ملزم محمد نعمان اور اُن کے گینگ نے لائبہ کو ہارورڈ سمیت امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں میں داخلے اور فل برائٹ سکالرشپ کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے کا فراڈ کیا۔
متاثرہ خاندان کے مطابق ملزم نے لڑکی سے اتنی بڑی رقم ہتھیا لی تھی کہ اس کے والد کو بیٹی کے روشن مستقبل کی خاطر اپنی جمع پونجی اور جائیداد تک فروخت کرنا پڑی۔ 
جب لائبہ کو یہ معلوم ہوا کہ اس کے داخلے کے کاغذات اور سکالرشپ کے خطوط سراسر جعلی تھے اور وہ ایک بڑے فراڈ کا شکار ہو چکی ہے، تو وہ شدید صدمے سے دوچار ہو گئی اور اپنی زندگی کا انتہائی قدم اٹھا لیا۔ 
خودکشی  سے قبل لائبہ کی جانب سے اپنے لواحقین کو بھیجے گئے پیغامات میں اس سنگین فراڈ اور ذہنی دباؤ کا کھل کر ذکر کیا گیا تھا۔
اسلام آباد میں پیش آنے والے اس واقعے کا بعد وزیراعظم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس کی جانب سے مرکزی ملزم محمد نعمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ 
تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا تھا کہ ملزم نعمان اس سے قبل بھی متعدد شہریوں کو بیرون ملک ملازمتوں اور تعلیمی ویزوں کے نام پر کروڑوں روپے کا چُونگا لگا چکا ہے۔

شیئر: