Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ہر طرف تباہی تھی‘، ریاض ایئرپورٹ حملے کے دو زخمی پاکستانی ’بھرپور دیکھ بھال‘ پر سعودی حکومت کے شکرگزار

ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں زخمی ہونے والے پاکستانی شہری عماد خان کا تعلق پشاور سے ہے۔ 
پچھلے سات برس سے مملکت میں رہنے والے عماد خان پاکستان جانے کے لیے ریاض ائیر پورٹ کے ویٹنگ ایریا میں بیٹھے تھے اور اسی وقت ہی حوثیوں کی جانب سے فائر کیا گیا میزائل وہاں گرا۔
واقعے میں ان کا پاؤں بری طرح زخمی ہوا تھا، جس کی تین سرجریز ہوئیں، تاہم اب صحت بہتر ہو رہی ہے۔
اس حملے میں 300 سے زیادہ  افراد زخمی ہوئے تھے اور ان میں سے 17 کا تعلق پاکستان سے تھا۔ زیادہ تر زخمیوں کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
اس وقت دو افراد زیر علاج ہیں تاہم ان کی حالت بھی کافی بہتر بتائی گئی ہے۔
ریاض کے ہسپتال میں زیرعلاج عماد خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میزائل گرنے کے بعد ایئرپورٹ پر ہر طرف افراتفری تھی۔ دھماکہ انتہائی شدید تھا میں نے بے شمار انتہائی زخمی لوگوں کو دیکھا جو مدد کے لیے پکار رہے تھے۔‘

عماد خان کا کہنا تھا کہ بہترین طبی سہولتیں ملنے پر سعودی حکومت کے شکرگزار ہیں (فوٹو: اردو نیوز)

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا، پنڈلی پر گہرا زخم لگا تھا اور خون مسلسل بہہ رہا تھا، بچوں اور گھر والوں کی فکر تھی، اللہ نے نئی زندگی دی، جس پر شکرگزار ہوں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بلاسٹ کے بعد سخت بھگدڑ مچی ہوئی تھی، مجھے ایئرپورٹ سے باہر نکلنے میں دو سے تین منٹ لگے، باہر نکلتے ہی سکیورٹی اہلکاروں نے ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا۔
انہوں نے ہسپتال پہنچائے جانے کے بعد بھی علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے اور حکام کی جانب سے مسلسل خیریت دریافت کرنے پر سعودی حکومت کے کردار کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایئرپورٹ سے 20 منٹ میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں فوری طبی امداد دی گئی،اسی رات پہلی سرجری ہوئی اور دوسری سرجری کے لیے ریاض کے ایک مزید بڑے ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں دو مزید سرجریز ہوئیں، اب تیزی سے ریکوری ہو رہی ہے۔‘

 10 اکتوبر پر ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں 300 افراد زخمی ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

علاج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’بہت تعاون کیا جا رہا ہے، حکام روز خیریت دریافت کر رہے ہیں اور بہترین سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’سعودی عرب ہمارا دوسرا گھر ہے۔‘
علاوہ ازیں ریاض ایئرپورٹ دھماکے میں ایک اور پاکستانی بابر ریاض نے بتایا کہ وہ چھٹیوں سے واپس آئے تھے اور ریاض سے تبوک کے لیے ان کی فلائٹ تھی۔
’جیسے ہی لاؤنج کی طرف آیا زور دھماکہ ہوا، ہر طرف خوف و ہراس تھا، شدید دھماکے کی وجہ سے میں گر پڑا تاہم چند لمحوں بعد اٹھنے میں کامیاب رہا اور اسی کیفیت میں عمارت سے باہر نکل گیا۔‘
ان کے بقول ’ہر طرف تباہی تھی۔ ٹرمینل کی چھت میں ایک بڑا شگاف دکھائی دے رہا تھا۔‘
بابر ریاض کا کہنا تھا کہ باہر نکلتے ہی ایمبولینس کے ذریعے کنگڈم ہسپتال پہنچایا گیا جہاں چارروز تک زیر علاج رہا۔
’داہنے کندھے میں چوٹ لگی تھی اب سو فیصد ٹھیک ہو چکا ہوں۔ سعودی حکومت نے ہر ممکن تعاون کیا اور 24 گھنٹے دیکھ بھال کی گئی۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ہسپتال سے ڈسچارج ہو جانے کے بعد بھی وزارت صحت کی جانب سے ہر روز کالز آتی ہیں اور خیریت دریافت کی جاتی ہے۔‘

شیئر: