Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پینے کا پانی تک نہیں‘، پاکستان ایران تجارت معطل، سرحد پر مال بردار ٹرکوں کی قطاریں لگ گئیں

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہ گزشتہ پانچ روز سے تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے ساتھ تجارت معطل ہونے کے بعد بدھ کو پاکستان کی سرحدی گزرگاہوں پر سینکڑوں مال بردار ٹرکوں کی قطاریں لگ گئیں۔ صوبائی حکام اور کاروباری رہنماؤں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔
پاکستان کے جنوب مغربی سرحدی علاقے میں واقع گبد، ریمدان سرحدی گزرگاہ پر اے ایف پی کے نمائندے نے سینکڑوں مال بردار گاڑیوں کو ایران میں داخلے کے انتظار میں کھڑے دیکھا۔ ڈرائیوروں نے شکایت کی کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران پہنچانے کے لیے سامان لاد کر کئی کئی دن سے سرحد کھلنے کے منتظر ہیں۔
28 سالہ ٹرک ڈرائیور عبدالغنی نے کہا کہ ’سرحد کئی روز سے بند ہونے کے باعث ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس پینے کا پانی نہیں ہے اور نہ ہی کھانے پینے یا دیگر بنیادی ضروریات کے لیے مناسب سہولتیں موجود ہیں۔‘
قطاروں میں پھنسے ایک اور ٹرک ڈرائیور عظیم خان نے حکام سے اپیل کی کہ سرحد جلد از جلد کھولی جائے اور تجارتی سرگرمیاں بحال کی جائیں، ’تاکہ لوگ دوبارہ اپنی روزی کما سکیں اور انہیں مزید مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔‘
32 سالہ عظیم خان نے کہا کہ ’اِس صورتِ حال سے ہر شخص اور خاص طور پر بلوچ تاجر اور مزدور متاثر ہو رہے ہیں۔ لوگوں کا نقصان دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔‘
بلوچستان کے ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں، تاہم پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہ گزشتہ پانچ روز سے تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہے۔
عہدیدار کے مطابق ایران جانے والے تمام سامان کی نقل و حمل روک دی گئی تھی، تاہم بدھ کو بعض ایسی گاڑیوں کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی گئی جو ایران کے راستے وسطی ایشیا کے ممالک یا ترکیہ میں سامان پہنچانے جا رہی تھیں۔
سنیچر کو بلوچستان حکومت کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا شاہد رند نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سرحد کی بندش عارضی ہو گی اور اِس کا مقصد ’سکیورٹی خدشات کو ختم کرنا ‘ اور ’سمگلنگ کی روک تھام‘ ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سرحدی صورتِ حال پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ وزارتِ داخلہ نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
بلوچستان بارڈر ٹریڈ ایسوسی ایشن کے صدر غفور ہوتھ نے بھی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کے لیے سرحد بند ہے، تاہم ایران کے راستے تیسرے ملک جانے والے سامان کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔‘

بعض ایسی گاڑیوں کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو ایران کے راستے وسطی ایشیا یا ترکیہ سامان پہنچانے جا رہی تھیں (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کے جنوب مغربی ساحل پر واقع شہر گوادر کے ایک تاجر شمس الحق نے کہا کہ ’اِس پالیسی کے باعث پاکستان کے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔‘
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو تہران پہنچے۔ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے لیے ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق، ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے عاصم منیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران اُس وقت تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات آگے نہیں بڑھائے گا جب تک دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد بحال نہیں ہو جاتا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ فروری کے اواخر میں اُس وقت شروع ہوئی تھی، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔

شیئر: