Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری

جون میں ہونے والے معاہدے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا یہ پانچواں دورہ ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی کوششوں میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اپنے ملک کے سرکاری حکام کے ایک وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔‘
اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں عاصم منیر کے دورے کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت میں ’مذاکرات سے متعلق امور‘ بھی زیرِ بحث آئیں گے، تاہم بنیادی توجہ دوطرفہ تعلقات اور باہمی روابط و تعاون کو مضبوط بنانے پر ہوگی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں آبنائے ہرمز کا مستقبل بھی شامل ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ یہ گزرگاہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، تاہم فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے بعد ایران نے اس راستے کی ناکہ بندی کرنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک کامیاب نہ ہونے والی سفارتی کوششوں میں اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ جون میں پاکستان نے ایک مختصر مدت کے لیے مؤثر رہنے والی مفاہمتی یادداشت طے کرانے میں مدد دی تھی۔ تہران کا اصرار ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کی بنیاد اب بھی یہی یادداشت ہونی چاہیے۔
جون میں ہونے والے اس معاہدے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا یہ پانچواں دورہ ہے۔
امریکہ نے ستمبر کے بعد سے ایران پر حملے نہیں کیے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے کا خدشہ برقرار ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ہم دن رات اس امکان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ابھی بھی، جب ہم بات کر رہے ہیں، ہم اس امکان کو رد نہیں کر سکتے۔‘
عاصم منیر کا یہ دورہ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے پیر کو ایران پہنچنے کے ایک روز بعد ہو رہا ہے۔

شیئر: