پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ چھ دہائیوں سے نافذ ’سرحدی راہداری نظام‘ آئندہ ایک سے دو ماہ میں مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت صرف پاسپورٹ اور ویزے کے ذریعے ممکن ہوگی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق راہداری نظام کے خاتمے سے سرحدی آمد و رفت کو مزید منظم اور باقاعدہ بنانے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب سرحدی اضلاع کے رہائشی اور تاجر اسے اپنی معاشی اور سماجی زندگی کے لیے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔
راہداری نظام کے تحت دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر صرف ’راہداری‘ پر آمد و رفت کی اجازت حاصل تھی۔
مزید پڑھیں
-
افغان ، ایران سرحد پر ٹینکرز میں دھماکے سے شدید آتشزدگیNode ID: 540846
اگرچہ بعض رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ راہداری نظام 31 مارچ تک ختم کر دیا جائے گا تاہم بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ حکومت نے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔ البتہ ایک سے دو ماہ کے اندر یہ نظام مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس کے بعد ون ڈاکومنٹ رجیم (او ڈی آر) مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا اور پھر کسی کو بھی پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر آنے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاکستان نے افغانستان کی سرحد پر نومبر 2023 میں ون ڈاکومنٹ رجیم نافذ کیا تھا جس کے خلاف چمن میں گزشتہ دو برس سے احتجاج جاری ہے۔ ون ڈاکومنٹ نظام کے نفاذ سے قبل چمن میں پاک افغان سرحد کے مرکزی دروازے سے روزانہ تقریباً 20ہزار افراد پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر آمد و رفت کرتے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کے بعد ایران کے ساتھ مکمل یک دستاویزی نظام کا نفاذ بلوچستان میں دہشت گرد ی کے خاتمے اور دیر پا امن کے قیام کے لیے ’سپیکٹرم آف الیگل ایکٹیویٹیز‘ کے نام سے بنائی گئی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اس منصوبے کے تحت سرحد پر غیرقانونی آمد و رفت، منشیات، تیل، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ہر قسم کی سمگلنگ سمیت تمام غیر قانونی کاروباری نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کو ہدف بنایا گیا ہے اور اس سلسلے میں مرحلہ وار سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کے مطابق حکومت اور سکیورٹی اداروں کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرحدی سمگلنگ، غیر قانونی نقل و حرکت، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور منشیات کے کاروبار کی موجودگی میں بلوچستان میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کے بقول ان غیرقانونی سرگرمیوں کی آڑ میں دہشت گردوں کو مالی معاونت ملتی ہے۔
انہوں نے نوشکی میں 31 جنوری کو ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان واقعات میں 27 افراد ہلاک ہوئے اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں کو مالی معاونت پوست کی کاشت سے حاصل ہونے والی رقوم سے ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تصور درست نہیں کہ سرحدی علاقوں کی ترقی کے لیے سمگلنگ کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تربت اور گوادر میں سمگلنگ کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن ان علاقوں میں نہ تو معاشی بہتری آئی اور نہ ہی سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی بلکہ صوبے میں سب سے زیادہ حملے ان علاقوں میں ہوتے ہیں۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ راہداری نظام سے محدود تعداد میں لوگ مستفید ہوتے ہیں اس لیے اس کے خاتمے کے بڑے منفی اثرات کا امکان کم ہے۔حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے پاسپورٹ کے اجرا کا عمل آسان اور مفت کیا جائے گا تاکہ جو لوگ متاثر ہوں ان کی مشکلات کم کی جا سکیں۔ ان کے بقول سرحد پر قانونی تجارت کو فروغ دینے کے لیے سرحدی دروازوں کے کھلنے کے اوقات کار بڑھانے کی کوشش بھی جاری ہے۔
تاہم سرحدی اضلاع کے رہائشی اس فیصلے کو اپنے لیے شدید مشکلات کا باعث قرار دے رہے ہیں۔ گوادر کے صدیق بلوچ نے اردو نیوز کو بتایا کہ اگرچہ گزشتہ کچھ برسوں میں راہداری سے فائدہ اٹھانا مشکل ہوتا جا رہا تھا مگر یہ اب بھی سرحد کے دونوں جانب منقسم خاندانوں کے لیے ایک اہم سہولت تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظام کے خاتمے سے سرحد پار رشتہ داروں سے ملنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر سے زائد طویل سرحد ہے۔ سرحد کے دونوں جانب ایک بڑی آبادی بلوچوں کی ہے جن کے آپس میں خاندانی رشتے اور کاروباری روابط موجود ہیں۔’ 1960 کے پاک ایران سرحدی انتظامی معاہدے ‘کے تحت دونوں ممالک نے سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کو بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے محدود سرحدی علاقوں اور مخصوص مدت کے لیے سفر کی اجازت دی تھی۔ یہ اجازت نامے جنہیں ’راہداری‘ کہا جاتا ہے متعلقہ سرحدی اضلاع کے ڈپٹی کمشنر جاری کرتے ہیں۔

راہداری کے تحت بلوچستان کے ایران سے ملحقہ پانچ اضلاع—چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر کے رہائشیوں کو اپنے ضلع کے کراسنگ پوائنٹس سے سال میں دو مرتبہ تقریباً پندرہ دن کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر ایران آنے جانے کی اجازت ملتی ہے۔
وقت کے ساتھ دونوں ممالک نے اس نظام کو بتدریج سخت اور محدود کیا۔ 2023 میں پاکستان نے اسے کمپیوٹرائزڈ کر دیا تاکہ جعلی اور غیرمجاز راہداریوں کے اجرا کا تدارک کیا جا سکے۔
تفتان کے رہائشی محمد آصف کا کہنا ہے کہ جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد سے پاکستان کی جانب سے عام شہریوں کو زمینی راستے سے ایران جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور صرف ہوائی سفر کی اجازت ہے۔
ان کے مطابق پاسپورٹ اور ایک سال کے ویزے کے باوجود انہیں بتایا گیا کہ وہ تفتان سے ایران نہیں جا سکتے اور انہیں اس مقصد کے لیے کوئٹہ یا کراچی سے مہنگا فضائی سفر اختیار کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر راہداری جیسی سہولت نہ ہو تو سرحد سے صرف سو کلومیٹر دور جانے کے لیے بھی انہیں مہنگے فضائی ٹکٹ سمیت بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر فدا حسین دشتی کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں سرحدی آبادیوں کو ایسے ’بارڈر پاس ‘کی سہولت دی جاتی ہے تاکہ صدیوں پرانے سماجی اور تجارتی تعلقات برقرار رہ سکیں۔
ان کے مطابق ایران کے خلاف عالمی پابندیوں اور خطے میں کشیدگی کے باعث تجارت پہلے ہی متاثر ہے اور ایسے فیصلے اسے مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سے زمینی راستے کے ذریعے پاسپورٹ اور ویزے کے باوجود تاجروں کو بھی ایران جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ ایران سے آنے والوں کے لیے راستہ کھلا ہے جو ان کے بقول غیرمنطقی فیصلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ آٹھ، نو سو کلومیٹر دور کوئٹہ یا کراچی جا کر فضائی ٹکٹ لے کر ایران جائیں جبکہ زمینی راستے سے ایران کا سفر نسبتاً سستا، آسان اور مختصر ہے۔ حکومت زمینی امیگریشن دوبارہ کھولے اور اسے آسان بنائے تاکہ تاجروں اور عام شہریوں کی مشکلات کم ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند سال قبل گوادر کے قریب پاک ایران سرحد پر گبد–رمدان کراسنگ پوائنٹ کھولا گیا جو تفتان کے بعد دوسرا بڑا کراسنگ پوائنٹ ہے۔ وہاں لوگوں نے بڑی سرمایہ کاری کی اور نئے ہوٹل اور ریسٹورنٹس کھولے مگر گزشتہ کئی ماہ سے امیگریشن بند ہونے کے باعث ان کی سرمایہ کاری متاثر ہوئی اور کاروبار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد کا بڑا حصہ دشوار گزار پہاڑی سلسلوں، ریگستان اور ویران علاقوں سے گزرتا ہے۔ یہ علاقے سرحدی نگرانی کمزور ہونے کے باعث غیر قانونی آمد و رفت، منشیات، تیل اور انسانی سمگلنگ کا مرکز رہے ہیں۔
سرحد کے دونوں اطراف بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، جیش العدل اور جنداللہ جیسے مسلح گروہوں کی موجودگی کے باعث پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں وقتاً فوقتاً کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔ فروری 2019 میں زاہدان میں ایرانی فوجیوں پر حملے، 2018 میں بلوچستان کے علاقے بلیدہ میں ایف سی پر حملے اور 2019 میں مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے مقام پر 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کیے جانے کے واقعے کے بعد دونوں ممالک نے ان حملوں میں ملوث گروہوں کے سرحد پار ٹھکانوں کی موجودگی کے الزامات عائد کیے تھے۔
جنوری 2024 میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب ایران نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں میزائل حملے کر کے جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھی ایرانی سرحدی ضلع سراوان میں فضائی کارروائی کر کے بلوچ مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا۔
دونوں ممالک نے سرحد پر سکیورٹی سخت کرنے کے لیے خندقیں، کنکریٹ کی دیواریں، آہنی باڑ اور واچ ٹاورز تعمیر کیے ہیں۔ پاکستان نے 2019 میں 12 فٹ اونچی آہنی باڑ لگانے کا آغاز کیا جو دسمبر 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق نوے فیصد سے زائد مکمل ہو چکی ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ سرحدی نگرانی مزید سخت کرنے اور راہداری کے خاتمے جیسے اقدامات سے سکیورٹی میں بہتری آئے گی اور غیر قانونی آمد و رفت اور تجارت کم ہوگی جبکہ سرحدی آبادیوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے معاشی مواقع مزید محدود ہو جائیں گے اور وہ خاندانی روابط برقرار رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا کریں گے۔












