Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا مشہور ناول نگار تھیلیسن اوریلین نے اپنا ناول اے آئی سے لکھوایا؟ پبلشر نے تعلقات توڑ لیے

کینیڈا کے ایک نامور پبلشر نے بدھ کو کہا ہے کہ اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ معروف ہیٹی نژاد کینیڈین مصنف تھیلیسن اوریلین نے اپنے ناول ’اِٹ واز ایدھر دیٹ اور ڈائی‘ (C'etait ca ou mourir) کی تحریر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد لی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 38 سالہ مصنف تھیلیسن اوریلین نے اپنے اس مشہور ناول میں اے آئی کے استعمال کے الزامات کی تردید کی تھی اور گزشتہ ہفتے کینیڈین پبلشنگ ہاؤس ’بورِیل‘نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
تاہم بدھ کو تھیلیسن بوریل نے بتایا کہ اس نے ان الزامات کی مزید تحقیقات کروائی ہیں۔
پبلشر نے اپنے ایک بیان میں کہا ’گزشتہ چند دنوں کے دوران سامنے آنے والی نئی معلومات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ناول کی تحریر کے عمل میں ارٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کیا گیا تھا۔‘
اس انکشاف کے بعد پبلشنگ ہاؤس نے اوریلین کے ساتھ اپنے ’پیشہ ورانہ تعلقات ختم‘ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بوریل کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ تحریری عمل میں اے آئی کا استعمال کس حد تک کیا گیا تھا ’اور شاید ہمیں کبھی اس کا حتمی جواب نہ مل سکے۔‘
پبلشر کے مطابق انہوں نے ناول کے تمام دستیاب ڈرافٹس جمع کیے اور مختلف ورژن کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار فریق کی خدمات حاصل کیں۔
بوریل نے بتایا ’اس ہفتے حاصل ہونے والے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ بعض دستاویزات کے میٹا ڈیٹا میں اے آئی ٹیگز کے اثرات موجود تھے۔‘
پبلشر کا کہنا ہے کہ اس تجزیے سے قبل انہوں نے تھیلیسن اوریلین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ضروری ثبوت فراہم کر سکیں۔
تاہم یہ کوشش غیر نتیجہ خیز رہی اور پبلشر کے مطابق اوریلین نے ’بعد میں مزید کوئی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔‘
Thelyson Orelien has denied that he used AI on his breakthrough novel. (AFP)
ایک بیان میں تھیلیسن اوریلین نے ان الزامات کو ’بہتان اور من گھڑت‘ قرار دیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ہجرت کے موضوع پر لکھا گیا یہ ناول جو اپنے اصل فرانسیسی عنوان "C'etait ca ou mourir" کے نام سے جانا جاتا ہے، 20 سے زائد ممالک میں ترجمہ کے لیے پیش کیا جانا تھا۔
’بہتان اور من گھڑت الزامات‘
اس کتاب پر اس وقت شک کے بادل چھائے اور اسے فرانس کے سب سے اعلیٰ ادبی اعزاز ’گونکور پرائز‘ کی مختصر فہرست سے خارج کر دیا گیا جب اے آئی ڈیٹیکٹر ’پینگرام‘ کے ٹیسٹ میں 100 فیصد احتمال ظاہر ہوا کہ اس متن کو کمپیوٹر کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
اس ماہ کے شروع میں  اے ایف پی کو دیے گئے ایک بیان میں تھیلیسن اوریلین نے ان الزامات کو ’بہتان اور من گھڑت‘ قرار دیا تھا۔
انہوں نے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک خصوصی بیان میں کہا تھا ’میں نے جگہ جگہ تحقیق کے لیے، بالخصوص غیر ملکی محاوروں کو سمجھنے کے لیے کچھ ٹولز کا استعمال ضرور کیا تھا۔‘
’لیکن اس کتاب کا ایک جملہ بھی کسی مشین کا تخلیق کردہ نہیں ہے، نہ ہی اس کہانی کا مفہوم یا ساخت کسی مشین کی مرہونِ منت ہے جو میرے دل و دماغ سے نکلی ہے۔‘
بدھ کو بھی وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور فرانسیسی اخبار ’لیبریشن‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اے آئی کا استعمال صرف ’تخلیقی عمل کے دوران تاریخی تحقیق‘ کے لیے کیا تھا۔
انہوں نے کہا ’میں نے اپنے قریب ترین لوگوں کو سب کچھ سمجھا دیا ہے لیکن اس وقت مجھے نہیں لگتا کہ میرے الفاظ کی کوئی وقعت ہے۔‘
Top-selling novelist denies AI use, admits plagiarism 'mistakes' - Books -  The Jakarta Post
 اوریلین نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ان سے اپنی تحریروں میں ’ناقابل قبول غلطیاں‘ ہوئی تھیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وہ جس صورتحال سے گزر رہے ہیں وہ ’حد سے زیادہ آگے بڑھ چکی ہے۔‘
تھیلیسن اوریلین کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کتاب 2017 کے آخر میں ایک میز کے کونے پر بیٹھ کر لکھنا شروع کی تھی اور 2019 میں اس کا 300 سے زائد صفحات پر مشتمل پہلا ڈرافٹ مکمل کر لیا تھا یعنی ’چیٹ جی پی ٹی‘ جیسے اے آئی ٹولز کے عام ہونے سے کئی برس پہلے۔
واضح رہے کہ مصنف 2010 میں کیریبین جزیرے ہیٹی میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد اپنے وطن سے نقل مکانی کر گئے تھے جو پہلے ہی غربت اور بے امنی کا شکار تھا۔
سرقے کے الگ سے عائد کردہ الزامات کے جواب میں اوریلین نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ان سے اپنی تحریروں میں ’ناقابل قبول غلطیاں‘ ہوئی تھیں، تاہم انہوں نے کسی مخصوص واقعے کی تفصیل نہیں بتائی۔
انہوں نے لکھا ’اس وقت میری عمر 20 سال سے کچھ زیادہ تھی، شاید میں کچھ زیادہ ہی بے صبرا تھا اور یہ بات نہیں سمجھ سکا تھا کہ مجھے ابھی کتنا کچھ سیکھنا باقی ہے۔ میں لکھنا چاہتا تھا اور بہت زیادہ مطالعہ کر رہا تھا۔’
’لیکن کسی کی تعریف یا مداحی کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اس کے لکھے ہوئے متن کو اپنا بنا کر پیش کرنے کا حق مل جائے۔‘

شیئر: