Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جاپان کا معدوم ہوتا ’بوڑھا‘ گاؤں، جہاں اس سال صرف 3 بچے پیدا ہوئے

جاپان کی کاؤنٹی گنما میں واقع گاؤں کی آبادی 1300 ہے (فوٹو: جاپان ٹائمز)
جاپان کے ایک پہاڑی گاؤں میں حال ہی میں پیرو سے آئے غیر متوقع مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا گیا جو کہ اس معاہدے کے بعد پہلی بار ہوا ہے جس میں پیرو سے تعلق رکھنے والے افراد وہاں جا سکیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے گاؤں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جہاں صرف بوڑھے افراد بستے ہیں اور اس کا وجود معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔
جاپان کی کاؤنٹی گنما میں واقع محض 1300 کی آبادی والے گاؤں ’نانموکو‘ کے دورے پر آئے پیرو کے شہر ’بیلین‘ کے میئر اور دو نوجوان لڑکیوں نے جب ایک مقامی اولڈ ایج ہوم کا دورہ کیا تو بزرگوں نے کچھ حیرت اور کچھ مسکراہٹوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔
19 سالہ طالبہ وینڈی سانگاما نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’یہاں پہنچتے ہی مجھے اس جگہ کی ہر چیز سے پیار ہو گیا تھا اور یہ ایک ایسا گاؤں ہے جہاں میں ممکنہ طور پر مستقبل رہائش اختیار کر سکتی ہوں۔‘ ‘
نانموکو جاپان کا سب سے قدیم گاؤں ہے جہاں کی 70 فیصد سے زائد آبادی 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔
سنہ 2014 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں اسے جاپان میں ’معدومی کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار’ گاؤں قرار دیا گیا تھا۔
دریائے نانموکو کے ساتھ واقع گاؤں کی مرکزی سڑک پر مکانات اور دکانیں موجود ہیں جن میں سے بیشتر ویران اور بند ہیں اور زیادہ تر سناٹا رہتا ہے۔
گاؤں کے حکام کو امید ہے کہ بیلین کے ساتھ طے پانے والا سسٹر سٹی (جڑواں شہروں کا) معاہدہ بیلین سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو نانموکو میں بسنے کے لیے راغب کرے گا۔

نانموکو کی 70 فیصد سے زائد آبادی 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)

اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ رہائشی ویزا کیسے حاصل کریں گے۔
پیرو میں جاپانی تارکینِ وطن کی کافی تعداد ہے تاہم نانموکو کے میئر سائجو ہاسیگاوا کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسی خاص حکمتِ عملی سے زیادہ ایک جاپانی پیرو تاجر سے اتفاقیہ ملاقات کا نتیجہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ گاؤں کو اپنی بقا کے لیے غیر ملکیوں سمیت مزید رہائشیوں کو راغب کرنے کی ضرورت ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ کہاں سے آتے ہیں کیونکہ ان کے بغیر ہم ایک ایسے موڑ پر پہنچ سکتے ہیں جہاں شاید پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہو جائے گی۔
’روزگار کی کمی اور نئی امیدیں‘
جاپان میں افرادی قوت کی شدید کمی کے باوجود تارکینِ وطن کی مخالفت بڑھ رہی ہے جس کے باعث وزیراعظم سانائے تاکائیچی غیر ملکیوں سے متعلق قوانین کو مزید سخت کرنے پر زور دے رہی ہیں۔
نانموکو نے ملک کے دیگر حصوں سے نوجوانوں کو اپنے ہاں بلانے کی کئی کوششیں کیں لیکن پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں روزگار کے مواقع اور قابلِ کاشت زمین انتہائی محدود ہے۔
میئر ہاسیگاوا کا کہنا ہے کہ یہاں ہر سال قریباً 60 افراد کا انتقال ہوتا ہے جبکہ صرف دو یا تین بچے پیدا ہوتے ہیں۔

نانموکا میں ہر سال قریباً 60 افراد کا انتقال ہوتا ہے جبکہ دو سے تین بچے پیدا ہوتے ہیں (فوٹو: جاپان ٹائمز)

اس کے برعکس پیرو کا علاقہ بیلین نسبتاً ایک جوان کمیونٹی ہے۔
ایمیزون کے شمال مشرقی شہر ایکویٹوس کے اس غریب علاقے کی اوسط عمر صرف 27 سال ہے۔ 60 ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل یہ علاقہ جسے لاطینی امریکہ کا ’وینس‘ بھی کہا جاتا ہے، صرف ہوائی جہاز یا کشتی کے ذریعے ہی قابلِ رسائی ہے۔
دورے پر آئی 23 سالہ طالبہ کیٹسی یاہوارکانی نے اس تجربے کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر مجھے یہاں بسنے کا موقع ملا تو میں ضرور رکوں گی۔‘
نانموکو کے قریبی اضلاع نے غیر ملکی کارکنوں بالخصوص کیئر گیورز  کو آنے کی اجازت دی ہے لیکن وہ عام طور پر شارٹ ٹرم یا تکنیکی ویزوں پر آتے ہیں۔
میئر ہاسیگاوا کا کہنا ہے کہ ان کا وژن الگ ہے۔ وہ چند برسوں کے لیے آنے والے مزدوروں کے بجائے ایسے لوگ چاہتے ہیں جو نانموکو میں طویل مدتی زندگی تعمیر کریں۔
تاہم کچھ سال قبل کیوٹو سے نانموکو منتقل ہونے والے 34 سالہ یوکی وانی بوچی کا کہنا ہے کہ نئے آنے والوں کو زبان کی رکاوٹ سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہو گا کیونکہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لیے جاپانی زبان آنا ضروری ہے۔

پیرو سے جانے والے نوجوانوں میں سے چند نے اسی گاؤں میں بسنے کی خواہش کا اظہار کیا (فوٹو: اے ایف پی)

گاؤں کے 87 سالہ رہائشی ہیروشی ایہارا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے گاؤں کو بوڑھا ہوتے دیکھا ہے کیونکہ ان کے اپنے تینوں بچے روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں میں جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا ’جاپان کی آبادی کم ہو رہی ہے میرے خیال میں اگر بیرونِ ملک سے لوگ یہاں آئیں اور ہماری مدد کریں تو یہ سب سے بہترین بات ہو گی۔‘

شیئر: