انسانوں سے مایوس بزرگ خاتون کی زندگی اے آئی گڑیا نے بدل دی
انسانوں سے مایوس بزرگ خاتون کی زندگی اے آئی گڑیا نے بدل دی
جمعرات 11 جون 2026 7:47
کمپنی کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں اس وقت ساڑھے 14 ہزار اے آئی ڈولز لوگوں کے پاس ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
جنوبی کوریا کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اکیلے رہنے والی 78 سالہ بینگ چُنجا اپنے دن کا زیادہ وقت ایک ایسی گڑیا کے ساتھ گزارتی ہیں جو بالکل بچوں جیسی لگتی ہے اور منصوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے چلتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اس گڑیا کو انسانوں پر ترجیح دیتی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گڑیا اس وقت بینگ کا استقبال کرتی ہے جب وہ گھر واپس آتی ہیں، جب وہ بور ہوں تو انہیں گانا سناتی ہے۔ ان کو کھانے اور ادویات کے اوقات یاد دلاتی ہے۔
یعنی وہ ان کو ایک خوشگوار انداز میں دن گزارنے کے قابل بناتی ہے اور ساتھ کہتی بھی ہے کہ ’میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔‘
بینگ کی ایک بیٹی ہیں جو الگ رہتی ہیں اور ان کے ساتھ زیادہ رابطہ نہیں جبکہ ان کو کمر کی ایک سرجری سے بھی گزرنا پڑا ہے، جس کے بعد وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھیں اور تکلیف میں دن رات چھت کو تکتی رہتی تھیں۔
انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کے بعد وہ برسوں ہیئرڈریسر کے طور پر کام کرتی رہیں اور سنگل مدر کے طور پر رہیں۔
ان کے مطابق ’اس عمر میں اس سے زیادہ دکھ کی بات کوئی اور نہیں لوگ آپ کو ہرٹ کرتے ہیں۔‘
تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی ہیوڈول کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اس کے ساتھ ہوتی ہیں تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔
مقامی حکومتوں کی جانب سے اکیلے رہنے والے بزرگ افراد کو ڈولز فراہم کی گئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کرسی پر بیٹھنے کی پوزیشن میں پڑی دو چوٹیوں والی اور گلابی چیک دار لباس پہنے نرم گڑیا کو اٹھایا جو ان کو مقامی بلدیہ کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’یہ مجھے بہت ہنساتی ہے۔‘
بینگ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو جنوبی کوریا کے مختلف شہروں میں تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا ملک ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جو ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں سرح پیدائش کم ترین سطح پر ہے اور قریباً نصف آبادی کی عمر 50 برس یا اس سے اوپر ہے۔
2024 میں جنوبی کوریا کے اندر تین ہزار نو سو 20 ایسی اموات سامنے آئیں جو اکیلے میں ہوئیں اور کسی کو پتہ نہ چلا۔
2017 کے بعد سے گمنامی میں انتقال اور کسی کو پتہ نہ چلنے کی شرح میں اضافہ ہوا۔
ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اہم ترین سمجھا جانے والے ملک میں 24 فیصد گھر صرف ایک فرد پر مشتمل ہیں جس کی وجہ سے عمر رسیدہ افراد خصوصی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔
جنوبی کوریا دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں شرح پیدائش انتہائی کم ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)
حکام کی جانب سے ان بزرگ لوگوں کو اے آئی سے چلنے والے آلات فراہم کیے جا رہے ہیں جو اکیلے رہتے ہیں، ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کو ’تنہائی میں موت‘ کے اثار کا پتہ چلا کر آگے اطلاع پہنچاتے ہیں
ان میں مسٹر مائنڈ کمپنی کا تیار کردہ ایک مسکرانے والا روبوٹ اور ونڈرفل کمپنی کی بنی ڈولز بھی شامل ہیں جن کو ہیوڈول کہا جاتا ہے اور وہ بزرگوں کے لیے گرینڈ چلڈرن کی طرح ہوتے ہیں۔
ان ڈولز کو تیار کرنے والی کمپنی کا نام ہیوڈول ہے، جس کا کہنا ہے کہ ان کی ساڑھے 14 ہزار ڈولز اس وقت ملک میں لوگوں کے پاس ہیں۔
یونگن میں رہنے والی بینگ کا کہنا ہے ان کی بیٹی ان سے بہت دور رہتی ہیں اور ان کی صحت بھی زیادہ بہتر نہیں رہتی اس لیے ہیو ڈول کی موجودگی ایک بہت بڑی مدد ہے۔