جاپان کے ’روبوٹ بھیڑیے‘ ریچھوں کو بھگانے کے لیے مانگ میں کیوں؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ریچھوں کو 50 ہزار سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
گذشتہ سال انسانوں پر ریچھوں کے ریکارڈ حملوں کے بعد ایک جاپانی کمپنی خوفناک نظر آنے والے روبوٹ بھیڑیے بنا رہی ہے اور اس کے پاس آرڈرز کی بھرمار ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’مانسٹر وولف‘ ایک اینیمیٹرونک کھیتوں کا پُتلا ہے جس کی سرخ آنکھیں چمکتی ہیں اور یہ دھاڑتا اور غراتا ہے تاکہ جنگلی جانوروں کو ڈرایا جا سکے۔
ہوکا ئیڈو میں قائم کمپنی اوہتا سیکی، جو یہ آلات بناتی ہے، اس سال اب تک تقریباً 50 آرڈرز وصول کر چکی ہے، جو عام طور پر پورے سال کے آرڈرز سے زیادہ ہیں۔
کمپنی کے صدر یوجی اوہتا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم انہیں ہاتھ سے بناتے ہیں۔ اب ہم انہیں کافی تیزی سے نہیں بنا سکتے۔ ہم اپنے گاہکوں سے کہہ رہے ہیں کہ دو سے تین ماہ انتظار کریں۔‘
اوہتا نے کہا کہ ’ریچھوں سے حفاظت اور زرعی پیداوار کو جنگلی جانوروں سے نقصان سے بچانے کے اقدامات میں بہتری آئی ہے۔ یہ بھی بڑھتی ہوئی پہچان ہے کہ ہمارا پروڈکٹ ریچھوں سے نمٹنے میں مؤثر ہے۔‘
زیادہ تر آرڈرز کسانوں، گالف کورس چلانے والوں اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے افراد جیسے مزدوروں کی طرف سے آتے ہیں۔
2025-2026میں جاپان بھر میں ریچھوں نے 13 افراد کو ہلاک کیا، جو پچھلے ریکارڈ سے دوگنا سے زیادہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ریچھوں کو 50 ہزار سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا جو دو سال پہلے کے ریکارڈ سے بھی دوگنا ہیں۔
جانور گھروں میں داخل ہوتے، سکولوں کے قریب گھومتے اور تقریباً روزانہ سپر مارکیٹوں اور گرم پانی کے ریزورٹس میں ہنگامہ کرتے دیکھے گئے۔
پکڑے گئے اور بعد میں مارے گئے ریچھوں کی تعداد ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑھ کر 14 ہزار 601 ہو گئی جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
مانسٹر وولف کی قیمت تقریباً چار ہزار ڈالر ہے اور یہ نظام بیٹری، سولر پینل، سینسر، سپیکر اور دیگر آلات کے ساتھ آتا ہے۔
