Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

18 ماہ میں قریباً 10 لاکھ تارکین امریکہ سے ڈی پورٹ، ’80 فیصد کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا‘

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ تارکین کے حوالے سے کافی سخت پالیسی اپنائے ہوئے ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے 18 ماہ میں امریکا سے قریباً نو لاکھ 80 ہزار تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیا گیا جن میں صرف 20 فیصد مجرمانہ ریکارڈ رکھتے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 جنوری 2025 سے 31 جولائی 2026 تک امریکا سے بے دخل کیے گئے افراد میں سے قریباً ایک لاکھ 90 ہزار کا مجرمانہ ریکارڈ تھا۔
80 فیصد افراد کو کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی تھی حالانکہ ٹرمپ بارہا امریکا میں موجود خطرناک مجرموں کے خلاف کارروائی کا موقف اپناتے رہے ہیں۔

اکثریت کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا

رپورٹ کے مطابق ملک بدر کیے جانے والے افراد میں سے 80 فیصد ایسے تھے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ اسی طرح دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے رہنے والے بے دخل تارکین وطن میں سے 71 فیصد کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔
10 سال یا اس سے زیادہ عرصے سے رہنے والے بے دخل افراد میں سے 61 فیصد کو کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق باقاعدہ قانونی کارروائی کے ذریعے ملک سے نکالے گئے افراد میں بھی صرف 31 فیصد کا مجرمانہ ریکارڈ تھا۔ یہ شرح 2009 سے 2021 کے دوران 44 فیصد رہی تھی۔

بے دخلی کی تعداد میں اضافہ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً 9 لاکھ 80 ہزار نکالے گئے افراد میں سے تقریباً 5 لاکھ 80 ہزار افراد کو باقاعدہ کارروائی کے ذریعے، 3 لاکھ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے بعد اور ایک لاکھ 10 ہزار کو انتظامی طریقہ کار کے تحت واپس بھیجا گیا۔
امریکا کے اندر سے تارکین وطن کی گرفتاریوں کے بعد بے دخلی میں بھی اضافہ ہوا۔ 2025 کے آغاز میں ایسے قریباً 8 ہزار افراد کو ماہانہ ملک سے نکالا جا رہا تھا اور یہ تعداد 2026 کے وسط تک بڑھ کر تقریباً 19 ہزار ماہانہ ہو گئی۔
دوسری جانب امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر تارکین وطن کی آمد سے متعلق واقعات کی تعداد تاریخی طور پر کم سطح پر آئی ہے۔

کارروائیوں کے لیے مزید فنڈز

رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس نے 2029 تک امیگریشن نفاذ کے لیے ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے لیے 240 ارب ڈالر کی فنڈنگ منظور کی ہے، اس رقم سے امیگیشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) میں مزید 12 ہزار افسران بھرتی کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ قریباً ایک لاکھ 70 ہزار افراد ایسے طریقہ کار کے تحت امریکا سے گئے جن میں انہیں رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔ اس سے ان افراد کو باقاعدہ بے دخلی کی عدالتی کارروائی سے گزرنا نہیں پڑا۔
تحقیق میں ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ بے دخلی اور رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنے کے ذریعے 30 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن ملک سے جا چکے ہیں۔
محققین کے اندازے کے مطابق امریکا میں کم از کم ایک سال سے رہنے والے تارکین وطن کی مجموعی روانگی 7 لاکھ 90 ہزار سے 19 لاکھ کے درمیان رہی۔

امیگریشن پالیسی پر اختلافات برقرار

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے خلاف کارروائی اور بے دخلی کی مہم عوامی تحفظ بہتر بنانے اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے۔
دوسری جانب شہری حقوق کی تنظیموں اور تارکین وطن کے حامیوں نے ان پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے قانونی تحفظات متاثر ہوئے ہیں، تارکین وطن میں خوف بڑھا ہے اور نسلی بنیادوں پر امتیازی کارروائیوں کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کو امریکی عدالتوں میں بھی متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسی طرح محکمہ خارجہ نے رواں ہفتے بتایا کہ ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران 3 لاکھ سے زیادہ امریکی ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

شیئر: