Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور میں سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کا مبینہ ملزم گرفتار، ’خواتین اور بچے ریڈلائن ہیں‘

ملزم کی شناخت غلام مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے جو چنیوٹ کا رہائشی ہے (فوٹو: اے پی پی)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے مزنگ لنک روڈ پر سکوٹی سوار لڑکی کا راستہ روک کر اسے تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت غلام مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے جو ضلع چنیوٹ کا رہائشی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واقعہ 20 اکتوبر کو اس وقت پیش آیا جب لڑکی مزنگ لنک روڈ سے گزر رہی تھی۔
ملزم نے مبینہ طور پر اپنی موٹرسائیکل لڑکی کی سکوٹی کے آگے لا کر اس کا راستہ روکا اور اسے سکوٹی سے گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک موٹرسائیکل سوار کو لڑکی کی سکوٹی کے سامنے رک کر اس پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
جس میں وہ لڑکی کو مارتا ہے اور زمین پر گرا دیتا ہے۔ اس دوران شور مچنے پر لوگ موقع پر جمع ہو جاتے ہیں۔
متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں تھانہ مزنگ میں درج مقدمے کے متن کے مطابق ان کی بیٹی 20 اکتوبر کو شام چار بج کر 45 منٹ پر سکوٹی پر جا رہی تھی کہ ایک نامعلوم موٹرسائیکل سوار نے اسے اوورٹیک کیا اور رکنے کو کہا۔
لڑکی کے نہ رکنے پر ملزم نے مبینہ طور پر اس کی سکوٹی کو ٹکر ماری اور پھر اپنی موٹرسائیکل آگے لا کر اس کا راستہ روک لیا۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے لڑکی سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ چھیننے کی کوشش کی۔
اسے سکوٹی سے نیچے گرایا، تھپڑ مارے، بال نوچے اور گالم گلوچ کرتے ہوئے ہراساں کیا۔
لڑکی کے والد کے مطابق تشدد سے ان کی بیٹی کے چہرے اور ناک پر زخم آئے جبکہ لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا جس کی مالیت 85 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق لڑکی کے شور مچانے پر لوگ جمع ہو گئے جس کے بعد ملزم فرار ہو گیا۔
موقع پر موجود افراد نے اس کی موٹرسائیکل قبضے میں لے کر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق ملزم غلام مصطفیٰ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

’خواتین اور بچے وزیراعلیٰ کی ریڈ لائن‘

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس حوالے سے جمعے کو کی گئی ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’سکوٹی پر سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزم کو لاہور پولیس نے رات ہی کو گرفتار کر لیا تھا۔‘
ان کے مطابق ’خواتین اور بچے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ریڈ لائن ہیں، ایسا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

شیئر: