Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’نو منٹ کی واردات، تین گھنٹے میں گرفتاری‘، لاہور پولیس نے برطانوی شہریت یافتہ ملزم کو کیسے پکڑا؟

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں برطانوی شہریت رکھنے والے نوجوان نے ساؤتھ کینٹ میں ایک نجی بینک میں ڈکیتی کی واردات انجام دی تو پولیس کو اطلاع ملنے کے تقریباً تین گھنٹے بعد اس کا مرکزی ملزم گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق سیف سٹی کیمروں اور آپریشنز ونگ کی ٹیموں کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا اور اسے ایک زیر تعمیر گھر سے گرفتار کیا گیا۔
گرفتاری کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں واردات کی تفصیلات بتائیں۔ فیصل کامران کے مطابق پولیس کو بینک ڈکیتی کی اطلاع صبح ملی اور واردات تقریباً نو منٹ میں مکمل ہوئی۔
سکاٹ لینڈ میں ٹیکسی ڈرائیور، پاکستان میں ڈکیتی
فیصل کامران نے بتایا کہ گرفتار ملزم برطانوی شہری ہے اور سکاٹ لینڈ میں تقریباً چھ برس تک ٹیکسی ڈرائیور رہ چکا ہے۔ ’وہ 16 ستمبر کو برطانیہ سے پاکستان آیا تھا اور اس سے پہلے بھی پاکستان آ چکا تھا۔ ملزم کے پاس برطانیہ سے لائے گئے 1200 پاؤنڈز تھے جو خرچ ہو گئے جس کے بعد برطانیہ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ جھگڑے کے بعد ملزم پاکستان آیا اور رقم ختم ہونے کے بعد اس نے پیسوں کے حصول کے لیے واردات کا منصوبہ بنایا۔‘
فیصل کامران کے مطابق ملزم نے گھر کے قریب موجود ایک بینک کو ہدف بنایا اور اس کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کی۔ پولیس کے مطابق ملزم ہونڈا سِوک آر ایس ٹربو میں بینک پہنچا۔ گاڑی کی نمبر پلیٹ سیاہ پینٹ سے چھپائی گئی تھی، جبکہ اس کے پاس ایک پستول تھا۔
پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ بینک میں داخل ہونے کے بعد ملزم نے پستول کے ذریعے سکیورٹی گارڈ کو یرغمال بنایا اور دوسرے گارڈ سے بھی اس کا اسلحہ نیچے رکھوا لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم دونوں گارڈز کے ہتھیار بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
فیصل کامران کے مطابق ملزم پڑھا لکھا نوجوان تھا اور اس کا لہجہ اور انداز انگریزی بولنے والے شخص جیسا تھا۔ ان کے مطابق ملزم نے ایک ہی پستول کے ذریعے گارڈ کو قابو کیا۔ فیصل کامران کے مطابق بینک میں موجود عملے نے مزاحمت کے بجائے لوگوں کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات کے دوران وہ طریقہ کار اپنایا جس سے وہ ایک گیم میں متاثر ہوا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے بقول ’بینک مینیجر نے ملزم کو بتایا کہ باقی رقم لاکر میں موجود ہے جسے صرف مینیجر کھول سکتا ہے، جبکہ اس وقت کاؤنٹر پر دستیاب رقم ہی دی جا سکتی ہے۔ مینیجر نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو بچایا۔‘ پولیس کے مطابق ملزم 7 لاکھ 26 ہزار روپے لے کر بینک سے فرار ہوا۔
گیم سے متاثر ہو کر واردات کا منصوبہ؟
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات کے دوران وہ طریقہ کار اپنایا جس سے وہ ایک گیم میں متاثر ہوا تھا۔ تاہم پولیس کی جانب سے گیم کا نام یا اس میں دکھائے گئے مخصوص طریقہ واردات کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ بینک سے نکلنے کے بعد ملزم ایک زیر تعمیر گھر پہنچا۔ ’واردات کے بعد اس نے گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کی اور اسلام آباد فرار ہونے کے لیے گاڑی تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔‘
فیصل کامران کے مطابق ملزم نے اسلام آباد جانے کے لیے ایک گاڑی تین لاکھ روپے میں رینٹ پر لے رکھی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی چھوڑ کر دوسری گاڑی میں اسلام آباد روانہ ہو جائے، لیکن پولیس اس سے پہلے ہی اس تک پہنچ گئی۔
پولیس کے مطابق جب اہلکار زیر تعمیر گھر پہنچے تو ملزم لوٹی ہوئی رقم اور اسلحہ اپنے سامنے رکھ کر گیم کھیل رہا تھا۔ اردو نیوز کو موصول ہونے والی گرفتاری کی ویڈیو میں بھی پولیس اہلکاروں کو ملزم کو قابو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک اہلکار ملزم سے پاسپورٹ کے بارے میں پوچھتا اور اس کی فلائٹ کے وقت سے متعلق معلومات لیتا دکھائی دیتا ہے جبکہ ایک دوسرا اہلکار اسے پکڑے ہوئے ہے۔

فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا جدید نظام پولیس کی ’ریڑھ کی ہڈی‘ ہے (فوٹو: اے پی پی)

پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے ڈکیتی کی 4 لاکھ 26 ہزار روپے نقدی برآمد ہوئی۔ اس کے علاوہ واردات میں استعمال ہونے والی ہونڈا سِوک آر ایس ٹربو، دو پستول اور ایک 12 بور رائفل بھی برآمد کی گئی۔ ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق ملزم نے اپریل میں سیالکوٹ سے 45 ہزار روپے میں پستول خریدا تھا۔ ’اس نے ٹھوکر سے 20 ہزار روپے میں گولیاں حاصل کیں۔ ناجائز اسلحے کی خرید و فروخت اور ملزم تک اسلحہ پہنچانے کے ذرائع کی جانچ جاری ہے۔‘
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کا اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ پولیس واقعے کے دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں اسلحے کا حصول، واردات کی منصوبہ بندی، فرار کے لیے گاڑی کا انتظام اور مبینہ طور پر گیم سے متاثر ہو کر واردات کرنے کا دعویٰ شامل ہے۔
فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا جدید نظام پولیس کی ’ریڑھ کی ہڈی‘ ہے اور اس کارروائی میں اس نظام نے اہم معاونت فراہم کی۔ انہوں نے کہا ’لاہور جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں۔ قانون شکن عناصر قانون کی گرفت سے کسی صورت نہیں بچ سکتے۔‘

 

شیئر: