Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

استنبول اجلاس: فلسطین، یمن اور آبنائے ہرمز پر مشترکہ موقف

اجلاس میں خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا(فوٹو، ایس پی اے)
سعودی عرب، پاکستان ، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں چاررکنی اجلاس کے دوران خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق استنبول اجلاس میں فلسطین کے حوالے سے اسرائیلی قبضے کو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دوریاستی حل کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے فسلطینی عوام کے حق خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا جس کا دارالحکومت القدس ہو۔
وزرا نے غزہ میں میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اس کے فوری خاتمے، القدس کی قانونی و تاریخی حیثیت میں تبدیلی کی کوششوں کو روکنے اور غزہ میں انسانی امداد کی فوری و بلا تعطل فراہمی پرزوردیا۔
یمن کے حوالے سے چاروں ممالک نے حوثی ملیشیا کی جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی ، سعودی عرب اوراس کی شہری تنصیبات ، بحیرہ الاحمر و باب المندب میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ سعودی عرب اور یمنی حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حوثیوں سے فوری طورپر فوجی کاررائیاں روکنے اور نیک نیتی سے سیاسی عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی تنازع اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر وزرائے خارجہ نے مذاکرات اور سفارت کاری کو تنازع کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں، شہری بنیادی ڈھانچے اور بحری جہازوں کونشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی حمایت کرتے ہوئے مزید کشیدگی روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔
اجلاس کے اختتام پر چاروں وزرائے خارجہ نے مذکورہ امور پرمشاورت اور قریبی رابطہ و تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

شیئر: