چرچ پر حملے میں مرنے والے 9 ہوگئے، سخت کارروائی کی جائے: شاہ اردن
ہفتہ 24 اکتوبر 2026 20:04
ہسپتالوں میں27 مریض زیر علاج ہیں، دو کی حالت تشویشناک ہے۔ (فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
اردن کے پبلک سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز ایک چرچ پر حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر نو ہوگئی ہے۔
دہشت گردانہ حملے کے بعد سیکیورٹی سخت ہے۔ چرچ کے باہر پولیس کی موجودگی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے سنیچر کو ایک سکیورٹی اجلاس کی صدرات کی۔ سکیورٹی فورسز کو کرک گورنریٹ میں چرچ پر ہونے والے حملے جس میں عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے، کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور ان کا تعاقب کرنے کی ہدایت کی۔
بیان کے مطابق شاہ عبداللہ نے اس کارروائی کی حمایت یا اس کا جواز دینے والے ہر ایک کو قانون کے مکمل تقاضوں کے مطابق کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان افواہوں اور گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کیا جائے جو خوف اور انتشار پھیلانے کے لیے اس جرم کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
اس سے قبل شاہ عبداللہ نے ایکس اکاؤنٹ پر بیان میں اس عزم کا اظہارکیا تھا کہ اس حملے کا ’سخت ترین جواب‘ دیا جائے گا۔
’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی گولیوں سے اردنی عوام کو تقسیم کر سکتے ہیں، انہیں ہماری یکجہتی کے سامنے کوئی کامیابی نہیں ملے گی۔‘
ان کا کہنا تھا ’ہر اردنی شہری کی جان قیمتی ہے اور جو بھی ہمارے ملک کو دھمکانے کی جرأت کرے گا، ہم اس کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔‘
اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے حملے کے زخمیوں کی بھی عیادت کی۔
یاد رہے کہ جمعے کو جنوبی اردن کے ایک چرچ کے اندر جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 9 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔
اردن کے وزیر صحت ابراہیم البدرو نے سنیچر کو بتایا پانچ ہسپتالوں میں تقریبا 27 مریض زیرعلاج ہیں جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح افراد ایک گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور تقریباً پانچ منٹ تک مسلسل فائرنگ کرتے رہے جس کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔
عینی شاہد کے مطابق فائرنگ کے وقت چرچ کے اندر اور اطراف میں 150 سے 200 افراد موجود تھے، جبکہ بیشتر متاثرین کی عمریں 50 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔
سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں وہ لمحہ محفوظ ہوگیا جب مسلح حملہ آوروں نے چرچ کے داخلی دروازے پر حملہ کیا۔ فوٹیج میں دو حملہ آور پستول استعمال کرتے دکھائی دیے، جبکہ تیسرے کے پاس رائفل تھی اور اس نے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا۔
