Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اردن: چرچ کے اندر مسلح شخص کی فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 10 زخمی

کراک مسلمان اکثریتی اردن میں مسیحی برادری کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)
اردن کے جنوبی علاقے میں جمعے کو ایک چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 7 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ صوبہ کراک میں واقع حمود چرچ میں پیش آیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے المملکہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے چرچ کا محاصرہ کر لیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
ایک عینی شاہد نے المملکہ کو بتایا کہ مسلح افراد ایک گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور تقریباً پانچ منٹ تک مسلسل فائرنگ کرتے رہے جس کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔
عینی شاہد کے مطابق فائرنگ کے وقت چرچ کے اندر اور اطراف میں 150 سے 200 افراد موجود تھے، جبکہ بیشتر متاثرین کی عمریں 50 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔
وزیر مملکت برائے حکومتی مواصلات محمد المومنی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔
کراک مسلمان اکثریتی اردن میں مسیحی برادری کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

 

شیئر: