Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر پر ہونیوالے مذاکرات کشمیر ی قیادت کے بغیر ممکن نہیں، سردار عتیق احمد خان

رابطہ عالم اسلامی نے کشمیر میں ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کی، سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مسلم کانفرنس کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطا
    مصطفی خان ۔ جدہ
    مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کی دورہ مملکت کے موقع پر مسلم کانفرنس کی جانب سے استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی ۔سردار عتیق احمد خان  کو رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کا ممبر منتخب کیا گیا  رابطہ عالم اسلامی کے مستقل رکن منتخب ہونے کے بعد رابطہ کی دعوت پر مملکت آئے تھے جہاں انہو ںنے  اجلاس میں شرکت کی اور خطے کے موجودہ حالات سے رابطہ عالم اسلامی میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ مسلم کانفرنس جدہ کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار عتیق احمد خان نے کہا رابطہ عالم اسلامی نے کشمیر میں ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کی بھرپور مذمت کی ۔ سعودی عرب نے ہر دور  اور ہر پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی موقف کی تائید و حمایت کی ہے۔  رابطہ عالم اسلامی کا کشمیر پر موقف انتہائی جاندار اور قابل تحسین ہے ۔ا نہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور اقوام متحدہ کی کشمیر پر منظور شدہ قراردادوں میں ہے۔ کشمیر پر ہونے والے مذاکرات کشمیر کی قیادت کی شمولیت کے  بغیر ممکن نہیں۔ سردار عتیق نے کہا کہ پاکستان کے وزیر ِخارجہ شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے ہندوستان کو کشمیر میں دہشت گردی کے حوالے سے ایک دہشت گرد ملک کہا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس انداز سے مسئلہ کشمیر اقوم متحدہ کے پلیٹ فارم پر نہیں اٹھایا۔ سردار عتیق نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان کا صدر کسی سینیئر فوجی جرنیل کو ہونا چاہیے تا کہ فوج اور سول حکومت مل کرپاکستان کیلئے کام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی کانفرنس تنظیم اور رابطہ عالم اسلامی مل کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کام کریں۔تقریب سے سردار عنایت، زرین خان، خورشید متھیال، سردار اقبال یوسف، غلام نبی بٹ، سردار اشفاق، راجہ شمروز، ابرار نے بھی خطاب کیا۔
مزید پڑھیں:- - - - دبئی: سفیر پاکستان نے جی ٹیکس میں پاکستان پولین کا دورہ کیا

شیئر: