Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب وزرائے خارجہ کا شام کی عرب لیگ میں واپسی پر اتفاق

شام کا وفد عرب لیگ کے اجلاسوں میں شرکت کر سکتا ہے۔ فوٹو: عرب نیوز
عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک دہائی کے بعد شام کی عرب لیگ میں واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اتوار کو عرب لیگ کے سیکریڑی جنرل جمال رشدی نے کہا کہ یہ فیصلہ عرب لیگ کے مصر کے دارالحکومت قاہرہ واقع ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی عرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں کیا گیا۔
خیال رہے شام کی عرب لیگ میں رکنیت بارہ سال قبل مارچ 2011 میں شروع ہونے والی انقلابی تحریک کے بعد معطل کر دی گئی تھی۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور مصر سمیت کئی عرب ممالک نے شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے اعٰلی سطحی دورے کیے، تاہم قطر سمیت کچھ ممالک نے سیاسی حل کے بغیر شام کے ساتھ تعلقات کی مکمل بحالی کی مخالفت کی ہے۔
عرب ممالک 19 مئی کو ریاض میں ہونے والے عرب لیگ سمٹ میں بشار الاسد کو مدعو کرنے کے حوالے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اتوار کو عرب لیگ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں شام اور سوڈان کے مسئلے پر دو غیرمعمولی اجلاسوں میں شرکت کے لیے اکھٹے ہوئے۔
اجلاس کے دوران شام کے بحران اور سوڈان میں تازہ صورتحال پر غور کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے اردن، سعودی عرب، عراق، مصر اور شام کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں شامی مہاجرین کی ہمسایہ ممالک سے واپسی کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔
اجلاس میں شام کے حکام کا پورے ملک پر کنٹرول قائم کرنے کے طریقوں اور منشیات کی سمگلنگ کے حل پر غور کیا گیا۔
تحریک کے بعد پیدا ہونے والے جنگی حالات کے نتیجے میں کم از کم پانچ لاکھ افراد ہلاک اور ملک کی نصف آبادی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئی۔
عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ میں عموماً تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں تاہم کچھ معاملات پر سادہ اکثریت کی حمایت سے بھی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

شیئر: