Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نواز شریف کی پاکستان واپسی میں تاخیر، وجہ اسٹیبلشمنٹ یا عدلیہ؟

نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق ’پارٹی اجلاسوں میں نواز شریف یہ سب کچھ سنتے ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں۔‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
وفاقی حکومت کی مدت ختم ہونے میں تقریباً دو ہفتے باقی ہیں اور نگران حکومت کی تشکیل کے لیے حکمراں اتحاد کے درمیان مشاورت کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے، جس کے بعد یقیناً عام انتخابات کا بگل بج جائے گا۔ 
ایسے میں حکمران جماعت کے قائد نواز شریف وطن واپسی، جس کے حوالے سے ان کی جماعت بڑی پرامید تھی، ابھی تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ کئی ایک لیگی رہنماوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ن لیگ کی انتخابی مہم نواز شریف چلائیں گے لیکن تاحال اس کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ 

’نواز شریف کوئی جواب نہیں دیتے‘

نواز شریف کے ایک قریب ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’پارٹی اجلاسوں میں بھی نواز شریف کی وطن واپسی پر بات ہوئی ہے۔ کئی ایک رہنماؤں نے ان کے وطن واپس آنے پر زور دیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر نواز شریف واپس نہ آئیں تو انتخابات میں جانا مشکل ہو گا۔ نواز شریف یہ سب کچھ سنتے ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں اور کوئی جواب نہیں دیتے۔‘
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے کہ نواز شریف کو انتخابات کی تاریخ کا پتہ ہو۔ اس وجہ سے وہ خاموش ہوں کہ جب وقت آئے گا تب فیصلہ کریں گے اور اسی وقت ہی وہ پارٹی اور کارکنان کو آگاہ کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ انتخابات نئی مردم شماری پر ہوں گے یا پرانی پر؟ اگر نئی مردم شماری پر انتخابات ہونا طے پائے تو پھر جنوری سے پہلے کسی صورت ممکن نہیں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اپنے پتے شو نہیں کر رہے۔‘

نواز شریف جب سے بیرون ملک گئے ہیں انہوں نے خود سے کبھی بھی وطن واپسی کی کوئی بات نہیں کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

’واپسی کے اعلانات پارٹی کو متحرک رکھنے کی ایک کوشش ہے‘

اس حوالے سے اردو نیوز سے گفتگو میں تجزیہ کار اجمل جامی نے کہا کہ ’نواز شریف کی واپسی کے اعلانات پارٹی کو متحرک رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ نواز شریف کے وطن واپسی میں قانونی مسائل ہیں جس وجہ سے وہ ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان پہلوؤں کے برعکس نواز شریف فیصلہ سازوں سے رابطے میں ہیں اور انہیں انتخابات کی تاریخ کا اندازہ بھی ہے، اسی وجہ سے وہ تاریخ نہیں دے رہے۔‘
اجمل جامی کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف گزشتہ پانچ چھ برس سے اپنے فیصلوں کے حوالے سے خاموشی رکھتے ہیں۔ جس کا اندازہ شہباز شریف کو بھی نہیں ہوتا۔ اب وہ کب واپس آنا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ بھی وہ آخری لمحے پر ہی کریں گے۔‘

’اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے‘

ایک اور لیگی رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نواز شریف کی وطن واپسی کی تیاریاں جاری تھیں اور قانونی ٹیم اس پر کام بھی کر رہی تھی لیکن مقتدر حلقوں نے ایک بار پھر نواز شریف کی وطن واپسی روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں انتخابات میں پارٹی کو کوئی فائدہ پہنچانے کا وعدہ کیا گیا ہو لیکن بظاہر اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے درمیان اعتماد کا فقدان ہی واحد وجہ نظر آ رہا ہے۔‘

تجزیہ کار سمان غنی نے کہا کہ ’ن لیگ کی تمام تر تنظیمیں اور ان کے عہدیدار نواز شریف کے زِیراثر ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

خیال رہے کہ نواز شریف جب سے بیرون ملک گئے ہیں انہوں نے خود سے کبھی بھی وطن واپسی کی کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوئی تاریخ دی ہے۔ تاہم ن لیگ کے رہنما انہیں چوتھی بار وزیراعظم منتخب کرانے کی بات کرتے رہتے ہیں۔ 

’وطن واپسی میں تین مسئلے ہیں‘

اس صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ماجد نظامی نے بتایا کہ ’نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے تین اہم مسئلے ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول نہیں ہیں۔ شہباز شریف قابل قبول ہیں لیکن نواز شریف کی کوئی ڈیل نہیں بن پا رہی اور اس حوالے سے کوششیں جاری ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دوسری وجہ یہ ہے کہ نواز شریف کو عدلیہ کی جانب سے مزاحمت کا خدشہ ہے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں نہ آیا جائے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کسی بیانیے اور حکومتی کارکردگی کی وجہ سے ن لیگ کے پاس کوئی انتخابی نعرہ نہیں ہے۔ پارٹی خود چاہتی ہے کہ نواز شریف انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے آئیں تاکہ انتخابات میں کامیابی دلوا سکیں۔ اگر انتخابات نہ ہوں تو پھر ن لیگ کو اپنی اس آخری امید کے ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔‘
تجزیہ کار سمان غنی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’نواز شریف کو ملک واپس آنے سے پاکستان کے اندر کوئی بھی نہیں روک رہا تاہم ان کی جانب سے ستمبر کے دوسرے ہفتے میں واپسی کے لیے پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا ہوا ہے۔ اس وقت ن لیگ کی سیاسی پوزیشن اور حکومتی کارکردگی کی وجہ سے نواز شریف کا وطن واپس آنا لازم ہے۔‘

صحافی ماجد نظامی کے مطابق ’نواز شریف کو عدلیہ کی جانب سے مزاحمت کا خدشہ ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا کہ ’ن لیگ کی تمام تر تنظیمیں اور ان کے عہدیدار نواز شریف کے زِیراثر ہیں۔ نواز شریف 35 برس سے ان کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اس وقت بھی انتخابات میں کامیابی کے لیے ن لیگ کی واحد امید نواز شریف ہی ہیں۔ اس لیے امکان یہی ہے کہ وہ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پاکستان آئیں گے۔‘

شیئر: