عمران حکومت تاریخ رقم کرسکتی ہے؟

سرکاری اعلانات اور ملک کی اقتصادی صورت حال میں واضح تضاد موجود ہے، ملکی تعمیر کیلئے مثبت فیصلے کیے جائیں

 

تنویر انجم
پاکستان تحریک انصاف کو وفاقی حکومت سنبھالے 7 ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران جو ’تبدیلیاں‘ ملک میں سامنے آئیں ان میں مہنگائی سرفہرست، ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ، بجلی مہنگی، گیس ناپید، قرضوں میں ریکارڈ اضافہ اور عوام سمیت سرمایہ کاروں و تاجروں کے چہروں پر مایوسی نمایاں ہے۔ ابتدا میں نئی حکومت نے 100 روز کا انقلابی منصوبہ بنا کر 3 ماہ گزارے تاہم کوئی ٹھوس کارکردگی نظر نہ آنے پر حسب توقع وہی بات کہی گئی کہ برسوں کا کچرا 3ماہ کے قلیل وقت میں صاف نہیں کیا جا سکتا، اس کیلئے مزید مہلت چاہیے اور اب 7 ماہ مکمل ہونے پر بھی حکومت کی جانب سے ایک ہی راگ الاپا جا رہا ہے، جس کی بنیاد پر اسے انتخابات میں کامیابی ملی ہے۔ ملک کے اندر اور بیرونی دنیا میں بھی وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے وزرا ایک ہی بیان بار بار دہرا رہے ہیں کہ ماضی کی حکومتیں اور حکمران سب کرپٹ تھے، ملک کو لوٹ کر کھا گئے مگر عوام تاحال دونوں حوالوں سے کسی بھی قسم کی پیشرفت کے منتظر ہیں۔
گزشتہ دنوں وزیر خزانہ نے پہلے ہی پریشان عوام کو بری خبر سناتے ہوئے کہا کہ مہنگائی مزید بڑھنے والی ہے اور اس بار ایسی بڑھے گی کہ عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ وزیر خزانہ نے اپنی منطق بتاتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت مستحکم دکھائی دے رہی ہے تاہم مہنگائی بڑھے گی کیونکہ بجلی اور گیس کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد سے اب تک معیشت کی بحالی کے نام پر کیے گئے تمام اقدامات ظاہری طور پر عوام دشمن ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ نت نئے ٹیکسوں اور مہنگائی کا سونامی عوام کو بہا کر نہ جانے کہاں لے جائے گا۔ ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار کا پیسہ واپس لانے کا دعویٰ کرنیوالے ابھی تک اس حوالے سے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔  انہیں نرم و نازک حزب اختلاف کی موجودگی میں حکمرانی کیلئے پورا میدان خالی ملا ہوا ہے۔ رہی سہی کسر پنجاب اسمبلی میں منظور ہونیوالی قرار داد نے پوری کردی ہے کہ جس کے نتیجے میں ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ خود وزیر اعظم نے اس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے فیصلے پر تنقید کی۔
وزیر خزانہ کی جانب سے عوام کی چیخیں نکالنے کا بیان میڈیا پر آیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تنقید شروع ہوئی تو موصوف کو اپنے قائد کی طرح یو ٹرن لینا پڑا۔ اس مرتبہ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسان غلطی کرتا ہے اور مجھ سے بھی غلطی ہوتی ہے۔ انہوں نے وضاحت دی کہ ایک اخبار نے مجھ سے منسوب ایک بیان جاری کیا تاہم میں نے ایسے الفاظ نہیں کہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک میں مہنگائی ہے اور لوگ مشکل میں ہیں۔ ساتھ ہی موصوف نے دلاسہ دیا کہ مشکل وقت ضرور ہے لیکن عوام کی چیخیں بالکل نہیں نکلیں گی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایک جانب حکومت مشکل وقت اور مہنگائی کو تسلیم بھی کررہی ہے جبکہ دوسری جانب معیشت کے بحال ہونے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے اعلانات اور ملک کی اقتصادی صورت حال دونوں میں واضح تضاد موجود ہے۔ ایسا ہی ایک تضاد د وسری جانب بھی ہے کہ مختلف ذرائع سے آسان شرائط پر قرضوں کے حصول سے قوم کا بال بال مزید مقروض تو کردیا گیا ہے، ساتھ ہی عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کارپاکستان میں دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں اور عنقریب ملک میں ڈالر آسمان سے برسنے لگیں گے۔ اسی دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ سے 40 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کا سرمایہ نکال لیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال جولائی تا جنوری مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 74.8 فیصد کم رہی۔ یہاں بھی حکومتی دعوؤں اور اسٹیٹ بینک کے اعداد شمار میں تضاد واضح دکھائی دے رہا ہے۔
اقتصادی صورت حال کے حوالے سے نجی ادارے کے ایک سروے کا جائزہ لیا جائے تو اس کے نتائج یہ واضح کرتے ہیں کہ اس وقت ملک کی کمزور معیشت پاکستانیوں کے لیے انتہائی فکرمندی کا باعث ہے۔ انٹرنیشنل پبلک انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت کے حوالے سے کرائے گئے سروے میں یکم تا 22 نومبر تک 18 سال سے زائد عمر کے تقریباً 4 ہزار افراد سے رائے لی گئی، جس کے مطابق 40 فیصد افراد نے حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے کیلئے ایک سال اور 26 فیصد نے 2 سال دینے کی حمایت کی۔ ساتھ ہی اسلامی ریسرچ انڈیکس (آئی آر آئی) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی عوام ملکی معیشت پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔ سروے میں 60 فیصد افراد ملکی سماجی و اقتصادی صورتحال سے غیر مطمئن، 38 فیصد مطمئن نظر آئے جبکہ معیشت کو 9 فیصد نے درست سمت، 29 فیصد نے غلط اور38 نے لاعلمی کااظہار کیا۔ 39 فیصد عوام کو امید ہے کہ معیشت بہتر ہوگی۔ 39 فیصد افراد نے افراط زر، 15 فیصد نے بے روزگاری اور 18فیصد نے غربت کو اہم مسئلہ قرار دیا۔ 18 سے 35 سال کے 77 فیصد افراد نے روزگار کی کمی کو بڑا چیلنج قرار دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کو17 فیصد نے درست، 39 فیصد نے غلط اور 29 فیصد نے لاعلمی کا اظہار کیا، جبکہ آئندہ برسوں کیلئے 43 فیصد نے سیکیورٹی صورتحال کی بہتری کی امید ظاہر کی۔
اقتصادی صورت حال سے پریشان عوام پر وزارت خزانہ کی جانب سے سینیٹ میں پیش کی گئی قرضوں کی تفصیلات بھی بجلی کی طرح گری کہ حکومت نے ستمبرتا دسمبر 2018ء 746 ارب کااندرونی اور 1313 ملین ڈالربیرون ملک سے قرضہ حاصل کیا۔ معیشت بحال کرنے کے نام پر حکومت آخر کب تک اس طرح کا گورکھ دھندہ جاری رکھے گی؟۔ اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صبر اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کے خلاف صرف الزامات نہیں، بلکہ ثبوت اکٹھے کرکے لوٹ مار کا پیسہ ملکی خزانے میں واپس لانے کے ٹھوس اقدامات کرے۔ معیشت کی بحالی اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کیلئے ٹوئٹر پر بیانات یا پریس کانفرنسز کافی نہیں بلکہ ان بڑے مسائل کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ احتساب بلا تفریق و امتیاز اور مخالفت برائے مخالفت کے بجائے سب کے ساتھ مل کر ملکی تعمیر کے مثبت فیصلے کیے جائیں تو کچھ بعید نہیں کہ موجودہ حکومت ملکی تاریخ میں اپنا نام روشن حروف سے لکھوانے میں کامیاب ہو جائے گی کہ ابھی صرف 7 ماہ ہی گزرے ہیں اور حکومت کے حامیوں کی کچھ تعداد بہرحال اب بھی کپتان سے پُرامید ہے۔
 
مزید پڑھیں:- - - -بابری مسجد اور ثالثی پھر بھی بات نہ بنی تو ؟

شیئر: