Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گلگت میں سیاحوں کی گاڑی دریائے سندھ میں جا گِری، سات لاپتہ

سسی ہراموش کے مقام پر ڈوبنے والے سیاحوں میں سے ایک کی لاش مل گئی ہے۔ فوٹو: ریسکیو ذرائع
گلگت بلتستان کے علاقے سسی ہراموش میں سیاحوں کی گاڑی دریائے سندھ میں گِرنے سے چھ افراد لاپتہ ہو گئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
پیر کو شاہراہ بلتستان پر سسی کے مقام پر دریائے سندھ میں سیاحوں کی گاڑی گِرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
ٹورسٹ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گاڑی میں سوار چھ سیاح لاپتہ ہیں جبکہ ایک کی لاش نکال لی گئی ہے۔
پانی کی رفتار تیز ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں قدرتی آفات پر نظر رکھنے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے موسم کی تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے سندھ کے بالائی کیچمنٹ علاقوں میں پانی کا بہاؤ قدرے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پیر کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ٹویٹ میں کہا کہ دریائے کابل میں بھی درمیانے درجے کا سیلاب متوقع ہے جس میں تیزی آ سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ باقی دریاؤں میں پانی کا اخراج معمول کے مطابق ہے۔
پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب نے صوبے کی صورتحال دیتے ہوئے کہا کہ دریائے چناب، راوی اور جہلم میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم عمران قریشی نے متعلقہ انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
خیال رہے کہ سنیچر اور اتوار کی شب ملک کے اکثر بالائی علاقوں کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

دریا برد ہونے والی گاڑی میں سات سیاح سوار تھے۔ فوٹو: ریسکیو ذرائع

مختلف علاقوں میں مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث زمینی کٹاؤ اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔
لاہور میں شدید بارش کی وجہ سے سروسز ہسپتال میں پانی داخل ہو جانے کے ساتھ کینال روڈ پر گہرے شگاف بھی پڑ گئے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں بارشوں کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ سے حادثات کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئیں۔
تیز بارشوں سے متاثرہ اپر اور لوئر چترال میں آئندہ ماہ 15 اگست تک ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقوں مظفرآباد، جہلم ویلی، وادی نیلم، راولاکوٹ، باغ میں بھی شدید بارش کے بعد برساتی نالوں میں طغیانی آئی ہے۔
وادی نیلم  کے علاقے تہجیاں میں بارش کے بعد تہجن نالے میں شدید طغیانی کے باعث متعدد مکانوں کونقصان پہنچا ہے۔ 
گلگت بلتستان میں بھی بارشوں کی وجہ سے نالوں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ 
اتوار کو گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(جی بی ڈی ایم اے) نے اپنی ایڈوائزی میں کہا تھا کہ گلگت بلتستان میں 26 جولائی تک بارش کی پیشن گوئی ہے، لہٰذا غیرضروری سفر سے اجتناب کیا جائے۔

شیئر: