’حساس سکیورٹی ذمہ داریاں‘، راولپنڈی میں چھ ماہ کے لیے فوج تعینات
راولپنڈی میں تعینات کی جانے والی تینوں کمپنیاں فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور حساس سکیورٹی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے پاک فوج کی تین کمپنیاں چھ ماہ کی مدت کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے 21 اگست 2026 کو جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ حکومتِ پنجاب کے ہوم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بھیجی گئی باقاعدہ درخواست کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کی تفصیلات کے مطابق افواجِ پاکستان کی تعیناتی کا مقصد راولپنڈی میں کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنا، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات کی سکیورٹی کو مؤثر بنانا اور ضلعی انتظامیہ کی ضروریات کے مطابق کسی بھی غیر متوقع صورتحال پر فوری اور مؤثر ردِعمل فراہم کرنا ہے۔
تعینات کی جانے والی تینوں کمپنیاں فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی اور اگلے چھ ماہ تک ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر شہر میں امن و امان کے قیام اور اہم سکیورٹی امور کی نگرانی میں معاونت فراہم کریں گی۔
پاکستان آرمی (بالخصوص انفرنٹری/پیادہ فوج) کی ایک کمپنی کا سربراہ میجر یا کیپٹن ہوتا ہے جسے ’کمپنی کمانڈر‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک کیپٹن یا لیفٹیننٹ بطور نائب ہوتا ہے۔
ایک کمپنی میں عام طور پر 3 سے 4 پلاٹونز شامل ہوتی ہیں۔ ہر پلاٹون کی قیادت لیفٹیننٹ یا جونیئر کمیشنڈ آفیسر(جے سی او) جیسے صوبیدار یا نائب صوبیدار کرتا ہے۔
ہر پلاٹون مزید 3 سے 4 چھوٹے سیکشنز میں تقسیم ہوتی ہے اور ایک سیکشن میں 9 سے 10 مسلح جوان ہوتے ہیں۔
پاک فوج کی ایک کمپنی میں معمول کے مطابق 120 سے 150 فوجی اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ اس نفری میں افسرا ، جونیئر کمیشنڈ افسران، جوان اور ضروری لاجسٹک و سپورٹ عملہ شامل ہوتا ہے۔
راولپنڈی میں فوج کی تین کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں جن کی اوسط نفری ممکنہ طور پر لگ بھگ 360 سے 450 اہلکار اور افسران پر مشتمل ہو گی تاہم اگر آپریشنل و مواصلاتی عملہ بھی شامل کیا جائے تو یہ مجموعی تعداد کچھ زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
