Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مستونگ میں مبینہ ڈرون حملہ، 4 مزدور ہلاک، گولیوں سے چھلنی 2 لاشیں بھی برآمد

کوئٹہ سے تقریباً 65 کلومیٹر دور واقع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ کا شمار سیکورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس علاقوں میں ہوتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پیش آنے والے مختلف واقعات میں چار مزدوروں سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

مستونگ کے نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال کے عہدیدار شبیر شاہوانی کے مطابق جمعے کی صبح کھڈکوچہ کے علاقے انجیری سے چار لاشیں اور تین زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ۔ ان کے بقول تمام متاثرہ افراد مزدور بتائے جاتے ہیں۔

ہسپتال میں زیرِ علاج زخمیوں نے بتایا کہ وہ باغات میں کام کر رہے تھے کہ آسمان سے ایک گولہ آ کر گرا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈرون حملہ تھا۔

دوسری جانب کھڈکوچہ تھانے کے ایس ایچ او اویس خان نے چار مزدوروں کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی اصل نوعیت کا فی الحال تعین نہیں ہو سکا ہے۔

ہسپتال میں ہلاک افراد کی شناخت گل خان مغیری، جہانزیب ابڑو، عبیداللہ ابڑو اور عمران ابڑو کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمیوں میں علی رضا مینگل، نصیب اللہ ابڑو اور خالد حسین شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کا تعلق ضلع کچھی کے علاقے حاجی شہر سے بتایا جاتا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق شدید زخمی ہونے والے ایک مزدور کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر دو زخمیوں کے نواب غوث بخش ہسپتال میں ہی آپریشن کیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق کھڈکوچہ انجیری کے قریب ہی گرو کے مقام سے دو مزید نامعلوم افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں جنہیں تحویل میں لے کر نواب غوث بخش ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاہم ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔

 اسی علاقے میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ (N-25) پر واقع ایک چھوٹے پل کو نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا جس کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

کوئٹہ سے تقریباً 65 کلومیٹر دور واقع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ کا شمار سیکورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی کالعدم بلوچ شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہیں۔ یہاں سکیورٹی فورسز پر کئی بڑے حملے ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے اسی علاقے میں بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے جبکہ ان کی حفاظت پر مامور 7 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ گزشتہ ماہ فورسز پر حملے کے بعد کھڈکوچہ میں کئی دنوں تک کرفیو بھی نافذ رہا تھا۔

شیئر: