Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

راولپنڈی: نو ماہ قبل بیاہی گئی خاتون کی باتھ روم سے برآمد شدہ لاش، شوہر اور ملازم گرفتار

پاکستان کے شہر راولپنڈی کے علاقے لال کرتی (تھانہ سول لائنز) میں نو ماہ قبل رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والی 45 سالہ خاتون حنا جاوید کی ان کی رہائش گاہ کے باتھ روم سے تشویشناک حالت میں لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ایک گھریلو ملازم کو گرفتار کر کے قتل کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس رپورٹ اور تھانہ سول لائنز میں مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 20 اگست کی صبح پیش آیا۔
مقتولہ کے بھائی کے مطابق انہیں بہن کے سسر کی جانب سے فون موصول ہوا جس کے بعد وہ موقعے پر پہنچے تو حنا کی لاش باتھ روم کے فرش پر پڑی تھی۔
واقعہ کے حالات اور شواہد
ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق ’مقتولہ کے ہاتھ پیچھے کی جانب کپڑے سے بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا ٹھونسا گیا تھا اور گلے میں تار لپٹی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ منہ سے خون اور جھاگ نکل رہی تھی، جس کی بنیاد پر پولیس اور مدعی کو شبہ ہے کہ تشدد کے علاوہ قتل سے قبل کوئی زہریلی یا بیہوش کرنے والی شے بھی دی گئی ہو سکتی ہے۔‘
پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے پنجاب فورانزک سائنس ایجنسی کے ذریعے تمام ضروری شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کر کے کیمیکل اور فورانزک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ موت کی حتمی وجہ سامنے آ سکے۔
اہلِ خانہ کے الزامات اور گرفتاری
مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ’یہ واقعہ خودکشی کا نہیں بلکہ مبینہ طویل اذیت اور تشدد کے بعد کیا جانے والا باقاعدہ قتل ہے جسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ مدعی کے مطابق، مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر کی یہ دوسری شادی تھی، جبکہ ان کی پہلی بیوی بھی مسلسل گھریلو تشدد اور اذیتوں کی وجہ سے طلاق لے چکی تھی۔‘
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان کو تحویل میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
سسر کی عدم گرفتاری اور خاندان کا موقف
واقعے کے بعد مقتولہ حنا جاوید کے اہلِ خانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک الگ اور تفصیلی بیان میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی اپیل کی گئی ہے۔
اہلِ خانہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ’مقدمے میں نامزد مقتولہ کے سسر اصغر علی کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔‘
خاندان نے پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ سسر کو بلا تاخیر حراست میں لیا جائے اور واقعے میں ملوث، معاونت کرنے والے یا شواہد چھپانے والے تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور فورانزک و پوسٹ مارٹم رپورٹس کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔

شیئر: