Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے معاملے کا سفارتی حل، فلسطینی ریاست کی سپورٹ کا اعادہ: سعودی عرب اور فرانس کا مشترکہ بیان

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کو پیرس کے ایلیسی پیلس میں فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں فرانس اور سعودی عرب نے سٹریٹیجک شراکت داری کا اعادہ کیا۔ دفاع، سرمایہ کاری، توانائی، مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ثقافت اور سیاحت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
ایران کے معاملے کے سفارتی حل، آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی رکاوٹ کے بغیر جہاز رانی کی بحالی پر زور اور فلسطینی ریاست کی سپورٹ کا اعادہ کیا گیا۔
دونوں ملکوں نے مشرق وسطی میں استحکام کے لیے ریاستی خود مختاری، بین الاقوامی قانون اور سفارتی حل کے احترام پر مبنی اپنے مشترکہ وژن پر زور دیا۔
بیان میں ایران کا ذکر نمایاں طور پر کیا گیا، پیرس اور ریاض نے مزید کشیدگی سے بچنے اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکراتی حل پر زور دیا اور ایک ایسے سفارتی تصفیے کے لیے اپنی سپورٹ کا اعادہ کیا جو تہران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کو یقینی بنائے۔ 
انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون دوبارہ شروع کرے۔
ریاض اور پیرس نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کی، بین الاقوامی قانون کے مطابق براہ راست یا بالواسطہ ٹول یا پابندیوں کے بغیر آبی گزر گاہ کے ذریعے فریڈم آف نیویگیشن اور ریگولر کمرشل شپنگ کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

غزہ کے حوالے سے دونوں ملکوں نے حماس کو غیر مسلح  کرنے سے متعلق معاہدے کے اعلان کا خیر مقدم کیا اوراس پر عملدرآمد پر زور دیا۔ انہوں نے ایک پائیدار جنگ بندی کے قیام، شہریوں تک انسانی امداد کی فوری، محفوظ اور بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششوں پر بھی زور دیا۔
فرانس اور سعودی عرب نے 1997 کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اصلاحات کے لیے سپورٹ کا اعادہ کیا۔ اسرائیلی آباد کاری کی سرگرمیوں اور آباد کاروں کے تشدد کے خاتمے پر زور دیا۔

بیان میں لبنان کے حوالے سے ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے، ملک کی خود مختاری اورعلاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کوششوں پر زور دیا۔ لبنانی مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز کے لیے سپورٹ کا اعادہ کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قرار داد 1701 کو مکمل طور پر نافذ کرنے، تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور لبنانی سرزمین سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا۔
سعودی عرب اور فرانس نے یمن میں ایک جامع سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے صدارتی قیادت کونسل اور اقوام متحدہ کی کوششوں کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔ 

سعودی عرب، سول انفراسٹرکچر اور کمرشل شپنگ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی، فریڈم آف نیویگیشن اور سکیورٹی کی اہمیت پر زور دیا۔ فرانس نے سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس کی سرزمین پر حملوں کو مسترد کیا۔
دونوں ملکوں نے سوڈان کے اتحاد، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ تنازع کے خاتمے اور غیر ملکی مداخلت کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔

بیان میں سعودی، شامی، فرانسیسی بزنس کونسل کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے شام کے اتحاد اوراستحکام کو بر قرار رکھنے، اس کے اداروں کو مضبوط بنانے اور اقتصادی بحالی میں سپورٹ کی اہمیت کا بھی ذکر کیا گیا۔
اقتصادی تعلقات کے حوالے سے اس بات کا ذکر کیا گیا کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان دو طرفہ تجارت 2025 میں 11.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ قابل تجدید توانائی اور کلین ہائیڈروجن سمیت ماحولیات اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون پراتفاق ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ العلا میں سعودی فرانسیسی شراکت داری کو 2035 تک وسعت دی گئی ہے۔ اس وسیع تر شراکت داری کے ذریعے آثار قدیمہ، ورثے اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ العلا کو ایک اہم بین الاقوامی ثقافتی مرکز کے طور پر مزید ترقی دی جا سکے۔
دورے کے دوران 22 سے زائد معاہدوں اور مفاہمت یادداشتتوں کا اعلان کیا گیا جس میں دفاع، ہیلتھ کیئر، اے آئی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور تفریح سمیت کئی شعبوں کو کور کیا گیا ہے۔

فرانس نے ریاض ایکسپو 2030 میں اپنی شرکت کی تصدیق کی، دونوں رہنماؤں نے اس اتفاق رائے کا اظہار کیا کہ اس ایونٹ کو سعودی، فرانسیسی تعلقات کا ایک اہم سنگ میل بنایا جائے گا۔
قبل ازیں سعودی ولی عہد پیر کو ملاقات کے لیے ایلیسی پیلس پہنچے تو فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے ان کا خیر مقدم کیا۔

 

شیئر: