Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی فرانسیسی تعلقات تیل سے آگے ایک نئے دور میں کیسے داخل ہو رہے ہیں؟

فرانس اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
فرانس اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ اس سے پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت مملکت کے لیے سازگار تجارتی توازن کی حامل رہی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اب صورت حال میں مزید بہتری بھی نظر آ رہی ہے خصوصاً 2025 سے، جب فرانس نے سعودی عرب کو قریباً چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی برآمدات کیں جبکہ فرانس کے لیے سعودی عرب کی درآمدات تین اعشاریہ سات ارب ڈالر رہیں۔
فرانکو عرب چیمپر آف کامرس کے ڈائریکٹر ڈومینیک برونین نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی دونوں ممالک کی معیشتوں میں آنے والی بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے حالیہ برسوں کے دوران فرانس کی برآمدات میں مسلسل اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی توازن ایک بار پھر فرانس کے حق میں ہو گیا ہے۔
 اسی دوران، سعودی عرب سے فرانس کی درآمدات میں بھی شدید کمی آئی ہے۔ تاہم 2022 میں یہ اب بھی تقریباً 7 ارب ڈالر کی تھیں۔
اس تبدیلی کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی نوعیت ہے، فرانس سعودی عرب سے زیادہ تر تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔
تاہم فرانس نے بتدریج اپنے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا ہے۔ اس کے علاوہ 2025 کے دوران تیل کی قیمتیں نسبتاً کم رہنے کی وجہ سے بھی درآمدات کی مجموعی مالیت کم ہوئی۔
ڈومینیک برونین کے مطابق اس تبدیل کو بنیادی طور پر سعودی عرب میں جاری معاشی تبدیلی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
سعودی عرب وژن 2030 کے تحت تیل کی آمدنی پر اپنا انحصار کم کرنے اور اپنی معیشت کو مختلف شعبوں تک پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کے برعکس سعودی عرب میں فرانسیسی مصنوعات کی طلب کافی متنوع ہے جس میں ایرو سپیس اور اس کے پرزوں کا بڑا حصہ ہے جبکہ صنعتی آلات، ادویات، ٹیکنالوجی، پرفیوم اور کاسمیٹکس بھی اہم شعبے ہیں۔

فرانسیسی کمپنیاں بیرون ملک کام کرنے کا بہت وسیع تجربہ رکھتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

برونین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب فرانس اور سعودی عرب کے درمیان تجارت محض چند روایتی شعبوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ سعودی معشیت اور مارکیٹ میں آنے والی تبدیلیوں کی مناسبت سے آگے بڑھ رہی ہے، اسی وجہ سے ہی سعودی عرب میں فرانسیسی کمپنیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
ان کے مطابق ’سعودی عرب میں فرانسیسی کمپنیوں کا بڑھنا بھی اسی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے اور یہ ایک اہم اور مستحکم مارکیٹ ہے۔‘
انہوں نے سعودی عرب کی علاقائی اہمیت اور دیگر عالمی مارکیٹس تک رسائی کے لیے اسے اہم راستہ بھی قرار دیا۔
سعودی عرب میں دلچسی کی وجہ صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ ایک بڑی مارکیٹ ہے بلکہ ان ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے بھی ہے جو معیشت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ جاری ہیں۔
ان منصوبوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، سیاحت، انفراسٹرکچر اور ماحولیات شامل ہیں۔
ان شعبوں میں فرانسیسی کمپنیاں ایسی مہارتیں رکھتی ہیں جو سعودی عرب کی نئی ضروریات کو پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
فرانکو عرب چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ فرانس کا سب سے بڑا فائدہ اس کی تکنیکی مہارت ہے۔
انہوں نے خصوصی طور پر فرانسیسی کمپنی ویولیا کی مثال دی جو پیٹروکیمیکل صنعت سے پیدا ہونے والے فضلے کی صفائی اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر سعودی عرب میں کام کر رہی ہے۔

ڈومینیک برونین نے سعودی عرب کی علاقائی اہمیت اور دیگر عالمی مارکیٹس تک رسائی کے لیے اسے اہم راستہ بھی قرار دیا (فوٹو: عرب نیوز)

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی کمپنیاں فرانسیسی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی تکنیکی مہارت کو تسلیم کرتی ہیں۔
برونین نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ یہ زیادہ نمایاں نہیں ہے مگر فرانس کے پاس ایک اور خوبی بھی ہے جو کہ اس کے بین الاقوامی سطح پر کام کے وسیع تجربے سے متعلق ہے۔
فرانسیسی کمپنیاں بیرون ملک کام کرنے کا بہت وسیع تجربہ رکھتی ہیں جبکہ وہ حکومتوں اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی اچھی طرح جانتی ہیں۔
یہ پہلو سعودی عرب کے لیے خاص طور پر کافی اہم ہے کیونکہ فرانس کی کمپنیاں اب یہاں صرف ٹیکنالوجی فروخت کرنے یا کوئی منصوبہ مکمل کرنے کے لیے نہیں آ رہیں بلکہ ان سے یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ وہ مقامی معیشت کی ترقی میں حصہ ڈالیں۔
برونین کے بقول فرانسیسی کمپنیاں جدت کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط شراکت داریاں بھی قائم کر سکتی ہیں۔ یہ سلسلہ صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ فرانس کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے بھی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا ان باتوں کے باوجو ایک معاملہ ایسا ہے جہاں یہ توازن قدرے کم دکھائی دیتا ہے اور وہ ہے سعودی عرب کی فرانس میں سرمایہ کاری۔
’اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے فرانس کی ریئل اسٹیٹ، مالیاتی مارکیٹ اور بعض فرانسیسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے تاہم اس کی مجموعی مالیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور یہ سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات اور قطر کے مقابلے میں کم نمایاں نظر آتی ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان فرانس کے دورے پر ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب فرانس میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
ان کے بقول ’بعض سرمایہ کاریوں کا اعلان عوامی سطح پر کیے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے اور ایسی سرمایہ کاریاں نسبتاً خاموشی کے ساتھ کی جاتی ہیں۔‘
برونین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس دوران سعودی سرمایہ کاری کے ذمہ دار ادارے کا حال ہی میں پیرس میں دفتر کھولنا ایک اہم اشارہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنی معیشتوں کو مزید قریب لانا چاہتے ہیں اور نہ صرف فرانس کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری بلکہ فرانس میں سعودی عرب کی بھی سرمایہ کاری بڑھانا چاہتے ہیں۔

شیئر: