پانچ یورپی ممالک کا تارکین کو تیسرے ملک بھیجنے کا منصوبہ کیا ہے؟
پانچ یورپی ممالک کا تارکین کو تیسرے ملک بھیجنے کا منصوبہ کیا ہے؟
جمعہ 4 ستمبر 2026 18:25
یورپی یونین میں شامل ڈنمارک، یونان، آسٹریا، جرمنی اور نیدرلینڈز نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یورپی یونین کے پانچ ممالک نے ایسے تارکین کے لیے ایک ’ریٹرن ہب‘ قائم کرنے کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ڈنمارک کے وزیر برائے امیگریشن مورٹن بوڈسکوف نے جمعے کو بتایا ہے کہ ’پانچ یورپی ممالک ایک نامعلوم غیر یورپی ملک کے ساتھ معاہدے کے لیے کوشش کر رہے ہیں، جہاں ایسے پناہ گزینوں کو رکھا جائے گا جن کی درخواستوں کو مسترد کیا گیا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ڈنمارک، یونان، آسٹریا، جرمنی اور نیدرلینڈز نے کوپن ہیگن میں ہونے والے اجلاس کے دوران اس اقدام پر اتفاق کیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیر برائے امیگریشن مورٹن بوڈسکوف نے کہا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ نئے سال کے آس پاس یورپی یونین سے باہر کسی شراکت دار ملک کے ساتھ مشترکہ مفاہمت طے پا جائے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’منصوبے کے آغاز کے لیے سنہ 2027 کا آغاز ہدف بنایا گیا ہے۔‘
خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق جون میں یورپی قانون سازوں نے رکن ممالک کو یورپی یونین سے باہر تارکین وطن کے لیے حراستی مراکز قائم کرنے کی اجازت دے دی تھی جنہیں ’ریٹرن ہبز‘ کہا جاتا ہے۔
نئے قوانین کے تحت یورپی یونین کا کوئی بھی ملک انفرادی طور پر یا چھوٹے اتحاد کی صورت میں مذاکرات کر سکتا ہے تاکہ ایسے تارکین وطن جنہیں ملک میں رہنے کی اجازت نہیں، انہیں ان کے آبائی ممالک کے بجائے تیسرے ممالک میں قائم کیے جانے والے مراکز بھیجا جا سکے۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے جمعے کو جرمنی، آسٹریا، نیدرلینڈز اور یونان کے وزراء کو کوپن ہیگن میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ان کے ممالک ان افراد کی مزید موجودگی قبول نہیں کر سکتے جن کے پاس قانونی طور پر رہنے کا حق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ قانونی طور پر قیام کا حق نہ رکھنے والے افراد ہمارے متعلقہ ممالک میں رہتے رہیں۔‘
لارس لوکے راسموسن نے مزید کہا کہ ’یورپی ممالک دوسرے ملک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ غیر قانونی مہاجرین کو کسی شراکت دار ملک میں ’دوسرا موقع‘ دیا جا سکے۔
پانچوں ممالک مسترد شدہ پناہ گزینوں کو رکھنے کے لیے مراکز قائم کرنے کی غرض سے مختلف حکومتوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر افریقی ممالک شامل ہیں۔ یہ پانچ ممالک پورے یورپی یونین کے لیے اس منصوبے میں پیش پیش ہیں۔
مورٹن بوڈسکوف کے مطابق غیر یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب آسٹریا کے وزیر برائے پناہ و مہاجرت بارٹ فان ڈین برنک نے کوپن ہیگن میں کہا کہ ’آج ہم اپنے یورپی ساتھیوں کے ساتھ مل کر اگلا قدم اٹھا رہے ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں جتنی جلد ممکن ہو، ریٹرن ہبز کو عملی شکل دی جا سکے۔‘
انسانی حقوق کی تنظیموں نے یورپ سے باہر ڈی پورٹیشن مراکز قائم کرنے کی کوششوں پر تنقید کی ہے (فائل فوٹو: اے پی)
اگست کے اوائل میں روانڈا کی حکومت کی ایک ترجمان نے مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت کے لیے یورپی ممالک اور دیگر ریاستوں کے ساتھ ایسے پناہ گزینوں کی ممکنہ میزبانی کے حوالے سے مذاکرات کرنا ’فطری‘ بات ہے، جنہیں کسی دوسرے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں۔
تاہم تارکین وطن اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے یورپ سے باہر ڈی پورٹیشن مراکز قائم کرنے کی کوششوں پر تنقید کی ہے۔
ان گروپوں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک قائم کیے جانے والے ایسے مراکز میں انسانی حقوق کی پاسداری کی نگرانی اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔
کونسل آف یورپ کے کمشنر برائے انسانی حقوق مائیکل او فلیہرتی نے ای میل کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ’انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کی مبہم یقین دہانیاں کافی نہیں ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ریاستوں کو ایسے حفاظتی اقدامات کا عہد کرنا ہوگا جو انسانی حقوق کے ایسے خلا پیدا ہونے سے روک سکیں جہاں قانون اور نگرانی مؤثر نہ ہو۔‘
برسلز میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’پِیکم‘ نے بھی کوپن ہیگن میں ہونے والے اجلاس کی مذمت کی۔
تنظیم کی ڈائریکٹر مشیل لی ووئے کا کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کے رہنما ان مراکز کو ایک جدید حل قرار دے سکتے ہیں، لیکن تارکین وطن کو بیرون ملک منتقل کرنا ایک پرانا طریقہ ہے، جس کا مقصد لوگوں کو نظروں سے دور کرنا اور انسانی حقوق کی ذمہ داریوں سے بچنا ہے۔‘