جرمنی کی ریاست ’سیکسنی انہالٹ‘ میں تارکین نقل مکانی کا منصوبہ کیوں بنا رہے ہیں؟
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی ریاست ’سیکسنی انہالٹ‘ کے الیکشن میں ممکنہ کامیابی سے تارکینِ وطن عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’سیکسنی انہالٹ‘ کے تارکینِ وطن کو ڈر ہے کہ پارٹی اپنی ’تارکین کو ملک بدر کرنے کی مہم‘ کے تحت اُن کے خلاف کارروائی شروع کر سکتی ہے۔
اے ایف ڈی نے اپنے انتخابی منشور میں تارکین وطن کو جرمنی سے نکالنے اور اُن کے خلاف بڑے پیمانے پر بے دخلی کی مہم چلانے کا وعدہ کیا ہے، جس سے یہاں دہائیوں سے مقیم خاندانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اے ایف ڈی، تارکینِ وطن مخالف، اسلام مخالف اور روس نواز جماعت سمجھی جاتی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 6 ستمبر کو ’سیکسنی انہالٹ‘ میں بڑی کامیابی حاصل کرے گی اور شاید پہلی مرتبہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں بھی آجائے۔
گذشتہ ہفتے ریاست کے دارالحکومت میگڈے برگ میں تارکینِ وطن نے نفرت انگیز پیغامات، فون کالز اور دھمکیاں ملنے کے بعد اپنے 150 کے قریب کاروبار عارضی طور پر بند رکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست میں غیر ملکیوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ الیکشن کے بعد اپنے وطن واپس چلے جائیں۔‘
تارکینِ وطن کی معاون تنظیم ریفیوجی کونسل کے مطابق ’نسل پرستی کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک بدری کے بیانات نے لوگوں کو مزید خوف زدہ کردیا ہے۔‘
اے ایف ڈی کے امیدوار اولریش زیگموند کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار میں آکر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ’فوری طور پر‘ ملک بدر کریں گے، تاہم وہ قانونی امیگریشن کو مسئلہ نہیں سمجھتے۔
گرینز پارٹی کے امیدوار ماماد محمد کے مطابق ’انتخابی مہم کی سخت زبان نے معاشرے میں تقسیم بڑھا دی ہے۔‘
آبادی کا بحران
ماہرین کے مطابق ’تارکینِ وطن کے خلاف مہم ریاست کے لیے معاشی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ 1990 کے بعد زیکسنی انہالٹ اپنی قریباً ایک چوتھائی آبادی کھو چکی ہے اور یہاں ہنرمند کارکنوں کی بھی کمی ہے۔‘
قدامت پسند سی ڈی یو کے امیدوار سوین شولزے کا کہنا ہے کہ ’مقامی آبادی یہ کمی پوری نہیں کر سکتی‘ جبکہ آئی ٹی سٹور کے مالک میتھیاس ہربرگ کے مطابق ’تارکینِ وطن پس منظر رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد ہی اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔‘
