سپین کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی بھنور میں پھنس گئی، 80 افراد ہلاک
جمعرات 3 ستمبر 2026 17:25
سپین کے جزیرے گرین کینریا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ایک کشتی کے بھنور میں پھنسنے سے قریباً 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سکائی نیوز کے مطابق سپیشن ریسکیو حکام نے بتایا کہ کشتی میں پہلے 128 افراد سوار تھے۔ یہ کشتی گیمبیا سے روانہ ہونے کے 27 روز بعد بدھ کو کینریا کے ساحل کے قریب بھنور میں پھنس گئی، جس کے بعد ہنگامی امدادی کارروائی شروع کی گئی۔
امدادی کارکنوں نے آدھی رات کو کشتی تک پہنچے اور زندہ بچ جانے والے افراد کو ساحل پر منتقل کیا۔ ایک غیر سرکاری تنظیم واکنگ بارڈرز کی بانی ہیلینا مالینو نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ مرنے والوں میں ایک بچہ اور تین خواتین بھی شامل ہیں۔
میری ٹائم ریسکیو کے مطابق جب امدادی کارکن کشتی تک پہنچے تو اس میں پانچ نعشیں موجود تھیں۔ بعد ازاں صبح کے وقت قریباً 80 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی۔
زندہ بچ جانے والے 128 مسافروں کو آرگینیگین کی بندرگاہ منتقل کیا گیا، جہاں مقامی حکام ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
میری ٹائم ریسکیو حکام نے بتایا کہ خراب موسمی حالات کے باعث ہلاک ہونے والے بہت سے افراد کی نعشیں برآمد نہیں کی جا سکیں۔
کینری جزائر کے رہنما فرنینڈو کلاویخو کا کہنا ہے کہ ’یہ حادثہ ظاہر کرتا ہے کہ سپین کو تارکینِ وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک واضح حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ بہت افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے اس خطرناک راستے پر لوگ مسلسل اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔‘
سپین کی حکومت نے یورپ کے بعض دیگر ممالک کے مقابلے میں تارکینِ وطن کے معاملے پر نسبتاً نرم انسانی رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
سپین کی حکومت چاہتی ہے کہ جو تارکینِ وطن غیر قانونی طور پر ملک میں آئے ہیں، ان کا اندراج کیا جائے، تاکہ وہ قانونی طور پر کام کر سکیں اور ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
تاہم اس پالیسی پر مراکش جیسے ممالک کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی ہے۔ کو یورپی یونین افریقہ سے یورپ کی طرف ہونے والی غیر قانونی نقل مکانی کو کم کرنے میں مدد کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔
واضح رہے کہ مراکش مغربی افریقہ سے کینری جزائر تک بحرِ اوقیانوس کا راستہ تارکینِ وطن کے لیے دنیا کے خطرناک ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
ہر سال ہزاروں افراد گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں میں اس خطرناک سمندری سفر پر روانہ ہوتے ہیں اور سپین پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بہت طویل فاصلہ، شدید سمندری لہریں اور پانی کے تیز دھارے اس سفر کو انتہائی خطرناک بنا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہر سال بڑی تعداد میں تارکینِ وطن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔