سپین: مراکش سے ہزاروں غیر قانونی تارکین کی سیوتا آمد کے دوران 72 افراد کی ہلاکت
مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ’گذشتہ ہفتے شمالی افریقی میں واقع سپین کے علاقے سیوتا میں مراکش سے داخل ہونے والے غیر قنانونی تارکینِ وطن کے بڑے ہجوم کے دوران کم سے کم 72 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعرات 30 جولائی کو 60 ہزار کے قریب تارکین سرحدی چوکی کو عبور کرتے ہوئے یا سمندر کے راستے تیر کر مراکش سے سیوتا پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
بعد ازاں سپینش حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ’اِن میں سے زیادہ تر افراد 48 گھنٹوں کے اندر رضاکارانہ طور پر واپس مراکش چلے گئے۔‘
مراکش سے شمالی افریقہ میں واقع سپین کے شہروں سیوتا اور ملیلہ میں تارکینِ وطن کے داخل ہونے کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ایک حساس سیاسی مسئلہ رہا ہے، کیونکہ مختلف اوقات کے دوران ہزاروں افراد سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیوتا میں سپین کی حکومت کے نمائندے میگوئل اینخل پیریز تریانو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’مرنے والے افراد کی تعداد 72 ہو گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ تعداد 67 بتائی گئی تھی۔‘
اتوار کو سپینش پولیس اور فوج نے سیوتا کی سڑکوں پر گشت جاری رکھا اور وہاں حالات بتدریج معمول پر آگئے ہیں۔
صرف چند چھوٹے گروپ ہی ایسے تھے جو اب بھی شہر میں موجود ہیں جبکہ باقی افراد 48 گھنٹوں کے اندر رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے تھے۔
سیوتا بندرگاہ کے قریب ایک رہائشی علاقے کے باہر ہسپانوی فوجیوں نے نو تارکینِ وطن کو حراست میں لے لیا جبکہ امدادی ٹیموں کی چھوٹی کشتیوں نے سرحدی باڑ کے قریب بحیرۂ روم میں گشت جاری رکھا۔
اس کے علاوہ سول گارڈز، کچھ تارکینِ وطن کو بسوں سے اُتار کر سرحدی چوکی کی جانب گئے تاکہ انہیں واپس مراکش بھیجا جا سکے۔
سرحدی گزرگاہ پر صورتِ حال پُرامن رہی، جبکہ صفائی کرنے والے عملے نے علاقے کو نقلِ مکانی کے دوران چھوڑ کر واپس جانے والے افراد کے کپڑوں، کچرے اور دیگر سامان سے صاف کیا۔
یہ واقعہ سیوتا کی تاریخ میں تارکینِ وطن کی سب سے بڑی اجتماعی آمد قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد سپین کو امیگریشن پالیسیوں پر یورپی شراکت داروں کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اٹلی نے جمعرات کو مطالبہ کیا کہ سپین کو یورپ کے شینگن زون سے معطل کیا جائے، جس پر سپینش حکومت نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے میڈرڈ میں تعینات اٹلی کے سفیر کو طلب کر لیا۔
تارکینِ وطن کی آمد کے بعد سپین کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’مسلح افواج کو سِول گارڈز کی معاونت کے لیے تعینات کیا جائے گا تاکہ بوقتِ ضرورت وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیوتا شہر میں امن و امان برقرار رکھ سکیں۔‘
سپین کی حکومت نے یہ اعلان بھی کیا کہ غوطہ خور ٹیمیں اور کوسٹ گارڈز کے بحری جہاز بھی سیوتا بھیجے جائیں گے۔
