Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین: کرپشن کے الزامات پر دو اعلٰی فوجی افسر کمیونسٹ پارٹی سے برطرف

برطرف ہونے والے فوجی افسروں میں ژانگ یوشیا بھی شامل ہیں، جو چین کے سب سے اعلیٰ رینک والے جنرلوں میں شمار کیے جاتے تھے (فوٹو: روئٹرز)
چین نے کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے دو اعلیٰ فوجی افسروں کو حکمران کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی ان دونوں کے خلاف ’قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کی تفتیش کرنے کے اعلان کے کئی ماہ بعد کی گئی ہے۔
ان دونوں میں ژانگ یوشیا بھی شامل ہیں، جو مرکزی فوجی کمیشن کے دو نائب سربراہوں میں سے زیادہ سینئر عہدے پر تھے اور یوں چین کے سب سے اعلیٰ رینک والے جنرل خیال کیے جاتے تھے۔
چینی وزارتِ دفاع نے جنوری میں کہا تھا کہ ژانگ یوشیا اور دوسرے افسر لیو ژن لی پر ’نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کا شبہ ہے۔ چین میں یہ اصطلاح عموماً کرپشن کے معاملات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
یہ کارروائی صدر شی جن پنگ کے دورِ اقتدار میں جاری وسیع پیمانے کی انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ ہے، تاہم ژانگ یوشیا کے خلاف کارروائی نے خاص طور پر مبصرین کو حیران کیا، کیونکہ وہ انتہائی اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور یہ تاثر بھی پایا جاتا تھا کہ وہ چینی صدر کے قریب ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے پہلی مرتبہ دونوں افسروں کے خلاف مقدمات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان معاملات میں ’غیر معمولی طور پر بڑی رقوم‘ شامل تھیں۔
ژنہوا کے مطابق بیجنگ میں پیر کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں افسروں کو کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا جائے اور ان کے مقدمات فوج کے قانونی اداروں کو ’جائزے اور قانونی کارروائی‘ کے لیے منتقل کیے جائیں۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آنے کا دعویٰ بھی کیا گیا کہ ژانگ یوشیا اور لیو ژن لی ’پارٹی سے دور ہو گئے تھے اور ریڈلائنز عبور کر گئے تھے۔‘ اِن پر مختلف خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے، جن میں گروہ بندی کرنا اور ذاتی فائدے کے لیے بھاری رقوم وصول کرنا شامل ہے۔

یہ کارروائی ان دونوں فوجی افسروں کے خلاف ’قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کی تفتیش کرنے کے اعلان کے کئی ماہ بعد کی گئی ہے (فوٹو: روئٹرز)

ژنہوا نے تحقیقات کے حوالے سے مزید بتایا کہ دونوں افسروں نے اپنے عہدوں کا استعمال دوسروں کی ملازمتوں میں ترقی اور دیگر معاملات میں مدد دینے کے لیے بھی کیا۔
دونوں افسروں کو کمیونسٹ پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے مکمل اجلاس سے توثیق کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ژنہوا کے مطابق پیر کا فیصلہ اس ’مضبوط مؤقف کی دوبارہ توثیق‘ کرتا ہے کہ ’فوج کے اندر بدعنوان عناصر کے چھپنے کے لیے قطعاً کوئی جگہ نہیں ہے۔
گزشتہ ماہ ژانگ یوشیا اور لیو ژن لی کو ریاستی مرکزی فوجی کمیشن میں اِن کے عہدوں سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔

شیئر: