چین: کرپشن کے الزام میں سابق سینیئر بینکر کو پھانسی دے دی گئی
بائی تیانہوئی کے کیس میں تیانجن کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو معطل نہیں کیا گیا (فائل فوٹو: ایس پی پی چائنہ)
چین میں کرپشن کے الزام میں ایک ریاستی مالیاتی کمپنی کے سابق ایگزیکٹیو کو پھانسی دے دی گئی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چائنہ ہوارونگ انٹرنیشنل ہولڈنگز کے سابق جنرل مینیجر بائی تیانہوئی پر 2014 سے 2018 کے دوران مختلف منصوبوں کی مد میں 15 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رشوت لینے کا الزام ثابت ہوگیا تھا۔
’ہوارونگ‘ کرپشن کے خلاف برسوں سے جاری صدر شی جن پنگ کے کریک ڈاؤن کا ایک بڑا ہدف رہا ہے، اس کے سابق چیئرمین لائی ژیاؤمن کو جنوری 2021 میں 25 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رشوت وصول کرنے کے جُرم میں پھانسی دی گئی تھی۔
ہوارونگ کے کئی دیگر ایگزیکٹیوز بھی بدعنوانی کے خلاف جاری حکومتی مہم کے نشانے پر ہیں اور مختلف تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔
چین میں بدعنوانی ثابت ہونے پر دی جانے والی موت کی سزا اکثر اوقات دو سال کی رعایت کے بعد عمر قید میں تبدیل کر دی جاتی ہے۔
اس سے قبل 2022 میں چین کے سابق وزیر قانون کو رشوت لینے پر دی گئی سزائے موت کو معطل کرتے ہوئے عدالت نے اسے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔
تاہم بائی تیانہوئی کے کیس میں پہلی بار تیانجن کی عدالت کی جانب سے مئی 2024 میں سنائی گئی سزا کو بعدازاں معطل نہیں کیا گیا۔
رواں برس جولائی میں چین کی ایک عدالت نے کمیونسٹ پارٹی تبت کے سابق سربراہ کو بھی لگ بھگ 50 ملین ڈالر کی کرپشن کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔
بیجنگ کی انٹرمیڈیٹ کورٹ نے بیان میں بتایا تھا کہ وو ینگ ژی 2016 سے 2021 تک خودمختار علاقے تبت میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری کے عہدے پر فائز رہے۔
عدالت کے بیان کے مطابق اس دوران انہوں نے غیرقانونی طور پر 34 کروڑ 30 لاکھ یوان یعنی چار کروڑ 78 لاکھ ڈالر رشوت وصول کی تھی۔
