Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین نے اروناچل پردیش میں انڈین فوج کو گشت سے روک دیا ، مودی اور امیت شاہ کچھ نہیں کر رہے: راہل گاندھی

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ چین نے اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ بعض علاقوں میں انڈین فوجیوں کو گشت کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ حکومت اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انڈین نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے راہول گاندھی کے الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور اروناچل پردیش میں ایسی کسی پیش رفت کی سرکاری طور پر تصدیق بھی نہیں کی گئی۔
تاہم، انڈین وزارت خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ چین کے ساتھ سرحدی معاملات کو انڈیا انتہائی سنجیدہ سمجھتا ہے اور ایل اے سی پر امن و سکون برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔
وزارت خارجہ کا یہ بیان اروناچل پردیش کے اپر سوبنسری علاقے میں چینی فوج کی جارحانہ سرگرمیوں سے متعلق رپورٹس کے بعد سامنے آیا تھا۔ دوسری جانب چین نے بدھ کو کہا کہ اس وقت چین اور انڈیا کی سرحدی صورتحال مجموعی طور پر مستحکم ہے، تاہم اس نے اروناچل پردیش کی سرحد کے قریب چینی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
راہل گاندھی نے ’رچناتمک کانگریس‘ کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر کے اندر سے معلومات مل رہی ہیں اور وہاں ’مکمل بغاوت‘ کی صورتحال ہے۔
ان کے بقول، اروناچل پردیش میں ان علاقوں میں جہاں انڈین فوج گشت کرتی تھی، چین نے اب اسے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ ’یہ زمین آپ کی ہے، لیکن آپ یہاں گشت نہیں کر سکتے۔‘
راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امیت شاہ اس معاملے پر کچھ نہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ حکومت میڈیا اداروں کے ایڈیٹرز سے رابطہ کرکے کہہ رہی ہے کہ اس معاملے کو اخبارات میں شائع نہ کیا جائے اور اسے چھپایا جائے۔ راہل گاندھی کے مطابق اس طرح حکومت ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے گلاوان واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی نے اس واقعے کے بعد ایک ویڈیو کال میں کہا تھا کہ چین نے انڈیا کی ایک انچ زمین بھی نہیں لی، جبکہ بعد میں انڈین فوج نے کہا کہ چینی فوج نے انڈین زمین پر قبضہ کیا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اس صورتحال سے چین کے مذاکرات کاروں کو بھی یہ کہنے کا موقع ملا کہ جب انڈین وزیراعظم خود کہہ رہے ہیں کہ زمین نہیں لی گئی تو پھر انڈین حکام کیا بات کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کانگریس کے شعبۂ خارجہ، جس کی سربراہی سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید کر رہے ہیں، نے بھی اروناچل پردیش کے تکسنگ میں ایل اے سی کے ساتھ گشت کے مقامات تک چین کی جانب سے انڈیا کو رسائی نہ دینے کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کانگریس نے الزام عائد کیا کہ یہ انڈین علاقے میں چینی پیش قدمی کی کوششوں میں ایک اور اضافہ ہے۔ پارٹی نے سرحد کے قریب چین کی جانب سے 628 ’ژیاؤ کانگ‘ یا ’خوشحال دیہات‘ تعمیر کیے جانے کا بھی حوالہ دیا، جس کا ذکر انڈین فوج کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے رواں سال مارچ میں کیا تھا۔

شیئر: