’ٹو اینڈ ہاف فرنٹ چیلنج‘، آپریشن سندور کے بعد انڈین فوج میں کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں؟
’ٹو اینڈ ہاف فرنٹ چیلنج‘، آپریشن سندور کے بعد انڈین فوج میں کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں؟
منگل 9 جون 2026 9:20
جنرل اوپیندر دویدی نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ فوج آپریشن سندور 2.0 کے لیے تیار ہے (فوٹو: پی ٹی آئی)
انڈٰین آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے کہا ہے کہ فوج پاکستان اور چین کی جانب سے درپیش ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے علاوہ اندرونی سکیورٹی مسائل سے نمٹنے کی بھی تیاری کر رہی ہے جس کو انہوں نے ’ٹو اینڈ ہاف فرنٹ چیلنج‘ قرار دیا۔
دی نیو انڈین ایکسپریس کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل اوپیندر دویدی، جو 30 جون کو ریٹائر ہو رہے ہیں، نے کہا کہ لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی)پر صورت حال ’مستحکم مگر حساس‘ ہے جبکہ شمال مشرق میں سکیورٹی کی صورت حال مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔
انہوں نے آپریشن سندور کے بعد ادارے میں ہونے والی تبدیلیوں اور آنے والے وقت کی جنگوں کے حوالے سے بتایا کہ ’مستقبل کی جنگ کا سپاہی ایک انسان ہو گا جسے ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید طاقتوار بنایا جائے گا، مگر وہ اس کی جگہ نہیں لے گی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ ’آپریشن سندور میں پاکستان اور چین کی واضح ملی بھگت‘ دیکھنے کو ملی جو مزید گہری ہو رہی تو ایسے میں فوج دو محاذوں پر درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لیے کس قسم کے اقدامات کر رہی ہے؟
اس کے جواب میں کہنا تھا کہ ’جس چیلنج کو میں دیکھ رہا ہوں وہ محض دو محاذوں کا نہیں ہے بلکہ ڈھائی کا ہے، فوج کو پراکسی خطرات اور گرے زون کی سرگرمیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو برقرار رکھتے ہوئے شمالی و مغربی سرحدوں پر بھی ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا اس وقت ساری توجہ ایسے چیلنجز سے نمٹنے پر ہے اور اس کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔
پچھلے سال سات مئی کو انڈیا نے پاکستان پر حملوں کو ’آپریشن سندور‘ قرار دیا تھا (فوٹو: انڈین میڈیا)
انہوں نے داخلی سلامتی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے متعلق کارروائیاں انٹیلی جنس ذرائع پر مشتمل ہوتی ہیں اور اس پر سی اے پی اور مرکزی ایجنسیاں حکام کے ساتھ مل کر رہی ہیں۔
آپریشن سندور کے بعد فوج میں کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں کون سے اقدامات ترجیح ہوں گے؟ اس سوال کے جواب میں جنرل اوپیندر دویدی نے کہا کہ اگلی جنگ میں ہوا کے ساتھ ساتھ خلا، سائبر، الیکٹرومیگنیٹک اور دوسرے جدید نکات کا بھی بڑا کردار ہو گا جبکہ فوج میں تنظیم نو کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد زیادہ چست، مربوط اور موثر نیٹ ورک کی تشکیل ہے جو مختصر وقت میں اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور کے بعد فوج میں متعدد نئے ساختی مراحل فعال کیے گئے ہیں، جن میں کئی ایسی چیزیں شامل ہیں جو دفاعی معاملات کے ضمن میں خلا کو پر کریں گی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کا مقصد اور ترجیح یہی ہے کہ فوج کو ہر طرح سے ضروری ساز و سامان سے لیس کیا جائے، اہلکاروں کو ضروری تربتیں دی جائیں اور ان کو عملی منصوبوں کے ساتھ جوڑا جائے۔
انڈین حملے جواب میں پاکستان نے بھی کئی انڈین شہروں پر حملے کیے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
خیال رہے پچھلے مہینے کے اواخر میں انڈین آرمی چیف نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر فوج آپریشن سندو ٹو کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انڈین اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ جدید دور کی ملٹی ڈومین جنگوں کے لیے تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے، جو صرف بری، فضائی اور بحری محاذوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس سے آگے جا چکی ہیں۔
جنرل اوپیندر دویدی نے پونے میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے 150 ویں کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس وقت اگرچہ وقتی طور پر جنگ بند ہے، لیکن تینوں افواج جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے بھرپور تیاری کر رہی ہیں۔‘