سعودی خواتین کے روایتی لباس میں ہر ریجن کی اپنی کہانی
جمعرات 24 ستمبر 2026 12:43
مدینہ ریجن میں خواتین عموماً پوری لمبائی اور لمبی آستینوں والے گاؤنز پہنتی تھیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں خواتین کا روایتی لباس قومی ثقافتی ورثے کا ایک خوبصورت اور رنگا رنگ پہلو ہے۔ اس میں مختلف انداز کی تراش خراش، علاقائی رنگوں، نفیس کپڑوں اور ہاتھ کی خوبصورت کڑھائی نمایاں ہوتی ہے جو روزمرہ زندگی، تقریبات اور تہواروں کے لیے الگ الگ انداز میں تیار کی جاتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وسطی علاقوں میں خواتین کے روایتی ملبوسات میں ڈھیلے ڈھالے فراک نما لباس شامل ہیں جن کی آستینیں کشادہ ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ گہرے سرخ یا سیاہ رنگ کی ہلکی پھلکی سجاوٹی اوڑھنیاں اور مختلف انداز کے لمبے روایتی گاؤن بھی پہنے جاتے ہیں جن پر پھولوں کی کڑھائی یا سنہری دھاگے سے نفیس نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔
مکہ ریجن میں خواتین کے لباس کا تعلق سماجی تقریبات سے گہرا رہا ہے۔ یہاں مختلف رنگوں کے کپڑوں سے تیار کردہ ڈھیلے ڈھالے گاؤن نمایاں ہیں جنہیں ریشم، دھاتی دھاگوں اور چوڑی دیدہ زیب پٹیوں سے سجایا جاتا ہے۔
مدینہ ریجن میں خواتین عموماً پوری لمبائی اور لمبی آستینوں والے گاؤنز پہنتی تھیں۔ بڑی عمر کی خواتین ہلکے رنگوں جبکہ نوجوان خواتین شوخ رنگوں کے ریشمی ملبوسات کو ترجیح دیتی تھیں۔ دلہنوں کے گلابی رنگ کے گاؤن ڈوریوں سے خوبصورتی سے سجائے جاتے تھے۔
مشرقی ریجن میں روایتی ملبوسات عموماً ڈھیلے ڈھالے انداز کے ہوتے تھے جن میں روزمرہ استعمال کے ہلکے پھلکے لباس سے لے کر ریشم اور دھاتی دھاگوں کی کڑھائی سے مزین گاؤن تک شامل تھے۔
شمالی ریجنز، جن میں حائل، الجوف، حدود شمالیہ اور تبوک شامل ہیں، میں ملبوسات کے ڈیزائن آب و ہوا اور ماحول کے مطابق تیار کیے جاتے تھے۔ نمایاں ملبوسات میں فرش تک لمبی مثلث نما آستینوں والے گاؤن، تہہ دار کمر بند والے لباس، ٹخنوں تک لمبی قمیصوں کے نیچے پہنے جانے والے ملبوسات، شادی کے رسمی جوڑے، بٹن والی واسکٹ اور ریشمی ملبوسات شامل تھے۔

جنوبی ریجنز میں روایتی ملبوسات پر نفیس اور منفرد تزئین و آرائش نمایاں نظر آتی ہے۔ عسیر میں سیاہ ریشمی ملبوسات کے بلاؤز یا پورے لباس پر مختلف انداز کے سنہری اور چاندی کے دھاگوں سے ہاتھ کی کڑھائی کی جاتی تھی۔
الباحہ میں سیاہ رنگ کے ڈھیلے ڈھالے لباس نفیس ہاتھ کی کڑھائی سے مزین ہوتے تھے اور انہیں عید اور دیگر تہواروں کے موقع پر پہنا جاتا تھا۔
جازان میں ساحلی، پہاڑی اور میدانی علاقوں کے باعث ملبوسات کے مختلف انداز رائج تھے۔ ان میں ہاتھ کی کڑھائی والی قمیصیں اور نقش و نگار والی شلواریں شامل تھیں جبکہ بچیاں شوخ پیلے اور سرخ رنگوں کے ملبوسات پہنتی تھیں۔

نجران میں خواتین پوری لمبائی کے سفید اندرونی لباس کے اوپر چوڑی آستینوں والے سیاہ بیرونی لباس پہنتی تھیں جنہیں سینے اور کمر کے حصوں پر مخصوص ڈیزائن سے سجایا جاتا تھا۔
علاقائی خوبصورتی کے علاوہ یہ روایتی ملبوسات نسل در نسل منتقل ہونے والے تجربے اور ہنر کو بھی محفوظ رکھتے ہیں جن میں کپڑے کے انتخاب، قدرتی رنگوں اور لباس کی سلائی و تیاری کی مہارت شامل ہے۔
کپاس، اون، ریشم، دھاتی دھاگوں اور موتیوں کا استعمال ان ملبوسات کو منفرد بناتا ہے۔ ہر لباس اپنے علاقے کے جغرافیہ کی عکاسی کرتا ہے اور آج بھی سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے۔