’خالص موتیوں، سونے اور چاندی کے دھاگوں سے بنے‘ حجازی خواتین کے ملبوسات
حجاز میں خواتین کے روایتی ملبوسات علاقے کی متنوع تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہر لباس مختلف معاشرتی اقدار اور رسوم کی علامت ہے۔ مذہبی تقاریب ہوں یا فیملی پروگرام، ہر موقع کا لباس دوسرے موقع سے مختلف ہوتا ہے۔
سعودی ٹی وی کے ایک پروگرام میں حجازی ملبوسات کی ڈیزائنر ھاجر باوزیر نے بتایا کہ حجاز کی خاصیت یہ ہے کہ یہاں دنیا بھر سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ ہمیشہ سے جاری رہا ہے۔ اِن میں حُجاج اور تاجر بھی شامل ہیں۔ مختلف ثقافتوں کے افراد کے یہاں آنے سے ملبوسات کے ڈیزائنوں میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔
حجازی ملبوسات میں اہم ترین عنصر کشیدہ کاری ہے جو لباس کی شناخت اور اُس کے رکھ رکھاؤ کو نمایاں کرتی ہے۔
حجازی خواتین کے ملبوسات کے لیے خالص ریشم اور اعلٰی قسم کا کپڑا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اُس پر کشیدہ کاری کے لیے سونے اور چاندی کے پانی سے بنے دھاگوں کا بھی استعمال ہوتا ہے۔
خواتین کی پسند کے مطابق ہر تقریب کے لیے لباس کا ڈیزائن مختلف ہوتا ہے۔ ’حجازی ثوب‘ کی تیاری کے لیے بعض خواتین کشیدہ کاری سے بھرے لباس کو پسند کرتی ہیں جبکہ بعض نسبتاً ہلکے لباس کا انتخاب کرتی ہیں۔ اِس لباس میں ایک مخصوص حصہ نقاب کا ہوتا ہے جو خالص موتیوں سے بنایا جاتا ہے جبکہ دوپٹے پر نفاست سے کڑھائی کی جاتی ہے۔ لباس میں لگائے جانے والے بٹن سونے اور ہیرے کے بھی ہوتے ہیں جو خواتین کی حیثیت اور ان کی ڈیمانڈ کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں۔
حجاز کے قبیلے ’حرب‘ کی خواتین کا ایک مخصوص لباس ہے جو اُن کی قبائلی شناخت مانا جاتا ہے۔ یہ لباس اہلِ بادیہ کی ثقافت و تہذیب میں شامل ہے۔
حرب قبیلے کی خواتین کے لیے مخصوص لباس کی تیاری بھی باریک بینی سے کی جاتی ہے جس میں نقاب پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔
مدینہ منورہ کی خواتین کا ایک روایتی لباس (سرخ) مخصوص ہے جس پر کڑھائی کا کام انتہائی نفاست اور باریک بینی سے کیا جاتا ہے۔ اِس لباس کو ’شرع المدینہ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
اِس لباس کی کڑھائی میں مختلف قسم کے دھاگے، موتی اور ترتر استعمال ہوتے ہیں جبکہ ایک خصوصی تاج بھی اِسی کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے جس سے قمیض بنائی گئی ہوتی ہے۔
تاج میں اصلی موتی اور ہیرے کے ٹکرے استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ بالوں میں لگائی جانے والی چوٹیوں کو منفرد طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔
حجاب کی بھی متعدد اقسام ہیں۔ یہ ایک مستطیل کپڑے کا ٹکرا ہوتا ہے جو سر کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس کے اوپر ’المربع‘ کو رکھا جاتا ہے جس کے کناروں پر کڑھائی کی جاتی ہے۔
اہلِ قطیف کی خواتین کے مخصوص لباس ’المبقر‘ کو انواع و اقسام کے زیورات کے ذریعے سجایا جاتا ہے۔ اِس کی تیاری کے لیے عام طور پر گہرے رنگ کے کلف لگے کپڑے استعمال کیے جاتے ہیں۔
حجازی ملبوسات کے لیے خالص ریشم، ٹھنڈی کاٹن اور مخمل سمیت اعلٰی قسم کے کپڑوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جبکہ زرگری کے لیے سونے اور چاندی کے تاروں کا استعمال عام ہے۔ ہاتھ کی کڑھائی اِس لباس کو منفرد اور دیدہ زیب بناتی ہے۔