’نجد کے صحرائی ماحول سے متاثر ڈیزائنز‘، ریاض میں طلبہ کے منفرد کلیکشن کی نمائش
’نجد کے صحرائی ماحول سے متاثر ڈیزائنز‘، ریاض میں طلبہ کے منفرد کلیکشن کی نمائش
جمعہ 19 جون 2026 17:52
جیسے جیسے سعودی عرب کا فیشن کا شعبہ ترقی کر رہا ہے، ویسے ہی ڈیزائنرز مملکت کے متنوع مناظر اور ورثے سے متاثر ہو رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ چیز آرٹس اینڈ سکلز انسٹیٹیوٹ کے 13ویں گروپ کی نمائش میں واضح طور پر دیکھنے کو ملی جو ’بی یونڈ دی ہورائزن‘ کی تھیم کے تحت منعقد ہوئی جہاں ابھرتے ہوئے ڈیزائنرز نے روایتی ورثے کو جدید ڈیزائن کے ذریعے ایک نئے انداز میں پیش کیا۔
نمائش میں شریک ایک ڈیزائنر مئی الدھم نے بتایا کہ ان کی کلیکشن نجدی صحرا کے رنگوں، شکلوں اور بناوٹ سے متاثر ہو کر تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا ڈیزائن صحرا، خاص طور پر نجد کے صحرائی ماحول کی نظر آنے والی خوبصورتی سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جس میں سورج، چٹانیں اور ہواؤں کی طاقت شامل ہے جو ہم مملکت میں محسوس کرتے ہیں۔‘
الدھم کہتی ہیں کہ وہ خاص طور پر ایسے جنگلی پودوں اور پھولوں سے متاثر ہیں جو مملکت کے گرم موسم کے باوجود کھلتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مثال کے طور پر ببول کا درخت، جو اتنے خشک ماحول میں بھی نہ صرف زندہ رہتا ہے بلکہ اپنی خوشبو سے پورے ماحول کو مہکا دیتا ہے۔ یہ وہ جگہیں اور ماحول ہیں جہاں ہم پلے بڑھے ہیں، اس لیے یہ میرے لیے بہت خاص معنی رکھتے ہیں۔‘
سعودی فیشن سیکٹر کی ارتقاء کے بارے میں الدھم نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ڈیزائنرز کے لیے مواقع بڑھے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم اب ڈیزائنرز کے زمانے میں ہیں۔ فیشن اور آرٹس میں بہت مواقع ہیں۔ اب اس چیز کو بہت سپورٹ کیا جاتا ہے اور اب ڈیزائنرز کے لیے اپنے کام کی نمائش کے لیے بہت سے وینیوز ہیں۔‘
ابھرتے ہوئے ڈیزائنرز نے روایتی ورثے کو جدید ڈیزائن کے ذریعے ایک نئے انداز میں پیش کیا (فوٹو: عرب نیوز)
انہوں نے مزید کہا کہ فیشن سعودی ثقافت کو دنیا سے جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ’ہماری شناخت دنیا میں فیشن، آرٹ، لائف سٹائل اور ثقافت سے پھیل رہی ہے۔ یہ ہماری عالمی شناخت میں کامیابیوں کا حصہ ہے۔‘
ایک اور ڈیزائنر کی کلیکشن خولانی کافی سے متاثر ہے جو جنوبی سعودی عرب کے پہاڑی علاقے جازان میں اگائی جاتی ہے۔
وجدان نمازی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’میں ایسی چیز پر توجہ کرنا چاہتی تھی جو بالکل ہماری ہو اور اس پر زیادہ بات نہ کی گئی ہو۔ لوگ اکثر اس کافی کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن میں اس کے پیچھے کہانی بتانا چاہتی تھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے کافی کے درخت کو دیکھا، اس کی کاشت کاری، فصل کٹائی کے عمل اور اس کے پھل کا گہرا مطالعہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں کافی چیریز کے رنگوں کے مختلف مراحل میں خاص طور پر دلچسپی رکھتی تھی۔ اس آئیڈیا پر بھرپور تحقیق کرنے کے بعد میں نے اپنے ڈیزائن بنانا شروع کیے۔‘
رغد الدوسری ایک ایسی ڈیزائنر ہیں جنہوں نے اپنی کلیکشن بنانے کا آغاز اپنی والدہ کے 1980 میں عروسی جوڑے سے متاثر ہو کر کیا۔
رغد الدوسری کہتی ہیں کہ ’میں نے 1980 کا انتخاب کیا کیونکہ یہ وہ دہائی تھی جب میری والدہ کی شادی ہوئی تھی۔ میں جب بھی ان کے پرانی تصاویر یکھتی ہوں، خاص طور پر ان کے شادی کے کپڑے تو مجھے لگتا ہے کہ کیسے اس وقت انہوں نے خوبصورتی کی عکاسی کی جیسے کے کہ بڑے شولڈرز اور نفیس ڈیزائن۔ ان سٹائلز نے مجھے ہمیشہ حیران کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ 1980 کی دہائی کے دوران سعودی عرب میں فیشن میں شوخ رنگوں کا استعمال عام تھا اور اس پر رسائل، ٹی وی پروگراموں اور بین الاقوامی رحجانات کا گہرا اثر تھا۔
عروج علی کی کلیکشن پاکستانی، نجدی اور حجازی روایات سے متاثر ہے جس سے اُن کے ان ثقافتوں میں رہنے کا تجربہ نمایاں ہوتا ہے۔
عروج علی کہتی ہیں کہ ’میں بنیادی طور پر پاکستان سے ہوں اور سعودی عرب میں مجھے اب 12 برس ہوگئے ہیں۔ اب تو یہ ملک میرے گھر جیسا ہے۔‘
عروج علی نے بتایا کہ ان کی کلیکشن میں روایتی نجدی اور حجازی لباس کے عناصر شامل ہیں جن میں برقع اور حجاز کے علاقے کی روایتی طرز تعمیر کی تفصیلات شامل ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے دنیا کے ان تین حصوں کے درمیان ٹرائی اینگل بنانے کی کوشش کی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ کلیکشن ثقافت اور وقار کے اس مشترکہ احترام پر مبنی ہے جو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے معاشروں میں پایا جاتا ہے۔