سعودی ڈیزائنر کے ملبوسات میں ’روایتی اور جدید فیشن‘ کی جھلک
تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سعودی عرب کی فیشن انڈسٹری اب تاریخ اور ورثے کی نگاہ سے ایسے ملبوسات بنا رہی ہے جو تاریخی اعتبار سے بھرپور ہیں جو مملکت کے قیام سے روایتی طور پر پہنے جاتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق 13 فروری کو منعقد کیے گئے سعودی کپ کے دوران ڈیرائنرز نے ایسے ملبوسات کی نمائش کی جس سے مملکت کی تاریخ کی جھلک نمایاں رہی۔
سعودی ڈیرائنر فہدہ البطحا جو کے عبیر المعمر کے ساتھ برینڈ ’ادارا بائے فا‘ چلا رہی ہیں، انہوں نے عرب نیوز کے ساتھ اپنی ڈیبیو کلیکشن ’جرنی تھرو ٹائم‘ کے بارے میں بات کی۔
اس برینڈ کی کلیکشن کو ڈیزائن کرنے کا مقصد مملکت کے ثقافتی ورثے کو سامنے لانا تھا۔
اس کلیکشن کے چھ پِیس تھے جنہوں نے مملکت کے ایک ایک خطے کی نمائندگی نقش ونگار، علامات یا البطحا اور اُن کی ٹیم کی جانب سے ہاتھ سے بنائے گئے کام سے کی۔
پہلے ملبوسات قصیم اور الاحساء کے خطے سے متاثر ہو کر بنائے گئے اور انہیں ایسا ڈیزائن کیا گیا کہ لوگ کھجور کے درخت سے کھجور توڑ رہے ہیں اور انہیں مختلف طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس بارے میں البطحا نے کہا کہ ’یہ بنیادی طور پر ایک کہانی ہے۔‘
دوسرے ملبوسات میں ایسے ڈیزائن اور رنگوں کو استعمال کرتے ہوئے نقش و نگار کے ذریعے جنوبی علاقوں کی نمائندگی کی گئی جن کے پسِ منظر میں خوبصورت ہرے پہاڑ اور رنگا رنگ تعمیر دکھائی گئی۔
نیلے ملبوسات جدہ اور مشرقی صوبے کے ساحلی علاقوں سے متاثر ہیں جن کے بارے میں البطحا نے کہا کہ ’یہ ڈیزائن میں بھی بہتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

دیگر دو لباس وسطی نجد کے علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ڈیزائنر نے اس بارے میں کہا کہ گہرا سبز لباس جس میں پروں جیسی آستینیں ہیں اور دوسرا سفید لباس، دونوں کھجور کی لڑی سے مشابہت رکھتے ہیں۔
’ہیرو پِیس‘ جو کے ایک شاندار گاؤن ہے، جو سعودی عرب کے تمام علاقوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ گاؤن نجد سے آغاز کرتے ہوئے دیگر خطوں میں چلا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’آخری لباس میں سعودی قوم کے ہر ثقافتی اور ورثے کے پہلو کو شامل کیا گیا ہے جو کے ہمیں ہیڈ سکارف سے جوڑتا ہے جس پر شاہ عبدالعزیز کا ایک قول لکھا گیا ہے کہ ’ہم توحید کے کلمے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور اسی طرح ہمارے دل اور زمین بھی متحد ہیں جو خطے کی یکجہتی دکھاتا ہے۔
‘البطحا نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب ورثے سے بھرپور ہے لہذا ہمارے بہت سے ڈیزائنر عالمی مارکیٹ میں اپنی شناخت بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور سعودی عرب کی خوبصورتی کو سامنے لا رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب میں ہر ڈیزائنر نئی فیلڈ میں راہ بنا رہے ہیں اور اس کام میں مزید جوش اور تخلیقی پہلو کو شامل کر رہے ہیں۔‘

مثال کے طور پر ’اے ایس ایل لائن‘ کو صحرا میں ملنے والے لیونڈر سے متاثر ہو کر بنایا گیا۔ اس پودے کی روح کو سلائی اور رنگ برنگے موٹفس کے ذریعے کہانی میں تبدیل کیا گیا۔
برینڈ کی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ہم کسی دُور کی چیز سے متاثر نہیں ہوتے، ہم اس سلسلے کے لیے اپنی سرزمین کی جانب دیکھتے ہیں۔‘
ایم ڈی 29 نامی ایک اور برینڈ جسے فیشن کمیشن کا تعاون حاصل ہے وہ سعودی عرب کی مہمان نوازی سے متاثر ہو کر بنایا گیا جس کا مرکزی عنصر سعودی کافی رہی اور جسے تازہ کلیکشن میں شامل کیا گیا ہے۔
برینڈ کی بانی منال الداؤد نے اس بارے میں کہا کہ فیبرک کو بنانے کی تکنیک کے ذریعے کلیکشن میں استعمال ہونے والے پرنٹ کافی بِینز کے اس سفر کو دکھاتے ہیں جس میں انہیں زمین میں بویا جاتا ہے اور پھر اس کو پیسا جاتا ہے۔

سعودی ڈیزائنر عمار العمدار نے کہا کہ ’ہم اس وقت تمام خطوں میں سعودی ڈیزائن میں شناخت اور کلچر پر توجہ دے رہے ہیں اور یہ ایک خوبصورت چیز ہے لیکن اس مرحلے میں سب سے زیادہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ ماضی میں جب وہ ہمارے ملبوسات بنا رہے تھے اور یہ روایتی ڈیزائن زیب تن کر رہے تھے تو اسے جدت سمجھا جاتا تھا۔ یہی نیا انداز تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب ہمارے کپڑے بنانے میں وقفہ آیا تو ہمارا ماضی ورثہ بن گیا لیکن ورثے کو محفوظ رکھنا چاہیے اور اگر کچھ بھی نیا آئے تو ہمیں نیا ورثہ تخلیق کرنا چاہیے اور ماضی کی نقل نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے نئے ڈیزائنرز پر تنقید کی جو روایتی ملبوسات کو نئے اور غیر روایتی ڈیزائن میں بطور ڈیکوریشن استعمال کر رہے ہیں۔

عمار العمدار نے کہا کہ ’مثال کے طور پر جو بدترین چیز ہے وہ یہ ہے کہ شیماغ جیسی چیز کو پینٹ بنا دینا یا اغل لینا اور اس کو بیلٹ بنا دینا۔ یہ مکسنگ اور کراسنگ غلط ہے۔ پہلے جب کچھ سر کے لیے ڈیزائن کیا جاتا تھا تو اس کا ایک مقصد ہوتا تھا۔ وہ ڈیکوریشن کے لیے نہیں ہوتا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں نئے راستے اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا تھا۔ اگر ڈیزائن کو کسی کی جگہ بدلنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ اصلی سعودی ڈیزائن کو غلط استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ ورثے کو کسی مقصد کے لیے بنایا جاتا ہے اور اگر آپ اس میں کچھ ایجاد کرنا چاہتے ہیں تو اس کا کوئی مقصد لازمی ہونا چاہیے۔‘