مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اجلاس، پاکستانی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع سعودی عرب پہنچ گئے
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت آج ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے پیر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے پہلے مدینہ میں روضۂ رسول پر حاضری دی۔
بعد ازاں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ریاض روانہ ہو گئے، جہاں وہ سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں ان کے ہمراہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہوں گے، جبکہ سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے اعلیٰ نمائندے بھی اجلاس میں موجود ہوں گے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ تینوں ممالک نے سات اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور تینوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔
یہ اجلاس یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ کی جانب سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی کے اعلان کے ایک روز بعد ہو رہا ہے۔
اجلاس میں حالیہ حوثی حملوں کے بعد ان کے ساتھ سفارتی رابطے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔ پاکستان کے مطابق ایران نے حوثیوں کے ساتھ سفارتی طور پر بات چیت کی تجویز دی ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر معاہدے کی سٹریٹیجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں خطے کی حالیہ صورتحال اور اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوششوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا جس میں تینوں ممالک نے اپنے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ اجتماعی دفاعی وعدوں کی قابلِ اعتماد حیثیت اور مؤثریت کو مضبوط بنایا جا سکے۔