سہ فریقی مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، نئے شراکت داروں کے لیے کھلا ہے: پاکستان
سہ فریقی مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے، نئے شراکت داروں کے لیے کھلا ہے: پاکستان
بدھ 16 ستمبر 2026 9:16
تینوں ممالک پہلے ہی سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے جس میں دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر گذشتہ ماہ دستخط ہوئے تھے اور یہ تینوں ممالک کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ کسی ایک پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا، لیکن اسلام آباد نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس ذمہ داری کو کس طرح عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ یہ سوال اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جب ایران سے منسلک حوثی گروہ سعودی عرب پر حملے تیز کر رہے ہیں اور پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے العربیہ انگلش کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’اس میں کوئی جارحانہ یا حملہ آور عنصر شامل نہیں ہے۔ یہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔‘
انہوں نے کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے دہائیوں پرانے سٹریٹجک تعلقات کو باضابطہ شکل دیتا ہے اور ’اجتماعی دفاع‘ پر مبنی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر کسی رکن ملک پر حملہ ہوا تو پاکستان کس طرح ردعمل دے گا، تو انہوں نے تفصیلات دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ’دفاعی وعدوں کو عملی شکل دینے کا طریقہ کار عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو کسی جارحیت کے خلاف کس طرح دفاع کرنا ہے، یہ ہمیشہ آپریشنل درجہ بندی اور سکیورٹی کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ تینوں ممالک کا معاملہ ہے اور وہی اس کو جانتے اور عملی جامہ پہناتے ہیں۔‘
یہ معاہدہ 7 اگست کو مکہ میں ہوا، جب خطے میں امریکہ-ایران جنگ کے باعث کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ اس کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یمن میں حوثی فورسز نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں اور باب المندب کی سٹریٹجک آبنائے میں جہاز رانی کو خطرہ لاحق کر دیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ فی الحال توسیع ’ایجنڈے پر نہیں (فوٹو: اے ایف پی)
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اتحاد بالآخر اپنے تین بانی ارکان سے آگے بڑھ سکتا ہے، تاہم کہا کہ اس کا فیصلہ ان کی سیاسی اور فوجی قیادت پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ معاہدہ اور اتحاد ہمیشہ نئے شراکت داروں کو شامل کر سکتا ہے جو علاقائی امن، استحکام اور سلامتی پر یقین رکھتے ہوں اور جن کا غیر جارحیت، غیر مداخلت اور اجتماعی دفاع کا مشترکہ وژن ہو۔‘
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ فی الحال توسیع ’ایجنڈے پر نہیں‘ کیونکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو پہلے اس نئے گروپ کو مستحکم کرنا ہے، لیکن بعد میں اسے ان ممالک کے لیے کھولا جا سکتا ہے جن کے موقف اور سکیورٹی تقاضے یکساں ہوں۔
تینوں ممالک پہلے ہی سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں، جس کی ابتدائی سربراہی ایک پاکستانی سیکریٹری جنرل کریں گے، اور مشترکہ سرگرمیوں، دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے فوجی تعاون کو گہرا کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ یہ معاہدہ ایک وسیع اسلامی فوجی بلاک بنانے کے لیے ہے اور کہا کہ ’اس معاہدے میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ یہ ایک مسلم اتحاد ہے۔ یہ کوئی ایسا کلب نہیں ہے جو صرف مسلم ممالک کے لیے بنایا جا رہا ہو۔‘
پاکستان نے کوشش کی ہے کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے (فوٹو: آئی ایس پی آر)
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اتحاد پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی پیچیدہ نہیں کرتا، اور دلیل دی کہ اسلام آباد کے انفرادی ممالک کے ساتھ تعلقات دوسروں کی قیمت پر نہیں ہوتے۔
پاکستان نے کوشش کی ہے کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے اور ساتھ ہی سعودی عرب کے ساتھ قریبی سٹریٹجک تعلقات قائم رکھے ہیں اور حالیہ حوثی حملوں کی مذمت کی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات اسے ’امن کا غیر جانبدار ثالث اور ایک ایماندار ثالث‘ بناتے ہیں، لیکن انہوں نے ثالثی کی کوششوں میں پیش رفت پر بات کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ غیر جانبداری کے لیے ضروری ہے کہ اسلام آباد عوامی سطح پر مذاکرات کی تفصیلات بیان نہ کرے۔