’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ خطے کے کسی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار
کئی برسوں تک جاری رہنے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پایا ہے۔ ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزارتِ خارجہ کے انڈر سیکرٹری، ایمبیسیڈر ڈاکٹر رائد قرملی نے کہا ہے کہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط گہرے تاریخی اور سٹریٹیجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور کئی برسوں تک جاری رہنے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔‘
ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لکھا ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں بانی ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، دفاعی تیاری بڑھانے کے ساتھ سٹریٹیجک دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینا اور ان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ملکوں میں سے کسی ایک پر ہونے والے کسی بھی بیرونی حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا معاہدے کا مقصد کسی فوجی اتحاد یا فرقہ وارانہ یا مسلکی بلاک کے قیام کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق جوہری عزائم یا خطے میں اسلحے کی دوڑ سے ہے، بلکہ اس کا مقصد پائیدار خود انحصار صلاحیتوں کی ترقی ہے۔
ڈاکٹر رائد قرملی نے کہا ’یہ معاہدہ خلیجی، عرب اور بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کے مضبوط اور سٹریٹیجک تعلقات کی قیمت پر نہیں ہے۔ یہ خطے کے کسی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور نہ کسی دو ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔‘

انہوں نے کہا’ یہ معاہدہ ان ممالک کے درمیان یا دیگر ممالک اور تنظیموں کے ساتھ موجود کسی دوطرفہ یا کثیر الجہتی معاہدے کو منسوخ کرتا ہے اور نہ اس کی جگہ لیتا ہے۔‘
یاد رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے جمعے کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک کے تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت، مشترکہ تزویراتی مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان، صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا، کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ بازدار قوت کو مؤثر بنانا اور خطے سمیت دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
