Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی مڈ ٹرم انتخابات سے قبل بڑا پالیسی یوٹرن، ٹرمپ کا پوتن سے ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ حیران کن اعلان ان کے اس پابندیوں کے قانون کے برعکس ہے جو انہوں نے حال ہی میں منظور کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل حاصل کرنے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ پیش رفت یوکرین جنگ کی وجہ سے ماسکو پر برسوں سے قائم امریکی معاشی دباؤ کی پالیسی میں ایک بڑا یو ٹرن ہے جس کا مقصد امریکی مڈ ٹرم انتخابات سے قبل ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات چیت ہوئی۔ بنیادی طور پر یہ کال روس میں طاعون کے مشتبہ کیس پر بات کرنے کے لیے تھی، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ روس فوری طور پر امریکہ اور عالمی مارکیٹ کو تین لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا۔ اس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور جلد ہی مزید لاکھوں ٹن ڈیزل بھیجا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ حیران کن اعلان ان کے اس پابندیوں کے قانون کے برعکس ہے جو انہوں نے حال ہی میں منظور کیا تھا تاکہ روس کی تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کو روکا جا سکے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے بیان میں فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے یہ ہمارے مضبوط شراکت داروں کا ایک کمزور فیصلہ ہے۔‘
معاہدے کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر میامی میں یوکرینی حکام سے جنگ بندی کی تجاویز پر بات کر رہے تھے۔
صدر زیلنسکی نے تشویش ظاہر کی کہ ان کی ٹیم کو محض ایک پردے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چَک شومر، سینیٹر جین شاہین اور سینیٹر الیزبتھ وارن نے مشترکہ بیان میں اسے یوکرین، یورپی اتحادیوں اور امریکی قومی سلامتی کے ساتھ خیانت قرار دیا۔
سینیٹرز کا کہنا تھا کہ صدر کو روس کی جنگی مشین کی مالی امداد کے بجائے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنا چاہیے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ روس کے ہاتھ مضبوط کرے گا تاکہ وہ طویل جنگ لڑے (فوٹو: اے ایف پی)

وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ اس ڈیزل کی ادائیگی کون کرے گا۔
دوسری جانب کریملن نے تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں نے یوکرین بحران، ایران کی صورتِ حال اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس عالمی مارکیٹ کو تیل اور پٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جس کے عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
تاہم روسی معاون یوری اوشاکوف نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا امریکہ نے اس کے بدلے روس کو کوئی مراعات دی ہیں یا نہیں۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ روس کے ہاتھ مضبوط کرے گا تاکہ وہ طویل جنگ لڑے۔
سینیٹر رچرڈ بلومنتھل نے کہا کہ یہ قدم امریکہ کو صدر پوتن کی جنگ میں شریکِ جرم بناتا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا (فوٹو: اے ایف پی)

معاہدے کے فوراً بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا کہ روسی ڈیزل کی عالمی ترسیل کے لیے اپریل 2027 تک کا عارضی لائسنس جاری کیا جا رہا ہے جس کے تحت فی الحال امریکی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔
توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ البتہ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق اس کا سب سے بڑا فائدہ روس کو ہو گا کیونکہ اسے سردیوں سے پہلے اپنا گرمائی ڈیزل مارکیٹ میں نکالنا تھا۔
یوکرینی حملوں کے باعث اپنی ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے روس نے جولائی سے ڈیزل برآمدات پر پابندی لگا رکھی تھی، تاہم اب روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے تصدیق کی ہے کہ یہ پابندیاں وقت سے پہلے ختم کی جا رہی ہیں۔

 

شیئر: