Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر پوتن سے امریکی نمائندوں کی ملاقات، یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے تجاویز پر تبادلہ خیال

سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ہفتے کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی (فوٹو: روئٹرز)
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی ایلچیوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے آئندہ اقدامات سے متعلق ’ٹھوس منصوبوں‘ پر بات چیت کی ہے۔ ملاقات کے بعد امریکی ایلچی اتوار کو کیف روانہ ہوگئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروباری ساتھی سٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر روسی دارالحکومت ماسکو پہنچے تھے، جہاں ان کا مقصد یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی بدترین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرنا تھا۔
یہ جنگ سال 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ رواں موسمِ گرما میں دونوں جانب سے شہریوں کی ہلاکتوں میں ڈرامائی اضافے کے باعث جنگ مزید شدت اختیار کر گئی۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ہفتے کے روز پوتن سے ملاقات کی تاکہ ’روس، یوکرین جنگ میں صدر ٹرمپ کے امن ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’دونوں فریقوں نے آئندہ اقدامات کے حوالے سے ٹھوس منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا، جن کا اعلان آنے والے ہفتوں میں کیا جائے گا، اور وہ کل یوکرین میں بھی اسی طرز کی نتیجہ خیز ملاقاتوں کے منتظر ہیں۔‘
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے مذاکرات کو ’انتہائی واضح اور دوٹوک‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فریق نے ’جنگ کے تصفیے کے ممکنہ راستوں سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں‘، تاہم انہوں نے ان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
یوری اوشاکوف کے مطابق روسی فریق نے امریکی ایلچیوں کو بتایا کہ ماسکو کو ’یقین‘ ہے کہ وہ مشرقی یوکرین کے باقی ماندہ علاقوں پر قبضہ کرنے سمیت اپنے فوجی اہداف حاصل کر سکتا ہے۔
روس اور یوکرین دونوں نے مذاکرات کے لیے تین دن تک ایک دوسرے کے دارالحکومتوں پر حملے نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف جنگ شروع ہونے کے بعد آٹھویں مرتبہ ماسکو گئے تھے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچیں گے، جسے جنگ کے دوران روس کی جانب سے مسلسل مہلک حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
 

روسی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا (فوٹو:  گیٹی)

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ انہیں امریکی ایلچیوں کی اتوار کو آمد کی توقع ہے۔
پوتن کا ٹرمپ سے اظہارِ تشکر
پوتن نے مذاکرات سے قبل ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا کہ روس کیف میں امریکی ایلچیوں کی سلامتی یقینی بنائے گا، حالانکہ ماسکو نے جنگ کے دوران اس شہر پر مسلسل مہلک حملے کیے ہیں۔
اس سے قبل ہفتے کے روز پوتن نے جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا تھا، حالانکہ ان کے بقول یہ کام ’آسان نہیں‘ ہے۔
محدود جنگ بندی
مذاکرات کے دوران ماسکو اور کیف دونوں نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’روسی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے حکم دیا ہے کہ آدھی رات سے تین دن تک کیف پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔‘
زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے امریکی ایلچیوں سے بات کی ہے اور یوکرین کی جانب سے بھی ماسکو پر حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اب سے ہفتے کے اختتام تک، اور اتوار اور پیر کے روز بھی، یوکرین ماسکو پر حملے نہ کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
ہفتے کے روز پوتن نے کہا کہ انہوں نے ’نوٹ کیا ہے کہ یوکرینی فریق نے روس اور ماسکو پر اپنے حملوں میں نمایاں کمی کی ہے۔‘
تاہم کیف کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز روسی حملوں میں ملک بھر میں 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک بچہ اور اس کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے جو خارکیف کے علاقے میں مارے گئے، جبکہ کیف کے نواح میں بھی دو افراد ہلاک ہوئے۔
زیلنسکی نے ماسکو پر الزام عائد کیا کہ اس نے رات بھر کیف کے دو ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر امریکی ایلچیوں کے دورے کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔

شیئر: